اڈہ پلاٹ کے جلسہ کے بعد کا سیاسی منظر نامہ

اڈہ پلاٹ کے جلسہ کے بعد کا سیاسی منظر نامہ
اڈہ پلاٹ کے جلسہ کے بعد کا سیاسی منظر نامہ

  

پاکستان تحریک انصاف کا جلسہ حاضری کے اعتبار سے نہایت کامیاب رہا۔ یہ بحث نہیں ہے کہ اس میں لوگوں کی تعداد کم تھی یا زیادہ۔ عمران خان کے ناقدین کو بھی یہ بات ماننا ہو گی کہ یہ ایک بھرپور اور کامیاب سیاسی جلسہ تھا۔ عمران خان نے تمام سیاسی جماعتوں کی مخالفت کے باوجود ایک کامیاب جلسہ کر کے دیگر سیاسی جماعتوں کو دکھا دیا کہ اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لئے انہیں کسی کی حمایت کی ضرورت نہیں۔ اس لئے اس جلسہ کے کامیاب ہونے پر جب دو رائے نہیں تو اس پر مزید لکھنا یا بات کرنا بھی کوئی اہم نہیں۔

سوال یہ ہے کہ اس جلسہ کے بعد کا سیاسی منظر نامہ کیا ہے۔ اس جلسہ سے قبل ایک سیاسی تجزیہ نگار نے اس جلسہ کے حوالہ سے دلچسپ تجزیہ کیا تھا کہ یہ ایسا جلسہ ہے، جس میں دونوں فریقین ڈرے ہوئے ہیں ۔ حکومت کو یہ ڈر ہے کہ اگر لوگ بڑی تعداد میں آگئے تو کیا ہو گا کہیں عمران خان زیادہ تعداد میں لوگ دیکھ کر بپھر ہی نہ جائے اور دوسری طرف عمران خان کا کیمپ اس لئے ڈرا ہوا تھا کہ اگر لوگ نہ آئے تو کیا ہو گا، کیونکہ اگر اس سے قبل تحریک انصاف کے جلسوں کی طرح اس میں بھی لوگ نہ آتے تو عمران خان کی سیاست کو ناقابل تلافی نقصان ہوتا۔ لیکن جلسہ کے بعد اب میں نے اس سیاسی تجزیہ نگار سے پوچھا کہ اب کیا صورتِ حال ہے تو اس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یہ ایسا جلسہ ہوا ہے کہ فریقین خوش ہیں۔ حکومت خوش ہے کہ جلسہ بغیر کسی ناخوشگوار واقعہ کے ہو گیا۔ لوگ واپس چلے گئے اور اس جلسہ سے پاکستان کی سیاست میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اس خوشی کا اندازہ اس بات سے لگا یا جا سکتا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے جلسہ کے بعد آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا اور سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) امین وینس کو خوب شاباش دی کہ انہوں نے کسی بھی ناخوشگوار کے واقعہ کے بغیر جلسہ ہونے دیا۔ فول پروف سیکیورٹی دی اور عمران خان کو پنجاب پولیس سے کوئی شکایت بھی نہیں ہوئی۔ اِسی لئے انہوں نے اس بار اپنے جلسہ میں پنجاب پولیس کو للکارا نہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے پولیس کی حکمت عملی پر انہیں داد دی، مگر مجھے اس پر ایک گلہ ہے کہ میاں شہباز شریف نے جب پنجاب پولیس کو ڈانٹنا ہو تا ہے تو بھرے جلسہ میں ڈانٹتے ہیں اور شاباش بند کمرے میں دیتے ہیں۔ شاید پنجاب پولیس کا امیج بہتر بنانے کے لئے انہیں شاباش بھی کھلے عام دینی چاہئے تا کہ پولیس کا میج بہتر ہو سکے اور عمران خان تو لوگوں کے آنے پر پھولے نہیں سما رہے ہیں۔

اِس لئے اب سوال یہ ہے کہ اس جلسہ کے بعد کا سیاسی منظر نامہ کیا ہے۔ میرے ایک دوست کا خیال ہے کہ جلسہ میں تقریر کے دوران عمران خان نے پانامہ کا مقدمہ جیت لیا ہے اور بہت ثبوت دئے ہیں، مگر مَیں نے اپنے اس دوست سے سوال کیا ہے کہ ذرا دھرنے کے دوران کی تقاریر کو یاد کریں عمران خان دھاندلی کے موضوع پر اسی قسم کے ثبوت اور دلائل دیتے تھکتے نہیں تھے۔ اسی طرح سکرین سجائی جاتی تھی اور پھر سب نے دیکھا کہ دھاندلی کے جن کرداروں کے خلاف عمران خان جلسوں اور دھرنوں میں گھنٹوں تقاریر کیا کرتے تھے۔ ان کے بارے میں دھاندلی کمیشن میں عمران خان اور ان کی جماعت کی بولتی بند ہو گئی۔ ان کے وکلا نے انہیں سمجھا یا کہ جو باتیں جلسوں میں کی جاتی ہیں وہ عدالت میں نہیں کی جا سکتیں۔ اس طرح پانامہ پر بھی وہ جو باتیں جلسوں میں کر رہے ہیں وہ شاید وہ عدالتوں میں نہ کر سکیں اور عدالت میں پھر پانامہ پر ان کے وکلا انہیں سمجھائیں کہ یہ عدالت ہے جلسہ گاہ نہیں ۔

ویسے تو عمران خان نے اڈہ پلاٹ کے اپنے اس جلسہ میں اپنا ساتھ دینے والی اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کو جس طرح للکارا۔ اس نے ان کے اور دیگر اپوزیشن کے درمیان فاصلے وسیع کر دئیے ہیں۔ اِسی لئے بلاول بھٹو نے بھی اس جلسہ کے حوالہ سے تنقیدی ٹوئٹ کیا ہے کہ یہ برے وقت اور بری جگہ پر ایک اچھا شو تھا۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان اسلام آباد کو بند کر سکیں گے؟ عمران خان کے اس اعلان سے یقیناًحکومت پر دباؤ بڑھے گا۔ حکومت کو پانامہ کا مسئلہ حل کرنے کے لئے کچھ کرنا ہو گا۔ شاید عمران خان کے اعلان کے بعد موجودہ پالیسی کو جاری رکھنا ممکن نہ ہو۔ اپوزیشن کی باقی جماعتیں جو عمران خان سے ناراض ہیں وہ بھی حکومت سے کہیں گی کہ کچھ کریں تا کہ عمران کی کال کو ٹھس کیا جا سکے۔ اِس لئے اس جلسہ میں عمران خان کی اسلام آباد جانے کی کال نے حکمرانوں کے ایوانوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجائی ہیں۔ شاید عمران خان نے تاریخ کا اعلان اس لئے نہیں کیا کہ یہ کسی کو بھی نہیں پتہ کہ بھارت کے ساتھ کشیدگی کیا رخ اختیار کرے گی۔ اگر کشیدگی لمبی ہو گئی تو عمران خان کو اپنی کال کو لمبا کرنا ہو گا، کیونکہ کشیدگی کے دوران اب عمران خان کے لئے اسلام آباد پر چڑھائی کرنا ممکن نہیں ہے۔

بھارت سے کشیدگی عمران خان کی پانامہ کی تحریک کی راہ میں اس وقت بڑی رکاوٹ ہے۔ اِسی لئے انہیں وزیر اعظم میاں نواز شریف کی کانفرنس میں شرکت کے لئے شاہ محمود قریشی کو نامزدکیا ہے، جس طرح بھارت کے ساتھ کشیدگی بڑھ رہی ہے عمران خان کو حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانا ہو گا۔ وہ بھارت کے ساتھ کشیدگی کے ماحول میں نہ تو اسلام آباد پر چڑھائی کر سکتے ہیں اور نہ ہی وہ حکومت کے ساتھ محاز آرائی کو بڑھا سکتے ہیں، بلکہ جس طرح انہوں نے جلسے ختم کئے ہیں باقی پلان بھی ختم کرنا ہو گا۔

مزید :

کالم -