ہارٹیکلچر شعبے کی سالانہ عالمی تجارت 190 ارب ڈالر پر محیط ہے، زرعی ماہرین

ہارٹیکلچر شعبے کی سالانہ عالمی تجارت 190 ارب ڈالر پر محیط ہے، زرعی ماہرین

  

لاہور ( کامرس رپورٹر)ضروری انفراسٹرکچر اور کولڈ سٹوریج کے فقدان کے باعث ہر سال کروڑوں روپے مالیت کے 40 فیصد تک پھل اور سبزیاں ضائع ہو جاتے ہیں لہٰذاحکومت مناسب اقدامات کرے تو قیمتی زرمبادلہ حاصل کیاجاسکتاہے۔ زرعی ماہرین کے مطابق سبزیوں اورپھلوں کی ایک بڑی مقدار صارفین تک پہنچنے سے قبل ہی مناسب حفاظت نہ ہونے سے خراب ہو جاتی ہے ۔انہوں نے بتایاکہ دنیا میں ہارٹیکلچر شعبے کی سالانہ تجارت 190 ارب ڈالر پر محیط ہے جس میں ضروری انفراسٹرکچر نہ ہونے کے باعث پاکستان کا حصہ آٹے میں نمک کے برابر ہے ۔ انہوں نے بتایاکہ چین ، بھارت ،نائیجیریا ، بنگلہ دیش انفراسٹرکچر اور کولڈ سٹوریج چین تیزی سے ترقی کر رہے ہیں کیونکہ ان ممالک میں حکومت میں مذکورہ سیکٹر کو انڈسٹری کادرجہ دے رکھا ہے جس کے باعث وہ سالانہ کروڑوں ڈالر کی کامیاب برآمدات کررہے ہیں۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ حکومت اس ضمن میں تمام وسائل بروئے کار لائے گی تاکہ سبزیوں اور پھلوں کی برآمدات میں اضافہ سمیت اسے ضائع ہونے سے بچانے میں مدد مل سکے۔

مزید :

کامرس -