سیاسی سرکٹ کے نئے رنگ ڈھنگ

سیاسی سرکٹ کے نئے رنگ ڈھنگ
 سیاسی سرکٹ کے نئے رنگ ڈھنگ
کیپشن: musharaf

  


سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنی جماعت اے پی ایم ایل کے یوم تاسیس پر اپنے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے اپنا مقدمہ پیش کیا۔ ان کا مقدمہ سننے میں کافی دلچسپ لگا۔ ویسے تو پاکستان کے سیاسی سرکٹ پر پچھلے ایک ماہ میں اتنی کامیاب فلموں کی نمائش ہوئی ہے کہ اب کسی بھی سیاسی پروڈیوسر کے لئے سیاسی مارکیٹ میں اپنے لئے جگہ بنانا کافی مشکل ہو گیا ہے۔ اب تو کام پہلے کی نسبت مہنگا بھی ہو گیا ہے۔

ایک تو دھرنوں نے سیاسی فلموں کی لاگت میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے جس کی وجہ سے چھوٹے پروڈیوسر کافی مشکل میں نظر آرہے ہیں اور ان کی فلمیں سرکٹ کے سینما گھروں سے اترتی جا رہی ہیں۔ اسی وجہ سے چھوٹی سیاسی فلموں کے ہیرو بھی پریشان ہیں کہ ان کی جگہ ختم ہو تی جا رہی ہے۔ کوئی ان کو اب کاسٹ بھی نہیں کر رہا۔ دھرنوں نے ان سیاسی فلموں کے سیٹ اور لوکیشن کی کاسٹ بھی بڑھا دی ہے، اب عام لوکیشن پر بنی کوئی بھی سیاسی فلم عوام کی توجہ حاصل نہیں کر سکتی۔ اس کے لئے ریڈ زون کا رنگا رنگ سیٹ ہونا ضروری ہے۔ گانے بھی لازمی ہو گئے ہیں، پہلے سیاسی فلمیں نعروں اور نظموں سے چل جاتی تھیں، لیکن اب تو سیاسی گانوں کے بغیر فلم کا تصور بھی مشکل ہے، پہلے صرف گانوں سے کام چل جا تا تھا اب ان گانوں پر رقص بھی ضروری ہے، پہلے صرف مرد کارکنوں کے رقص سے کام چل جا تا تھا لیکن پھر خواتین کا رقص لازمی ہو گیا اور اب تو قائدین کا رقص بھی ضروری ہے۔ قبلہ پرویز خٹک اور اعظم سواتی نے تو رقص کا ایسا معیار سیٹ کر دیا ہے کہ اب کوئی عام لیڈر ان کا مقابلہ کرنے کا بھی نہیں سوچ سکتا۔ سیاسی فلموں کی تو مکمل کیمسٹری ہی بدل گئی ہے۔ پرانے ہیرو پریشان ہیں ، ایسالگ رہاہے کہ ان کی فلمیں ڈبہ ہو گئی ہیں۔

سیاسی مذہبی جماعتیں بھی شدید مشکل کا شکار ہیں ، اب موسیقی اور رقص تو انہیں بھی اپنی فلموں میں شامل کرنا ہو گا ۔اپنے سراج الحق صاحب نے بھی جرگہ کے چکر میں اپنی چھوٹی فلم سے داد وصول کی لیکن اب جرگہ فلم بھی سرکٹ سے آؤٹ ہو رہی ہے۔ یہ سب سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے لئے تو حوصلہ افزا ہے، وہ تو ا س سب میں مہارت رکھتے ہیں، اسی لئے انہوں نے سیاسی محاذ کے نئے رنگ ڈھنگ پسند کئے ہیں۔ وہ تو خود اپنے دور اقتدار میں سیاسی سرکٹ کو یہ رنگ دینے کے لئے کوشاں رہے ، لیکن باقی بہت سے محاذوں کی طرح اس پر بھی نا کام رہے۔

سابق صدر پرویز مشرف نے اپنے یوم تاسیس پر جو سیاسی پیشنگوئیاں کی ہیں ان میں ایک تو انہوں نے دھرنے والوں کی حمایت کی۔ تاہم انہوں نے یہ واضح کیا کہ وہ ان دھرنے والوں کے پیروکار نہیں ہیں۔پرویز مشرف صاحب کا خیال ہے کہ حکومت جا رہی ہے لیکن انتخابات نہیں ہونگے۔بہرحال وہ یہ نہیں بتا سکے کہ حکومت جانے کے بعد کیا ہو گا۔

وہ سمجھتے ہیں کہ قوم کو ان کی ضرورت ہے۔ قوم سمجھتی ہے کہ پاکستان کو بجلی کی ضرورت ہے۔

پرویز مشرف کا خیال ہے کہ ملک کے مسائل صرف وہی حل کر سکتے ہیں۔۔۔ قوم کا خیال ہے کہ ملک کے اکثر مسائل آج ان کی وجہ سے ہیں۔

پرویز مشرف کا موقف ہے کہ انہوں نے ملک کے لئے جنگیں لڑیں ۔ پھر بھی ان پر غداری کا الزام لگا دیاگیا ہے۔۔۔ قوم کا سوال ہے کہ کیا جنگیں لڑنے کے بعد آئین توڑنے کی اجازت دے دینی چاہئے۔۔۔ جنگ لڑنے کا اعزاز اپنی جگہ اور کسی بھی جرم پر سزا اپنی جگہ۔۔۔ جنگ لڑنے کا اعزاز آپکو قانون اور آئین سے با لا تر نہیں کر دیتا۔

سیاسی سرکٹ کے بدلتے رنگوں میں ایک رنگ ’’گو نواز گو ‘‘کا نعرہ بھی ہے۔ اس نعرہ نے حکمرانوں کے لئے زندگی مشکل کر دی ہے، حکمران ایک خوف میں مبتلا ہو گئے ہیں لیکن اس نعرہ کے حوالہ سے بھی چند سوال اپنی جگہ موجود ہیں، یہ نعرہ لگانے والوں کی تعداد کسی بھی جگہ زیادہ نظر نہیں آئی۔ ہر مقام پر چند افراد نے ہی نعرہ لگا یا ہے لیکن اگر چند افراد بھی حکمرانوں کے سامنے یہ نعرہ لگا رہے ہیں تو خطرہ تو موجود ہے۔ اس نعرہ کے مقابلہ کے لئے حکمران جماعت کو ایک ا ور مضبوط نعرے کے ساتھ سامنے آنا ہو گا۔ یہ ایسا نعرہ ہو نا چاہئے جو جہاں مسلم لیگ (ن) کے کارکن کو پر جوش کرے وہیں عام آدمی کی امنگوں کا بھی ترجمان ہو۔ میاں نواز شریف کو اب ڈیڈ لائن کی سیاست کرنا ہو گی، انہیں قوم کو بتا نا ہو گا کہ وہ کونسا کام کب تک مکمل کر لیں گے۔ لوڈ شیڈنگ کے خاتمہ کی حتمی ڈیڈ لائن ہی عوام کا اعتماد ان پر قائم رکھ سکتی ہے۔ بجلی سستی کرنے کی ڈیڈ لائن ہی گو نواز گو کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ میاں نواز شریف عوام کو صرف اپنے کام سے ہی اپنے ساتھ جوڑے رکھ سکتے ہیں ورنہ توپیپلز پارٹی نے بھی مڈ ٹرم انتخابات کا نعرہ لگا دیا ہے، یہ بھی گو نواز گو کی اگلی شکل ہے۔ اس لئے اب ڈیڈ لائنز طے کر کے عوام کو یہ بتانے کا وقت ہے کہ کون سا کام کب تک ہو جائے گا۔۔۔یہ بچت کا واحد راستہ ہے۔

مزید :

کالم -