اراکین اسمبلی کے کاغذات کی آرٹیکل 62اور 63کی روشنی میں دوبارہ جانچ پڑتال کیلئے وفاقی حکومت اورالیکشن کمیشن کونوٹس جاری

اراکین اسمبلی کے کاغذات کی آرٹیکل 62اور 63کی روشنی میں دوبارہ جانچ پڑتال کیلئے ...

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کی جائزہ رپورٹ کی روشنی میں اراکین اسمبلی کے کاغذات کی آئین کے آرٹیکل 62اور 63کی رشنی میں دوبارہ جانچ پڑتال کے لئے درخواست کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت اورالیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک نے درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ اس درخواست میں اہم نکات اٹھائے گئے ہیں جو قابل سماعت ہیں، عدالت نے وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس درخواست کے نکات میں اپنا تحریری جواب عدالت میں جمع کرائیں، تحریک انصاف کے کارکن جاوید بدر نے موقف اختیار کیا ہے کہ الیکشن کمیشن جائزہ رپورٹ میں ثابت ہو چکا ہے کہ عام انتخابات کے دوران امیدواروں کے کاغذات نامزدگی ٹھیک طریقے سے جانچ پڑتال نہیں ہو سکی، الیکشن کمیش کی جائزہ رپورٹ کی روشنی میں عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 5کے تحت الیکشن کمیشن کسی بھی وقت اراکین اسمبلی کے کاغذات کا دوبارہ جائزہ لے سکتا ہے، درخواست گزار کے مطابق انتخابی قواعد و ضوابط کے مطابق الیکشن کمیشن کسی بھی مرحلے پر اراکین اسمبلی کے کاغذات کی جانچ پڑتال کرسکتا ہے جبکہ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں الیکشن کمیشن نے دوہری شہریت کیس میں اراکین اسمبلی سے نئے حلف نامے طلب کئے تھے،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ہائیکورٹ اراکین اسمبلی کے کاغذات کی دوبارہ جانچ پڑتال کا حکم دے۔

؎

مزید :

صفحہ آخر -