خورشید شاہ نے مڈٹرم الیکشن کا مطالبہ کیا نہ کوئی تجویز دی

خورشید شاہ نے مڈٹرم الیکشن کا مطالبہ کیا نہ کوئی تجویز دی
 خورشید شاہ نے مڈٹرم الیکشن کا مطالبہ کیا نہ کوئی تجویز دی

  

تجز یہ: قدرت اللہ چودھری

   سیاست میں نہ دشمنیاں مستقل ہوتی ہیں اور نہ دوستیاں، یہ تو سیاسی تقاضے ہوتے ہیں جو دوستیوں اور دشمنیوں کا تعین کرتے ہیں، اسی سیاست کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے پہلو میں دل نہیں ہوتا، پاکستان کی سیاست میں البتہ کچھ عرصے سے بعض نئے عوامل داخل ہو گئے ہیں، جو سیاسی رہنماﺅں کے بیانات کو من پسند معنی پہناتے اور خواہشات کو خبروں کا روپ دینے کی کوشش کرتے ہیں دھرنوں سے جو سیاست شروع ہوئی تھی اس نے بہت سے تجزیہ نگاروں کی تجزیہ نگاری کا سارا بھرم بھی کھول کر رکھ دیا، وزیر اعظم کے استعفے کے حوالے سے کیسی کیسی بے پرکی نہیں اڑائی گئیں۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے ایوان وزیر اعظم میں وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی تھی۔ یہ ملاقات ابھی جاری تھی یا بمشکل ختم ہوئی تھی کہ کچھ چینلوں نے یہ خبر چلا دی کہ آرمی چیف نے وزیر اعظم کو استعفا دینے یا تین ماہ کی رخصت پر جانے کا مشورہ دیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے فوری طور پر اس کی تردید جاری کر دی ورنہ یار لوگ اس پر نہ جانے کیسے کیسے تبصرے شروع کر دیتے جو تردید کے باوجود ہوتے رہے اور اب بھی ان کی بازگشت کسی نہ کسی انداز میں سنائی دی جاتی ہے۔اس طرح کا تازہ ترین ”حادثہ“ سید خورشید شاہ کے ساتھ ہوا ہے۔ جنہوں نے گزشتہ روز جو کچھ کہا اسے یا تو سمجھا نہیں گیا یا سمجھنے کی کوشش نہیں کی گئی یا پھر جان بوجھ کر اسے من مرضی کے معنی پہنا دیئے گئے، انہوں نے اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ دھمکیاں دیکر ملک میں مڈٹرم انتخابات پر مجبور نہیں کیا جا سکتا اور پیپلزپارٹی اس طرح کے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرتی، انہوں نے کہا کہ اگر کوئی دھمکی آمیز انداز میں مڈٹرم الیکشن کی بات کرتا ہے تو یہ مناسب نہیں ہو گا، میں ذاتی طور پر اس کی تائید نہیں کرتا، تاہم یہ ایک مختلف معاملہ ہو گا کہ ایسی صورتحال پیدا ہو کہ وزیر اعظم نواز شریف خود مڈٹرم الیکشن کرانے کا فیصلہ کرلیں۔اب خورشید شاہ نے جو بات کہی اس سے یہ نتیجہ تو نہیں نکلتا کہ انہوں نے مڈٹرم الیکشن کرانے کا کوئی مطالبہ کر دیا ہے، یا کوئی تجویز پیش کر دی ہے، یا پھر مڈٹرم الیکشن کی حمایت کر دی ہے، انہوں نے تو صاف طور پر کہا کہ مڈٹرم الیکشن کسی کے دباﺅ یا دھمکی پر قبول نہیں، البتہ اگر وزیر اعظم خود(اس سلسلے میں) کوئی فیصلہ کرتے ہیں تو یہ الگ بات ہے، خورشید شاہ کا یہ مطالبہ بھی نہیں ہے کہ مڈٹرم الیکشن کرا دیئے جائیں۔ نہ وہ (یا ان کی پارٹی) اس کی حمایت کر رہے ہیں البتہ ان کا یہ کہنا ہے کہ وزیر اعظم ایسا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔

اب اس سلسلے میں آئینی پوزیشن یہ ہے کہ آئین کے آرٹیکل 58کے تحت نواز شریف کو کسی بھی وقت قومی اسمبلی کی تحلیل کے لئے صدر کو مشورہ دینے کا اختیار حاصل ہے۔ وہ جونہی صدر کو اسمبلی تحلیل کرنے کا مشورہ دیں گے تو یہ مشورہ ملنے کے بعد صدر کے لئے ضروری ہو جائیگا کہ وہ 48گھنٹے کے اندر اندر اس سلسلے میں فیصلہ کریں، اگر صدر اس مدت کے دوران کوئی فیصلہ نہیں کریں گے تو یہ مدت گزرنے کے بعد اسمبلی از خود تحلیل تصور کی جائیگی۔آئین کے آرٹیکل 58میں کہا گیا ہے۔

-1”صدر قومی اسمبلی کو تحلیل کر دے گا، اگر وزیر اعظم کی جانب سے ایسی صلاح دی جاتی ہے اور قومی اسمبلی تاوقتیکہ اس سے پہلے تحلیل نہ ہو جائے وزیر اعظم کے ایسے طور پر صلاح دینے کے 48گھنٹوں کے اختتام پر تحلیل ہو جائیگی۔“

وزیر اعظم کو اسمبلی توڑنے کے لئے صدر کو مشورہ دینے کے لئے کسی قسم کے حالات یا شرائط کاپابند نہیں کیا گیا، گویا وزیر اعظم کا یہ صوابدیدی اختیار ہے کہ وہ جب چاہے صدر کو اسمبلی کی تحلیل کا مشورہ دے دے، خورشید شاہ جب مڈٹرم الیکشن کی بات کر رہے تھے تو ان کے ذہن میں یہی آئینی شق ہو گی۔

ویسے یہاں یہ بتا دینا شاید بے محل نہ ہو کہ مڈٹرم انتخابات کی ترکیب ہمارے ہاں غلط طور پر رائج ہو گئی ہے، یہ اصطلاح بنیادی طور پر امریکہ میں مروج ہے اور ہر دو سال بعد امریکی کانگرس کے سینٹ کے33فیصد ارکان اور ایوان نمائندگان کے تمام کے تمام ارکان کے جو الیکشن ہوتے ہیں انہیں مڈٹرم الیکشن کیا جاتا ہے، چونکہ یہ عین وسطی مدت (دو سال) کے بعد ہوتے ہیں۔ کانگرس کے ایک الیکشن تو وہ ہوتے ہیں جو صدارتی انتخابات کے سال میں صدارتی الیکشن کے ساتھ ہوتے ہیں دو سال بعد ہونے والے الیکشن مڈٹرم انتخابات کہلاتے ہیں۔

پارلیمانی جمہوریتوں میں اگر کوئی پارلیمنٹ اپنی مدت پوری نہ کرے اور اس سے پہلے ہی انتخابات کرائے جائیں تو یہ قبل از وقت انتخابات کہلاتے ہیں، پاکستان میں 88ئ، 90ئ، 93ء اور 97ءمیں ہونے والے قومی اسمبلی کے انتخابات قبل از وقت انتخابات تھے کیونکہ ان اسمبلیوں کو صدارتی حکم کے تحت تحلیل کر دیا گیا تھا، ان تمام صدور نے آئین کے آرٹیکل (2)58بی کے تحت یہ سب اسمبلیاں تحلیل کی تھیں، 88ءمیں جنرل ضیاءالحق، 90ءاور 93ءمیں غلام اسحاق خان اور 96ءمیں فاروق لغاری نے متذکرہ دفعہ کے تحت اسمبلیاں توڑی تھیں، جن کے بعد نئی اسمبلی کے لئے قبل از وقت انتخابات ہوئے، یہ صدارتی اختیار پہلے 97ءمیں وزیر اعظم نواز شریف نے آئین میں تیرہویں ترمیم کے ذریعے ختم کرا دیا تھا، جسے سترہویں ترمیم کے تحت دوبارہ آئین کا حصہ بنا دیا گیا تھا لیکن پیپلزپارٹی 2008ءکے الیکشن میں برسر اقتدار آئی تو اٹھارویں ترمیم کے تحت صدر کا یہ اختیار ایک مرتبہ پھر ختم کر دیا گیا۔ اس وقت آئینی پوزیشن یہ ہے کہ صدر کو اسمبلی توڑنے کا کوئی اختیار نہیں، البتہ وزیر اعظم جب چاہیں ایسا کرنے کا مشورہ دے سکتے ہیں اور اسمبلی کی مدت پوری ہونے سے پہلے ہی نئے انتخابات کا ڈول ڈال سکتے ہیں۔ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ وزیر اعظم کے اسی اختیار کا حوالہ دے رہے ہیں، وہ کہتے ہیں وزیر اعظم خود مڈٹرم انتخابات کا فیصلہ کر لیں تو کر لیں، دباﺅ یا دھمکیوں سے یہ فیصلہ نہیں کرایا جا سکتا۔

اب رہی یہ بات کہ وزیر اعظم ایسا فیصلہ کرتے ہیں یا نہیں کرتے اس کا انحصار حالات پر ہے، آج ہی الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ اگر ووٹنگ مشینوں کے ذریعے الیکشن کرانے ہیں تو یہ دو سال سے پہلے نہیں ہو سکتے گویا ستمبر 2016ءسے پہلے نہیں ہو سکتے، البتہ مروجہ طریقوں کے تحت انتخابات طے شدہ شیڈول کے مطابق (اسمبلی ٹوٹنے کے بعد) کسی بھی وقت ہو سکتے ہیں لیکن پھر ان انتخابی اصلاحات کا کیا بنے گا جن کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، میرا خیال ہے اگر وزیر اعظم انتخابات کرانے کا اعلان کر دیں تو پھر کسی کو انتخابی اصلاحات کا ہوش ہی نہیں رہے گا،سارے لوگ اور ساری جماعتیں انہی قوانین کے تحت اسی طرح انتخابات میں جانے کے لئے تیار ہو جائیں گی۔ نہ کوئی انتخابی اصلاحات کا مطالبہ کرے گا نہ کسی کو یہ یاد ہو گا کہ 2014ءکے انتخابات میں کہاں کہاں دھاندلی ہوئی تھی۔ کیونکہ دھرنوں کا مقصد وحید تو وزیر اعظم کا استعفا تھا، وہ نہیں آیا تو باقی مطالبوں سے دھرنے والوں کو کیا سروکار؟ اور انہیں تو بالکل بھی نہیں جو چاہتے تھے کہ جو کچھ بھی ہو بس نواز شریف کی حکومت نہ رہے۔

خورشید شاہ

مزید :

تجزیہ -