مینا رپاکستان کاجلسہ

مینا رپاکستان کاجلسہ
مینا رپاکستان کاجلسہ

  

جلسے میں لوگ تھے لیکن لوگوں کی اکثریت جلسے میں نہیں تھی ، اپنی مستی میںتھی ،جبکہ عمران اپنی مستی میںتھے ، تبھی تو جلسہ ختم ہونے کے بعد سب سے پہلا سوال یہ ہوا ہے کہ اس جلسے کا اثر کیا ہوا ہوگا؟ ....کیا حکومت ہار مان لے گی؟.... کیا نواز شریف استعفیٰ دے دیں گے؟

ٰٓ ٰٰٓٓٓٓایسا لگتا ہے کہ عمران خان نے سفر کوالٹی طرف سے شروع کیا ہے، اگر وہ 14اگست کو اسلام آباد جانے کے بجائے مینار پاکستان پر جلسہ کرتے اور پھر لگاتار جی ٹی روڈ پر جلسے کرتے ہوئے 28ستمبر کو اسلام آباد پہنچتے تو کچھ اور ہی بات ہوتی، لیکن شاید عمران کو جلدی تھی ، یا پھر ان کو جو عمران کو ستمبر میں وزیر اعظم دیکھنا چاہتے تھے!

جلسے میں سب کچھ تھا، لیکن اسلام آباد ایسا کراﺅڈ نہ تھا، ویسی نفاست نہ تھی ، تھی تو کم تھی، خوبصورتی بھی ویسی نہ تھی، بلکہ کہیں بہت کم تھی اور کہیں بہت زیادہ، نوجوان بھی نامعلوم سے تھے، دھرنے والے پٹھان بھائی نہ تھے، جلسے کے حوالے سے ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ جلسے میں جتنے لوگ سٹیج پر چڑھے ہوئے تھے اس سے لگتا تھا کہ سٹیج پر علیحدہ سے ایک جلسہ ہورہا ہے ، ویسے ممکن ہے جن کو کنٹینر پر چڑھنے کا موقع نہ ملا ہو وہ سٹیج پر چڑھ دوڑے ہوں، بہرحال کچھ تو تھا کہ بدنظمی تھی!

سوا ل یہ ہے کہ عمران خان کو مینار پاکستان کے جلسے سے کیا حاصل ہو۱؟.... میانوالی کے جلسے سے کیا حاصل ہوگا؟یہ بھی ہو سکتاہے کہ لاہور اور میانوالی کے جلسوں سے جو کچھ حاصل ہوگا وہ ملتان کے جلسے پر خسارے میں بدل جائے اور جاوید ہاشمی الیکشن جیت جائیں!

سوال یہ بھی ہے کہ کیا عمران یہ ماحول ملتان کے ضمنی انتخابات کے لئے بنا رہے ہیں؟ لگتا ہے کہ وہ ہر قیمت پر ملتان کا ضمنی انتخاب جیتنا چاہتے ہیں ، حتیٰ کہ اس کے سامنے وزیر اعظم کے استعفے کی بھی کوئی حیثیت نہیںہے ، اس کے لئے اب عمران خان کے لئے نواز شریف کے استعفیٰ سے زیادہ اہم جاوید ہاشمی کی جیت ہو گئی ہے، وہ میچ کے اندر میچ کھیل رہے ہیں ۔ ان کا ہدف تبدیل ہو گیا ہے، تبدیلی آنہیں رہی، تبدیلی آگئی ہے!

عمران کی تقریر میں سب کچھ تھا مگر دھاندلی کا تذکرہ نہ تھا، تقریر انتخابی تھی،جبکہ معاملہ دھاندلی کا ہے ، بجلی کا معاملہ بھی تقریر میں مناسب جگہ نہ پاسکا، اس کے برعکس جب میں 18سال کا تھااور برطانیہ گیا تھا جیسی پرانی باتیں ہوتی رہیں، عمران عوامی شخصیت ہیں مگر اچھے مقرر نہیں ہیں، پچھلے پنتالیس دن کی مشقت بھی عمران خان کو اچھا مقرر نہیں بنا سکی ہے، وہ ہونٹوں پر انگلی رکھ رکھ کر خاموش رہنے کی تلقین کرتے ہیں ، اشاروں سے چپ کرواتے ہیں اور جب لوگ پھر بھی چپ نہیں ہوتے تو ڈانٹنے لگتے ہیں ،خطرہ یہ ہے کہ اگر لوگ پھر بھی باز نہ آئے تو ایک دن عمران ہاتھ جوڑ کر منتیں کیا کریں گے کہ خدا کے لئے میں جو کہنا چاہتا ہوں سن لو!خدشہ یہ بھی ہے، علامہ مشرقی مرحوم کی طرح غصے میں کوئی قدم نہ اٹھا بیٹھیں!

جلسے میں گانے نئے تھے، لیکن گانوں میں خیالات پرانے تھے، نئی غزل میں پرانا خیال ہو تو غزل پاپولر نہیںہوتی، عمران کے تھنک ٹینک کو اس بارے سوچنا چاہئے، جلسے میں ڈرون کیمرے تھے، جو بار بار مینار پاکستان پر قائم سٹیج کا عقبی حصہ دکھاتے رہے جہاں کچھ نہ تھا، اس سے بھی دیکھنے والوں میں اچھا تاثر نہیں گیا!

اسی طرح سے ایک مرحلے پر عمران خان کو خود آکر نوجوانوں کی سرزنش کرنا پڑی کہ وہ خواتین کا احترام کریں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوان وہاںکیا کرنے آئے تھے، اس سے بھی دیکھنے والوں میں اچھا تاثر نہیں گیا!

جلسے میں تقریریں بھی تازہ نہ تھیں، نئے سٹیج پر پرانی تقریریں تب چل سکتی تھیں جب ٹی وی عام نہ تھا، اب تو گھر گھر ٹی وی ہے بلکہ ہر ٹی وی سیٹ پر کئی ٹی وی چینل چل رہے ہوتے ہیں، اس لئے لوگوں کو تقریریں ازبر ہو چکی ہیں، سٹائل رٹ چکے ہیں، چنانچہ لوگ اب سنتے بھی نہیں ہیں، بس دیکھتے ہیں،عمران کی تقریر میں اگلے جلسے کے اعلان کے سوا کچھ بھی نیا نہیں تھا ، نتیجہ یہ ہے کہ یہ بات اہم نہیں رہی کہ عمران کے جلسوں میں کیا کہا جاتا ہے !

وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کی تقریر میں کیا کہا اس کا لفظ لفظ زیربحث رہا ہے، عمران نے مینا رپاکستان کے جلسے میں کیا کہا کسی کو ایک لفظ بھی یاد نہیں رہا، ہر کسی کو غرض جلسے کی تعداد سے ہے اور تعداد کبھی ایک سی نہیں رہتی؟

مزید :

کالم -