مسلمانوں کا امام

مسلمانوں کا امام
مسلمانوں کا امام

  

چند سال بیتے، راولپنڈی میں ایک دوست کے ہاں مدعو تھا۔ ان کے نوجوان فرزند سے گفتگو جاری تھی۔ اہل خانہ کا ذکر کرتے ہوئے نوجوان کہنے لگا کہ اللہ رب العالمین نے مجھے بیٹے کی نعمت سے نوازا ہے۔ مَیں نے بے اختیار بچے کا نام دریافت کیا، تو جواب آیا: ’’سدیس‘‘۔ سبب تسمیہ پوچھا، تو محبت سے سر شار کہنے لگا ’’مَیں نے اور اہلیہ نے سفرِ عمرہ میں قاری سدیس کی تلاوت سن کر فیصلہ کیا تھا کہ بیٹے کا نام سدیس رکھیں گے‘‘۔

اور فراز چاہئیں، کتنی محبتیں تجھے

ماؤں نے تیرے نام پر ، بچوں کا نام رکھ دیا

2012ء میں شاہ عبداللہ نے شاہی حکم نامہ کے ذریعہ الشیخ عبدالرحمن السدیس کو ادارہ امور حرمین شریفین (شؤون المسجد الحرام والمسجد النبوی) کا ڈائریکٹر (رئیس) مقرر کیا۔ 1433ہجری میں جاری ہونے والے اس حکم نامہ کے تحت ان کا درجہ وزیر کے برابر ہے۔ مسجد الحرام اور مسجد نبوی کا انتظام و انصرام ادارہ امور حرمین شریفین کے ذمہ ہے۔ قرآن کریم کے نسخہ جات سے لے کراس کی تعلیم تک، زم زم کی ترسیل سے لے کر مسجد کی نظافت تک ، زائرین وحجاج کرام کی خدمت سے لے کر تعمیرو ترقی تک، عمومی دیکھ بھال سے لے کر سیکیورٹی تک ، یہ تمام ذمہ داریاں ادارہ امور حرمین شریفین کے دائرہ کار میں ہیں۔

’’صحیفہ مکہ‘‘ کے مطابق سال کے دیگر ایام کی مانند رمضان المبارک میں بھی الشیخ عبدالرحمن السدیس اپنے فرائض تندہی سے انجام دیتے ہیں۔ ہر روز قرآن کریم کو دہرانا آپ کے معمولات میں سے ہے۔ہر روز اپنے کام کا آغاز اجیاد میں واقع ادارہ امور حرمین کے دفتر سے کرتے ہیں، جوکہ مسجد الحرام کے قرب میں واقع ہے۔ آپ کی مصروفیات دفتری اوقات کے اختتام تک جاری رہتی ہیں۔مہمانوں کا استقبال کرتے ہیں۔روز مرہ امور سرانجام دیتے ہیں۔خود جا کر مطاف ، لائبیریری، منزلوں، تہہ خانوں اور صحن کا جائزہ لیتے ہیں۔ نمازِ عصر کے بعد معا ئنہ کے موقع پر فیلڈ فورس کی مشکلات کو سنتے ہیں اور ان کی پیش آنے والی رکاوٹوں کو ازالہ کا حکم دیتے ہیں۔افطار سے 10منٹ قبل کعبہ کے مقابل بچھائے گئے دسترخوان پر پہنچتے ہیں۔اس دسترخوان کے ساتھ ہی امام کا مصلی بھی ہے۔فرش پر اپنے رفقاء کار کے ہمراہ انکساری سے بیٹھ جاتے ہیں۔کھجور ،زم زم اور قہوہ پرمشتمل سادہ افطار ، پلاسٹک کے مہین دستر خوان پر موجود ہوتا ہے۔ چند لمحات بعد یہی بندہ امامت کی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور عاجزی کا پیکر بنا کھڑا ہوتا ہے۔

1960ء میں پیدا ہونے والا بچہ، جس نے تقریباً 12سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی، آج کروڑوں مسلمانوں کی ہر دلعزیزشخصیت ہے۔ 1987ء میں عبدالرحمن السدیس نے اسلامک یونیورسٹی الریاض سے اسلامک جیور سپروڈنس (فقہ اسلامی) میں ماسٹرز کیا۔1995ء میں آپ نے ام القری یونیورسٹی مکہ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ اس اثنا میں آپ ام القری یونیورسٹی کی شریعہ فیکلٹی میں تدریس بھی کرتے رہے۔بہت سے عالمی اسلامی علمی اور خیراتی اداروں کے بورڈ کے ممبر ہیں۔ بیرون ملک لیکچرز دے چکے ہیں۔کئی ایک کتب کے مُصنّف بھی ہیں۔ عالم اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے سبب آپ کو 2005ء میں ’’عا لم اسلام کی شخصیت‘‘ کا دبئی انٹرنیشنل قرآن ایوارڈ عطا کیا گیا۔اس موقع پر آپ کی خدمت میں ایک ملین درھم کی رقم پیش کی گئی۔

1984ء میں حرم مکی کے امام مقرر ہوئے۔ 22 شعبان کی 1404ھ کو آپ نے پہلی بار مسجد الحرام میں عصر کی نماز کی امامت کی۔

مخارج حروف کی معرفت اور احکام ترتیل وتجدید پر گرفت آپ کی پہچان ہے۔الفاظ کی ادائیگی پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔ آواز کا اتار چڑھاؤ آپ کی تلاوت کا حسن ہے ، جس کے ذریعہ آپ مقتدیوں کے دلوں میں تلاطم برپا کر دیتے ہیں۔آپ کی پر سوز تلاوت سن کر آنکھیں پرنم ہونے لگتی ہیں۔آپ سے متاثر کتنے ہی لوگ آپ کے انداز تلاوت کی پیروی کی کوشش کرتے ہیں۔آپ کے لئے دعاگو رہتے ہیں۔ ایک ویب سائٹ پر تاثرات میں ایک چاہنے والے نے لکھا: ’’بچپن سے میں آپ کی آواز میں قرآن سننے کا شوق رکھتا ہوں آپ کی آواز و تلاوت سن کر مَیں نے قرآن کی آیات حفظ کرنا شروع کر دیں‘‘۔

چند سال قبل الشیخ عبدالرحمن السدیس پاکستان آئے اور بادشاہی مسجد میں مغرب کی نماز کی امامت کروائی۔ بادشاہی مسجد کی وسعت تنگی کا شکوہ کرنے لگی۔ وزیراعلیٰ پنجاب اور دیگرسیاسی قیادت نے بھی ان کی اقتدا میں نماز ادا کی۔ خواتین کی بڑی تعداد بھی اس میں حاضر تھی۔آپ نے دُعا کے لئے ہاتھ اٹھائے ، تو پھر دل موم ہونے لگے۔’’اے اللہ پاکستان میں ہمارے بھائیوں کو توفیق دے۔ اپنی کتاب اور نبی ؐ کی سنت پر ان کے دِلوں کوجوڑ دے اور ان کی صفوں کو یکجا کردے۔ ان کو سعادت اور اطمینان دے۔ اس مُلک کی اسلام کے ساتھ حفاظت کر اور حاسدین سے محفوظ رکھ‘‘۔ دعا رقت آمیزتھی۔اختتام پر آپ نے ’’پاکستان زندہ باد‘‘کے الفاظ ادا کر کے دلوں کو گرما دیا۔

آپ اعلیٰ پائے کے قاری ہی نہیں بلکہ اعلی خطیب بھی ہیں۔مسجد الحرام میں دیئے گئے خطبات آپ کے علم اور زبان دانی کے گواہ ہیں۔ الفاظ کا چناؤ اور مواد کا انتخاب دونوں قابلِ تحسین ہوتے ہیں۔ قرآن کریم ازبر ہے۔ سالہا سال سے کبھی اٹکے نہیں۔ عربی ادب کا عمدہ ذوق رکھتے ہیں۔آپ کی تلاوت سن کر دل پگھل جاتے ہیں ، آنسو ٹپکنے لگتے ہیں۔صاف رنگت، روشن آنکھیں، گھنی داڑھی ، سر پر سفید (بعض اوقات سرخ و سفید) رومال ، سفید عربی لباس ، بھورے رنگ کی عباء ، ناک پر دھری نفیس عینک ، خوش گفتار و خوش اطوار۔ کروڑوں مسلمان اس جلیل القدر شخصیت سے محبت کرتے ہیں۔ شاید اللہ رب العالمین نے لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت ڈال دی ہے۔میزبانی کا اعزاز بھی ہے ، امامت سے سرفراز بھی ہے،جس گھر کی طرف آنے کا بلاوا ابراہیم علیہ السلام نے دیا تھا، آج اس گھر میں عبدالرحمن السدیس مسلمانوں کا امام بھی ہے اور میزبان بھی۔

مزید :

کالم -