اب بات کھلے گی، عمران ، آرمی چیف اور وزیراعظم میں کیابات ہوئی ، پتہ لگناچاہیے ، گنددھونے کیلئے سپریم کورٹ کی لانڈری استعمال نہیں ہوگی: عدالت عظمیٰ

اب بات کھلے گی، عمران ، آرمی چیف اور وزیراعظم میں کیابات ہوئی ، پتہ لگناچاہیے ...
اب بات کھلے گی، عمران ، آرمی چیف اور وزیراعظم میں کیابات ہوئی ، پتہ لگناچاہیے ، گنددھونے کیلئے سپریم کورٹ کی لانڈری استعمال نہیں ہوگی: عدالت عظمیٰ

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ وزیر اعظم کی نا اہلی کیلئے پٹیشن لائی گئی ، بات اب عدالت میں آ گئی ہے ، اب یہ کھلے گی اور سب آئیں گے ، بیان دیں گے اور جرح ہوگی، کیا آرمی چیف کو بطورگواہ پیش کرسکتے ہیں،گند دھونے کے لیے سپریم کورٹ کی لانڈری استعمال نہیں ہوسکتی۔ جسٹس دوست محمد نے کہاکہ صحابہ کرام کے بعد تو کوئی صادق اور امین نہیں ، درخواست گزار کی بات مان لی جائے تو ساری پارلیمنٹ ہی نا اہل ہو جائے۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے وزیر اعظم نا اہلی کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت جسٹس دوست محمد نے درخواست گزار کے وکیل طاہر نواز سندھو سے استفسار کیاکہ کیا آپ آرمی چیف کو بطور گواہ یا ان کا بیان حلفی پیش کر سکتے ہیں،یہ معاملہ تو وزیر اعظم اور آرمی چیف کے درمیان تھا۔ وزیر اعظم اور آرمی چیف کے درمیان کیا باتیں ہوئیں ، یہ کوئی نہیں جانتا۔

 جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا آپ اخباری بیان پڑھ کر پٹیشن لے آئے،بات اب آگے جائے گی، سب آئیں گے ، بیان دیں گے اور جرح ہوگی جس پر درخواست گزار نے کہا کہ بات اس حد تک نہیں جائے گی۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ بات تو آگے جائے گی حقائق کو دیکھنا ہے، وزیر اعظم نے آرمی چیف کو درخواست کی تھی یا نہیں ، اس کا جواب صرف آرمی چیف ہی دے سکتے ہیں، گنددھونے کے لیے سپریم کورٹ کی لانڈری استعمال نہیں ہوسکتی ۔اُنہوںنے کہاکہ قوم کو آپ کا شکر گزار ہونا چاہئے آپ اس معاملے کو عدالت لے آئے، بات اب کھلے گی ، یہ بھی پتہ لگنا چاہئے کہ عمران خان اور آرمی چیف کے درمیان کیا بات ہوئی۔

 جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ وزیر اعظم کی نااہلی کی درخواست پرانے آئین کی روشنی میں تیار ہوئی۔ درخواست گزار نے استدعا کی کہ آرٹیکل 62 اور 63 کے اطلاق سے متعلق سوچنے کا موقع دیا جائے ، اگر نا اہلی کی شقیں لاگو نہیں ہوتیں تو حلف کی خلاف ورزی پر نواز شریف کیخلاف کارروائی کی جائے۔ جسٹس دوست محمد نے کہا کہ خلاف ورزی ثابت ہوگی تو کارروائی ہوگی، خلاف ورزی ثابت کرنے کیلئے آرمی چیف کو حلفیہ بیان دینا ہوگا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ اب ہم اس درخواست کو واپس لینے کی بھی اجازت نہیں دیں گے۔

 درخواست گزار کا کہنا تھا کہ میرے ٹکڑے بھی ہو جائیں تو میں درخواست واپس نہیں لوں گا جس کے بعد مزید سماعت 15اکتوبرتک ملتوی کردی گئی۔

مزید :

اسلام آباد -اہم خبریں -