بھارتی آبی جارحیت کی وجہ سے پاکستان کو مصنوعی سیلاب کا سامنا کرنا پڑا،حافظ سعید

بھارتی آبی جارحیت کی وجہ سے پاکستان کو مصنوعی سیلاب کا سامنا کرنا پڑا،حافظ ...

  

                            فیصل آباد(بیورورپورٹ)امیر جماعةالدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمدسعید نے کہا ہے کہ بھارتی آبی جارحیت کی وجہ سے پاکستان کومصنوعی سیلاب کا سامنا کرنا پڑا۔ اگر اسے روکانہ گیا تو آنے والے برسوںمیں حالات اور زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔بھارت پاکستانی دریاﺅں پر ڈیموں کی تعمیر کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے جس کی وجہ سے زراعت تباہ اوربجلی کا بحران بھی پیدا ہور ہاہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم کو متحد و بیدار کیا جائے اور حکومت پر دباﺅ بڑھایا جائے کہ وہ اس مسئلہ کو قومی سطح پر اجاگر کریں۔بھارتی آبی دہشت گردی جیسے مسائل پر قومی سوچ پیدا کرنے اور میڈیا کے ذریعے لوگوںمیں شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔جماعةالدعوة عید الاضحی کے موقع پر سیلاب متاثرہ علاقوںمیں ہزاروںجانور قربان کرے گی۔ پنجاب اور آزاد کشمیرکے لاکھوں سیلاب متاثرین میں قربانی کا گوشت تقسیم کیاجائے گا۔ سیلاب زدگان اورمتاثرین وزیر ستان کیلئے اجتماعی دستر خوان بھی لگائے جائیں گے۔ اسی طرح کشمیری مہاجرین، تھرپارکرسندھ اور بلوچستان سمیت ملک بھر میں غرباءو مساکین میں بھی گوشت تقسیم کیاجائے گا۔ یہ اظہار انہوں نے جڑانوالہ روڈ پر مقامی ہال میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر حافظ عبدالرﺅف چیئرمین فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن پاکستان نے پاکستانی دریاﺅں پر متنازعہ ڈیموں کی تعمیر، انڈیا کی آبی دہشت گردی اور جماعة الدعوة فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کی امدادی سرگرمیوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی اور امیر جماعة الدعوة فیصل آباد فیاض احمد بھی موجو د تھے۔ حافظ محمد سعید نے کہا کہ اس مرتبہ سیلاب صرف چناب کے اندر آیا ہے۔ ہماچل کے پہاڑی سلسلے سے ایک طرف سے راوی اور دوسری طرف سے چناب آرہا ہے لیکن سیلاب صرف چناب میں آیا ہے۔ حالانکہ بارشیں تو دونوں طرف ہوئی ہیں ، وجہ اس کی یہ ہے کہ انڈیا نے سب سے زیادہ ڈیم چناب پر بنائے ہیں، ان ڈیموں سے 8لاکھ کیوسک پانی چھوڑا گیا اور بارشیں صرف 1لاکھ کیوسک پانی ہوئی ہیں، بغیر اطلاع کے پانی چھوڑا گیا۔پہلے پانی کو سٹور کیا جاتا ہے پھر اسے چھوڑ دیا جاتا ہے یہ انڈیا کی بہت بڑی سازش ہے۔ ایک طرف ملک سیلاب جیسی آفت میں گھرا ہوا ہے اور دوسری طرف دھرنے دئیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میری حریت رہنما علی گیلانی سے فون بات ہوئی ہے وہ بتا رہے تھے کہ پاکستان کی طرح مقبوضہ کشمیر میں سیلاب آیا ہوا ہے۔ ہم سب پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ 12فٹ تک پانی کھڑا ہے ۔ انڈیا نے ڈیم سے بھی خطرناک کام یہ کیا ہے کہ انہون نے ٹنلز بنائے ہیںجن سے مصنوعی طریقوں سے دریاﺅں کا رخ تبدیل کیا جاتا ہے۔ کشمیر کے سارے دریا پاکستان کی طرف آتے ہیں جن کو انڈیا کی طرف موڑا جاتا ہے اور فصلوں کی ضروریات کو پورا کیا جاتا ہے ، جس سے پاکستان کی زمین بنجر ہورہی ہے۔ اگر حکومت نے اس مسئلے کو حل نہ کیا تو آئندہ سالوں میں اس سے بھی زیادہ نقصان ہوگا۔ پاکستان کے اندر 10لاکھ سے زیادہ ٹیوب ویل لگائے گئے ہیںجن سے زمین میں پانی کی سطح کم ہورہی ہے،جس سے ملک بہت بڑی تباہی کی طرف جارہا ہے۔ اگر انڈیا سارے ڈیموں سے پانی چھوڑ دے تو پاکستان کوئی بھی حصہ سیلاب سے محفوظ نہیں ہوگا۔ اس مسئلے میں عوام کے شعور کو بیدار کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں جہاں ہم خشک راشن تقسیم کر رہے ہیں وہیں پر متاثرین کو عید کی خوشیوںمیں شریک کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر جانور قربان کر کے ان میں گوشت بھی تقسیم کیاجائے گا تاکہ ان کی محرومیوں کا ازالہ کیاجاسکے۔ اس سلسلہ میں وسیع پیمانے پر تیاریاں و انتظامات کئے جارہے ہیں۔ بڑے پیمانے پر جانوروں کی خریداری کا عمل جاری ہے۔ رضاکاروں کی طرف سے باقاعدہ سروے کر کے متاثرین میں ٹوکن تقسیم کئے جارہے ہیں تاکہ گوشت کی ترسیل کا عمل منظم انداز میں سرانجام دیا جاسکے۔انہوںنے کہاکہ سیلاب متاثرہ علاقوں کی طرح تھرپارکر سندھ کے قحط زدہ علاقوں ، بلوچستان اور مہاجر کیمپوںمیں بھی جانور قربان کرکے ان میں گوشت تقسیم کیاجائے گا۔ اسی طرح جیلوںمیں قیدیوں کیلئے بھی قربانیاں کی جائیں گی۔ انہوںنے کہاکہ عیدالاضحی کے ایام میں سیلاب زدگان اور وزیرستان متاثرین کیلئے اجتماعی دسترخوان لگائے جائیں گے اور لاکھوں افراد کیلئے خصوصی کھانے کا بندوبست کیاجائے گا۔انہوںنے کہا کہ متاثرین کو عید کی خوشیوں میں شریک کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

مزید :

صفحہ آخر -