فوری توجہ طلب مسئلہ!

فوری توجہ طلب مسئلہ!
فوری توجہ طلب مسئلہ!

  

چور، ڈاکو یا جرائم پیشہ معاشرے کے لئے تو خطرہ ہیں ہی، اب جعلی میڈیکل پریکٹیشنرز بھی معاشرے اور انسانی زندگیوں کے لئے زبردست خطرہ بن گئے ہیں۔ یہ جعلی میڈیکل پریکٹیشنرز کسی لائسنس یا اجازت نامے کے بغیر شہر، شہر اور گاﺅں، گاﺅں اپنا کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن انہیں روکنے، ٹوکنے اور پوچھنے والا کوئی نہیں۔ ان جعلی میڈیکل پریکٹیشنرز کی جعلسازی اور اصل حقائق کا پتہ چلانے کے لئے مَیں نے جعلی میڈیکل پریکٹیشنروں اور حکیموں کی جانچ پڑتال کی تو وہ معمولی تعلیم یافتہ پائے گئے۔ بعض کی تعلیم تو واجبی تھی ،مگر وہ دھڑلے سے اپنی دکانداریاں چمکائے ہوئے تھے۔ اس میں اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جو ادویات کا نام لکھنا تو درکنار اس کا صحیح نام بھی نہیں لے سکتے تھے۔ مَیں نے کئی ایسی فری ڈسپنریوں کا مشاہدہ کیا جن میں کوالیفائیڈ ایم بی بی ایس ڈاکٹر کے بجائے ڈسپنر کام کر رہے تھے۔ کئی ایسے افراد سے بھی ملا جو کہنے کو تو میڈیکل کے پیشے سے وابستہ ہیں، مگر ان کے سائن بورڈوں سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ وہ کون سی ڈگریوں یا ڈپلوموں کے حامل ہیں۔ ایک کلینک پر اس قسم کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ ڈاکٹر محمد انور اسسٹنٹ ڈاکٹر شہباز احمد ایم بی بی ایس۔

 حیرت کی بات ہے کہ ایک حکیم کی دکان پر کافی عرصہ سے ڈاکٹر میجر رانا محمد شفیق ایم بی بی ایس کا بورڈ لٹک رہا ہے اور مریض اس حکیم کو کوالیفائیڈ پریکٹیشنرز سمجھ کر اس سے اپنا علاج کرا رہے ہیں۔ اس وقت بھی کم و بیش بیسیوں افراد ایسے ہیں جو خود تو کچھ بھی نہیں، مگر اپنے نام کے آگے باریک سا اسسٹنٹ (Assistant)لکھ کر موٹے الفاظ میں ڈاکٹر ........ ایم بی بی ایس لکھ کر پریکٹس کر رہے ہیں اور انسانی زندگیوں کے لئے شدید خطرہ بنے ہوئے ہیں ۔ شہر اور گاﺅ ں کی سطح پر ایسے کلینکس بھی ہیں۔ جہاں ڈاکٹر تو ایم بی بی ایس ہیں، مگر ماتحت عملہ َان کوالیفائیڈ ہے۔ بیشتر میڈیکل سٹورز کا بھی یہی حال ہے۔ وہاں ادویات بھی بکتی ہیں اور غیر قانونی پریکٹس بھی ہوتی ہے، جبکہ ہومیو پیتھک پریکٹیشنرز بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ وہ کسی سند، ڈپلومے اور ڈگری کے بغیر ہومیو پیتھک طریقہ علاج میں مصروف ہیں۔ جعلسازی کا یہ دیو کچھ اس طرح سے ہمیں قابو کر چکا ہے کہ ہم اس سے چھٹکارا پانے کا چارہ بھی نہیں کرتے۔ جیسے کوئی درزی بغیر مہارت کے کپڑے نہیں سی سکتا۔ کوئی الیکٹریشن بغیر سمجھے بجلی ٹھیک نہیں کر سکتا تو کیا انسانی جان اتنی ہی سستی ہے کہ ایسا شخص جو میڈیکل یا حکمت کی ”الف ب“ سے بھی واقف نہ ہو اُسے علاج کرنے کی کھلی چھٹی دے دی جائے ،تاکہ وہ جتنی جانوں کو چاہے، مٹی میں اتار دے۔

موجودہ ہیلتھ پالیسی کے مطابق حکومت نے ڈسپنر کے لئے کم از کم میٹرک پاس ہونا لازم قرار دیا ہے، جبکہ بعد از تربیت اُنہیں کام کی اجازت ہے ،لیکن ہم نے مڈل پاس کے ذمے یہ کام لگایا ہوا ہے۔ سینکڑوں عطائی، اَن رجسٹرڈ ڈاکٹرز اور نیم حکیم جو ہمارے لئے خطرہ¿ جاں ہیں، بڑی دلیری، ہوشیاری اور بے خوفی کے ساتھ شہروں اور دیہاتوں میں پریکٹس کر رہے ہیں، جبکہ حکومتی مشینری اُن کے سامنے بے بس نظر آتی ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر سند یافتہ اور اَن ٹرینڈ افراد سے معصوم جانوں کو محفوظ رکھنے کے لئے مثبت قدم اٹھائے۔ حکومت توجہ دے تو صورت حال میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے،لہٰذا حکومت وفاقی اور صوبائی سطح پر ٹیمیں تشکیل دے کر اس بات کا جائزہ لے اور پڑتال کرے کہ غیر مستند معالج کہاں کہاں موجود ہیں- وہ جہاں بھی موجود ہیں اُن کی بیخ کنی کی جائے۔ مزید یہ کہ کلینکس میں موجود ڈسپنرز کی بنیادی تعلیم کو بھی چیک کیا جائے کہ وہ میٹرک بھی ہیں یا نہیں؟ اس کے لئے قانون سازی کی جائے۔ ایسا قانون بننا چاہیے کہ کسی غیر مستند معالج کو سزا کے خوف سے کام کرنے کی جرا¿ت نہ ہو۔ میٹرک پاس ڈسپنسرز کی قابلیت کو بھی چیک کیا جائے اور دیکھا جائے کہ وہ اپنے شعبہ میں کتنا تجربہ رکھتا ہے اور یہ تجربہ تین سال یا اس سے زیادہ کا ہونا چاہیے۔

ایم بی بی ایس ڈاکٹرز کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ وہ میٹرک سے کم تعلیم رکھنے والے کسی نوجوان یا شخص کو اپنے پاس ڈسپنسر نہ رکھیں اور اُن کا تجربہ بھی چیک کریں۔ ہر نئے ٹرینڈ شخص کا پنجاب میڈیکل فیکلٹی باقاعدہ ٹیسٹ لے۔ جو ٹیسٹ میں کامیاب ہو اُسے ہی فیلڈ میں کام کرنے کی اجازت دی جائے۔ میٹرک سے کم تعلیم رکھنے والے ہر شخص کو خواہ وہ حکیم ہی کیوں نہ ہو۔ پریکٹس کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ایسا کوئی شخص اگر پریکٹس کر رہا ہے تو اُسے نہ صرف فوری روک دینا چاہیے ،بلکہ اُس کے خلاف فوجداری مقدمہ بھی رجسٹر ہونا چاہیے۔

بعض ادویات پر اُردو میں نام پرنٹ ہوتا ہے۔ دوا کس مقصد کے لئے ہے- اس کے استعمال کا طریقہ¿ کار بھی درج ہوتا ہے۔ اس کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے ،تاکہ کوئی کم علم شخص میڈیسن کی بوتل یا ڈبی پر ادویہ کا نام اور فوائد پڑھ کر ازخود اُسے استعمال کرنے نہ لگ جائے۔ ہر میڈیکل سٹور کے لئے بی کیٹگری یعنی فارمیسی اسسٹنٹ ہونا لازمی قرار دیا جائے۔ جن میڈیکل سٹورز کے پاس بی کیٹگری نہیں انہیں بلا حیل و حجت بند کر دینا چاہیے۔ ڈرگ انسپکٹرز کو بھی اس بات کا پابند بنانا چاہیے کہ وہ بغیر لائسنس چلنے والے میڈیکل سٹورز کو کسی وارننگ کے بغیر فی الفور سیل کر دے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائے۔ میڈیکل سٹورز پر یہ پابندی بھی ہونی چاہیے کہ وہ کسی مستند ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر میڈیسن فروخت نہ کرے اور نسخوں کا بھی ایک رجسٹر میں اندراج کرے۔ بہت سے میڈیکل سٹورز ہول سیل ڈیلر ہیں، مگر وہ پرچون ریٹ پر بھی میڈیسن فروخت کرتے ہیں۔ ایسے سٹورز مالکان سے بھی سختی سے نمٹا جائے، تاکہ وہ دوسروں کی حق تلفی نہ کریں۔

اس ضمن میں حکومت سے استدعا ہے کہ وہ موجودہ ہیلتھ پالیسی پر نظرثانی کرتے ہوئے میڈیکل پریکٹیشنرز اور میڈیکل سٹورز کے حوالے سے جامع پالیسی بنائے اور اس ضمن میں لوگوں سے تجاویز بھی طلب کرے، تاکہ ایسی مربوط اور بہتر میڈیکل پالیسی وجود میں آ سکے۔ جس سے اُن شکایات کا خاتمہ ہو جن کو آج ہم ڈسکس کر رہے ہیں کسی بھی ملک کی بہتر ہیلتھ پالیسی وہاں کے عوام کی بہتر صحت کی ضامن ہو تی ہے۔ اس میں جہاں جہاں بھی خرابیاں ہیں۔ انہیں دور کیا جانا چاہیے ۔ پاکستان ہی واحد ایسا ملک ہے جہاں کسی سند، ڈپلومے یا ڈگری کے بغیر میڈیکل پریکٹس ہو رہی ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ایسی پریکٹس ممنوع ہی نہیں ،بلکہ بہت بڑا جرم سمجھا جاتا ہے اور اس کے لئے سخت سزا مقرر ہے، جبکہ میڈیکل سٹورز کسی ڈاکٹری نسخے کے بغیر ادویات فروخت نہیں کرتے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہم بھی اس قاعدے قانون پر چل پڑیں ،جس کے لئے محکمہ صحت کے ڈرگ انسپکٹرز کی تطہیر و تربیت بے حد ضروری ہے جب تک غیر ذمہ دار اور کرپٹ لوگ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کا حصہ رہیں گے۔ برائی اور شکایات پر قابونہیں پایا جا سکے گا۔

مزید :

کالم -