پردہ اٹھ ہی گیا، منصوبہ بھی ظاہر کر دیا گیا

پردہ اٹھ ہی گیا، منصوبہ بھی ظاہر کر دیا گیا
پردہ اٹھ ہی گیا، منصوبہ بھی ظاہر کر دیا گیا

  

تجزیہ چودھری خادم حسین

یہ پردہ کب تک رہتا، ایک روز پردہ اٹھ جائے تو بھید کھل ہی جاتا ہے اور اب یہی ہوا، سابق صدر اور آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف نے تازہ ترین انٹرویو میں راز فاش کر دیا اور منصوبے کی تفصیل اپنے انداز میں بتا اور سمجھا دی۔ ان سطور میں ایک سے زیادہ مرتبہ نشاندہی کی گئی تھی کہ یہ سب انہی کے لئے ہے اور سکرپٹ بھی ان کے حوالے سے ہے اور ڈائریکٹر بھی کوئی ان کا چہیتا ہے، اب انہوں نے واضح طور پر وہ بات کہہ دی جو شیخ رشید کہتے آئے، جسے عمران خان نے بیان کیا اور ڈاکٹر طاہر القادری نے دھرنے میں شریک اپنے حامیوں کو آس دلائی۔پرویز مشرف کہتے ہیں، میرا عمران خان اور طاہرالقادری سے کوئی تعلق نہیں لیکن بات وہ ٹھیک کرتے ہیں کہ ان کے دھرنوں کی وجہ سے عدلیہ اور فوج کے تعاون سے ملک میں ٹیکنوکریٹ عبوری حکومت آئے گی جو حالات کو ٹھیک کرے گی۔ محترم! عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری بھی تو ایسے ہی منصوبے اور پروگرام بتاتے ہیں، بہرحال اس کا پہلا مرحلہ تو بخیرو خوبی ناکام ہوا اور بات آگے بڑھ گئی۔اب تو خود قائدین سمیت ہر ایک نے عملاً تسلیم کرلیا کہ دھرنے ناکام ہو چکے،عمران خان اسلام آباد سے نکل کر جلسے شروع کر چکے اور ڈاکٹر طاہرالقادری ڈرا رہے ہیں، وہ کہتے ہیں ملک کے چاروں صوبوں کے ہر ضلع میں دھرنا ہوگا اور میں خود وہاں جاﺅں گا(اسلام آباد چھوڑ کر) اس سے پہلے وہ جلسوں کا بھی اعلان کر چکے۔عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری لوگوں کا کب تک امتحان لیں گے جو حکومت کی ناقص کارکردگی اور خود کو درپیش مسائل کے ستائے ہوئے ہیں۔

تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ امیر قطر نے بھی پاکستان کے دورہ کا پروگرام ختم کر دیا ہے اور وہ بھی نہیں آ رہے۔ اب تو عام لوگ بھی پوچھتے ہیں کہ اگر ہر دو راہنماﺅں کو عوام سے ہمدردی ہے تو یہ ان کے مسائل پر بات کرکے ان کو حل کرنے کی بجائے مسائل میں اضافے پر کیوں کمربستہ ہیں۔عوام چاہتے ہین، حکمران اور دھرنے والے اپنی اپنی ضد چھوڑ دیں اور عوام کی بہبود کی خاطر صلح کرلیں، معاہدہ کرلیں تاکہ حقیقی اصلاحات ہو جائیں۔

قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ سے ہمدردی کرنے کو جی چاہتا ہے۔وہ خود کہتے ہیں کہ کم بولنا اچھا ہوتا ہے لیکن عملی طور پر وہ زیادہ ہی بولنے لگے ہیں، حالانکہ ایسا وہ نجی محافل میں کرتے تھے۔ اب ان کو اپنے شہر سکھر میں بولنا مہنگا پڑ گیا کہ جو بات انہوں نے کہی وہ صرف دو ایک نامہ نگاروں ہی کے پلے پڑی باقی سب نے ان کے ساتھ یہ بیان منسوب کر دیا کہ وزیراعظم وسط مدتی انتخابات کا اعلان کردیں، حالانکہ انہوں نے کہا ”دھمکیوں سے وسط مدتی انتخابات پر مجبور نہیں کیا جا سکتا اور پیپلزپارٹی ایسے کسی عمل کی حمائت نہیں کرے گی“۔ اس کے بعد انہوں نے وضاحت بھی کر دی کہ وہ پارٹی کے ساتھ ساتھ ذاتی طور پر بھی پسند نہیں کرتے کہ کوئی گن پوائنٹ پر مجبور کرے۔ یہ الگ بات ہے کہ ایسے حالات پیدا ہوں کہ وزیراعظم خود مڈٹرم انتخابات کا اعلان کر دیں۔

سید خورشید شاہ اب پچھتا اور وضاحتیں کررہے ہیں کہ انہوں نے جو کہا وہ شائع نہیں ہوا، یہ بات بہرحال ایک اردو اور ایک انگریزی اخبار میں اسی انداز میں شائع ہو چکی ہے جیسے خورشید شاہ نے کہی اس سے غلط فہمی دور ہو جانا چاہیے۔

اس خبر کو بنیاد بنا کر بہت تبصرے اور تجزیئے ہوئے کہ آئندہ سال انتخابات ہوں گے اور اب تحریک انصاف کے جلسے، پیپلزپارٹی کے میدان عمل میں آنے، جماعت اسلامی کی طرف سے تحریک شروع کرنے کے اعلان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے تازہ ترین بیانات اسی سلسلے کی کڑی ہیں اور یہ سب ممکن ہے۔

یہ سب اپنی جگہ، اگر ذرا ٹھنڈے دل سے سوچا جائے تو یہی احساس ابھرتا ہے کہ انتخابات ہوں یا نہ ہوں، یہ امر عجیب ہے کہ دباﺅ کے تحت حکومت کو مستعفی ہونے، اسمبلیاں تحلیل اور نئے انتخابات کی بات منوائی جائے، جبکہ آئین اور قوانین موجود ہیں جن کے ذریعے تبدیلی کا ایک طریقہ متعین ہے، اگر دھرنے والوں کی بات سچ ہو جائے تو نیا الیکشن کمیشن، انتخابی اصلاحات اور نیا نظام کیسے اور کس آئین اور قانون کے تحت آئے گا اور لانے والے کون ہوں گے کیا یہ سب آئینی طورپر ممکن ہے، اس کا جواب پہلے ہی تمام طبقات کی طرف سے نفی میں آ چکا، لیکن ”بھوت“ پیچھا نہیں چھوڑتا۔

پردہ اٹھ ہی گیا

مزید :

تجزیہ -