این ڈی ایم اے اور فلڈ کمیشن کے باہمی رابطوں میں فقدان اور کارگردگی پر سینٹ کمیٹی کے شدید تحفظات

این ڈی ایم اے اور فلڈ کمیشن کے باہمی رابطوں میں فقدان اور کارگردگی پر سینٹ ...

  

          اسلام آباد ( آئی این پی ) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے سرکاری اداروں ایرا ، این ڈی ایم اے اور فلڈ کمیشن کے درمیان باہمی رابطوں میں فقدان اور ان کی کار کردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہی ہے،بارش اور دھوپ کے بارے میں کئی ہفتے قبل آگاہی حاصل کی جاسکتی ہے لیکن پاکستان میں 2005 کے زلزلے2010 کی سیلاب کے بعد حالیہ سیلاب سے سرکاری اداروں نے سبق حاصل نہیں کیا ۔سرکاری اداروں کے پاس کوئی منصوبہ بندی موجود نہیں سیلاب اور زلزلہ میں افواج پاکستان کی کشتیاں اور ہیلی کاپٹر استعمال کئے جاتے ہیں اور متاثرین کی امداد بھی فوج ہی کرتی ہے، بدھ کوکمیٹی کااجلاس چیئرپرسن سینیٹر کلثوم پروین کی صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا ۔چیئرپرسن نے اجلاس میں فلڈ کمیشن ، ایرا، اور این ڈی ایم اے کے ذمہ داروں کی طرف سے سیلاب کی پیشن گوئی ، پیش بندی و منصوبہ بندی کے حوالے سے ادارے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالتے رہے جس پر اراکین کمیٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ادارے اپنی ذمہ داریوں سے جان نہ چھڑائیں ۔کمیٹی کے اجلاس میں فلڈ کمیشن کے چیئرمین اسجد امتیازعلی نے انکشاف کیا کہ ادارے میں صرف آٹھ افسران سٹاف کے ساتھ کام کرتے ہیں ادارے نے حکومت کو 24 ارب روپے کے فنڈز کی درخواست کی لیکن صرف اڑھائی ارب جاری کئے گئے اور کہا کہ ادارے کو بڑے چیلنجز ہیں جن میں سٹاف کی کمی کے علاوہ سب سے بڑا مسئلہ دریائی علاقوں میں بڑھتی ہوئی آبادیاں ہیں جہاں ڈیرے تھانے اور سکول بھی بن چکے ہیں دریائی علاقوں میں آبادی کی تعداد 7 لاکھ سے زائد ہو چکی ہے شاہدرہ ، شیر شاہ اور شیر محمد والا ریلوے پل انتہائی کمزور ہیں حکومت پنجاب نے بیراجوں کو بچانے کےلئے بند توڑے جس کے نتیجے میں مظفر گڑھ اور ملتان میں آبادیا ں زیر آب آئیں ۔سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ لوگ سیلاب میں ڈو ے ہوئے ہیں اور لاکھوں ایکٹر فصلیں تباہ ہو گئیں ہیں اور اسلام آباد میں میوزک کنسرٹ جاری ہیں، ۔سینیٹر کامل علی آغا نے تینوں محکموں کی بریفنگ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو سیلابوں اور زلزلہ کے وقت بھی یہی بریفنگ دی گئی تھی اب بھی وہی ہے ادارے نااہل ہیں لوگ کام ہی نہیں کرنا چاہتے صرف افواج پاکستان ہی مشکل کی گھڑی میں مدد فراہم کرتی ہے میں موقع پر کمیٹی کو ساتھ لے کر ثابت کر سکتا ہوں کہ بروقت اطلاع نہ ہونے سے نقصان ہوئے جدید دنیا میں تین ادارے فصلیں ، مویشی اور لوگ نہ بچا سکے ان کی کارکردگی صفر ہے ۔چیئرپرسن نے کہا کہ 2015 میں تاریخی تباہ کن سیلاب کی پیشن گوئی ہے درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کےلئے ادارے منصوبہ بندی کریں اور کہا کہ لاکھوں غریب افراد کو ڈبو نے کےلئے امیروں کو بچانے کےلئے بند توڑنے کی خبریں میڈیا میں عام ہیں ۔

 شدید تحفظات

مزید :

علاقائی -