حقوق ملنے سے حالات بہتر ہو نگے ، ہمیں اخلاقیات کادامن نہیں چھوڑنا چاہیے :آل پارٹیز کانفرنس

حقوق ملنے سے حالات بہتر ہو نگے ، ہمیں اخلاقیات کادامن نہیں چھوڑنا چاہیے :آل ...

  

   لاہور( نمائندہ خصوصی/نامہ نگار) لاہور ہائی کورٹ بار کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں منعقد ہونے والی اے پی سی خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے چیئر مین اور سینٹ میں قائد اےوان راجہ ظفرالحق نے کہا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ بار کو ےہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے آج ےہاں پر سب جماعتوں کو اکھٹا کیا ہے بار کا ہمیشہ سے ملکی سیاست میں ایک اہم کردار رہا ہے اور میں خود بھی ایک وکیل ہوں پہلے لاہور سے وکالت کی پھر راولپنڈی شفٹ ہو گیا میں ےہ سمجھتا ہوں کہ اس وقت سب سے زےادہ ضرورت معاشی حقوق کی ہے معاشی حقوق سب کو ملیں گے تو تب ہی حالات میں بہتری آئے گی آج بڑے بڑے سرمایہ داروں کے علاوہ کوئی بھی الیکشن نہیں لڑ سکتا دوسری بات ہم سب میں برادشت کی کمی ہے اور اخلاقیات کو بھی ہم چھوڑتے چلے جا رہے ہیں اگر دیکھا جائے تو اس وقت سب سے زےادہ اخلاقیات کا مظاہرہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے دکھایا ہے ۔تحریک انصاف کے وائس چیرمین مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ واضح کردوں کہ پی ٹی آئی آئین اور جمہوریت کی بالادستی چاہتی ہے ہم آئین و قانون کے خلاف کوئی بھی کام نہیں کریں گے ہمیں کہا گیا کہ ہم کسی کے اشاروں پر دھرنے اور مارچ کررہے ہیں کبھی ہمیں فوج کے ساتھ جوڑا گیا تو کبھی کہا گیا کہ ہم آئی ایس آئی کے کہنے پر کررہے ہیں لیکن اب تو آئی ایس آئی کی قیادت بھی تبدیل ہو چکی ہے ۔ پیپلز پارٹی کے سینٹر رحمان ملک نے اپیل کی کہ عید سے پہلے پہلے دھرنے کو اگر ختم نہیں کیا جا سکتا تو پھر اسے معطل کردیا جائے اور دھرنے کے شرکاءکو عید گھر گذارنے کے لئے جانے دیا جائے میں نے بھیس بدل کر دھرنے کے خیموں کا دورہ کیا ہے وہ سب لوگ اپنے گھروں میں عید منانے کے لئے جانا چاہتے ہیں لیکن انہیں جانے نہیں دیا جا رہا ہے سیاسی جرگے نے تینوں فریقین کو مذاکرت کی میز پر لا کر بھٹا دیا تھا جس کے لئے وزیراعظم اور دونوں فریقین نے بھی ہمیں اچھا رسپانس دیا ہے ۔ایم کیو ایم کے رہنما حیدر عباس رضوی نے کہا کہ اصل میں نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے صرف دو فیصد طبقہ ہر مرتبہ ہر الیکشن میں آٹھانوے فیصد عوام سے ووٹ لیتا ہے ایک طرف کا دو فیصد طبقہ ووٹ لینے والا ہے تو دوسری طرف آٹھانوے فیصد والا طبقہ ووٹ دینے والا ہے اگر ایسے ہی چلتا رہاتو پھر ماجھا اور گاما کیسے اسمبلی پہنچے گا ایک الیکشن کے لئے دس کروڑ روپے چاہئے جو غریب کہاں سے لیکر آئے گا اگر غریب الیکشن پر کھڑا ہو بھی جائے تو اسے کہا جاتا ہے کہ تم اپنی حالت نہیں بدل سکے تو ہمارے لئے کیا کرو گے سرمایہ داروں اور جاگیر داروں نے الیکشن کے عمل کو ےر غمال بنا رکھا ہے ۔

اے پی سی

مزید :

صفحہ اول -