جو کام برطانیہ میں ہونے جارہا ہے اگر پاکستانی بھی کرلیں تو بھارت اور افغانستان کو نانی یاد آجائے گی

جو کام برطانیہ میں ہونے جارہا ہے اگر پاکستانی بھی کرلیں تو بھارت اور ...
جو کام برطانیہ میں ہونے جارہا ہے اگر پاکستانی بھی کرلیں تو بھارت اور افغانستان کو نانی یاد آجائے گی

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ میں سانحہ نائن الیون کے متاثرین کو سعودی عرب کے خلاف مقدمے کا اختیار ملنے کے بعد برطانیہ میں بھی ایسی آوازیں اٹھنے لگی ہیں جہاں دہشت گردی سے متاثرہ شہریوں نے شدت پسندوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے قانون کو آسان بنانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اگر ایسا ہی قانون پاکستان میں بن جائے تو یہاں دہشت گردی کروانے والے ممالک کو بھی چھٹی کا دودھ یاد آ جائے۔میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق دہشت گردی سے متاثر ہونے والے برطانوی شہریوں کی لانچ کی گئی اس مہم میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت ایسا قانون بنائے جس سے دہشت گردی سے متاثرہ شہریوں کے لیے شدت پسندوں کو قانون کے کٹہرے میں لانا آسان ہو سکے۔

ایک برطانوی تنظیم، جو دہشت گردی سے متاثر ہونے والے ساڑھے11ہزار افراد کی نمائندگی کرتی ہے، نے چندہ جمع کرنے کے لیے ایک تحریک شروع کر دی ہے۔ یہ رقم دہشت گردوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے قانون میں تبدیلی کے لیے صرف کی جائے گی۔ برطانیہ اس حوالے سے موجودہ قانون کے تحت اور حکومت شدت پسندوں کے خلاف مقدمات نہیں چلاتی تو شہری ازخود یہ کام کر سکتے ہیں مگر اس میں انہیں کئی طرح کی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کے باعث وہ شدت پسندوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے میں ناکام رہتے ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں امریکی کانگریس اور سینیٹ نے صدر باراک اوباما کا ویٹو مسترد کرتے ہوئے سانحہ نائن الیون کے متاثرین کو سعودی عرب حکومت کے خلاف مقدمات درج کروانے کی اجازت دے دی ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -