احتجاج کی سیاست سے حکومت کوکوئی خطرہ نہیں ،کسی کی خواہشات پر پورا نظام تبدیل نہیں ہوسکتا :سردار ایاز صادق

احتجاج کی سیاست سے حکومت کوکوئی خطرہ نہیں ،کسی کی خواہشات پر پورا نظام تبدیل ...

  

 لاہور(فلم رپورٹر/نامہ نگار،اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی سردارایاز صادق نے کہا ہے کہ ایجی ٹیشن کی سیاست سے جمہوریت یا وزیر اعظم کو کوئی خطر ہ نہیں ،نظام جاری رہے گا، کسی کی ذاتی خواہشات کی بنا پر پو رانظام تبدیل نہیں کیا جاسکتا،میرے پاس اب کوئی ریفرنس نہیں،تمام ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیج دئیے،اقتدار کی خواہش رکھنے والے بھول جائیں اور 2018ء کا انتظار کریں ، اکتوبرمیں بین الاقوامی ممالک کے سپیکرز کی یونین میں مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مضبوط قرارداد لائیں گے ۔ایران ، افغانستان اور روس سمیت بہت سے ممالک اقتصادی راہداری کا حصہ بننا چاہتے ہیں ، اس پرامریکہ اور بھارت کو سب سے زیا دہ تکلیف ہے ،انہوں نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز سی پی این ای کے زیر اہتمام"میٹ دی ایڈیٹرز"کے عنوان سے ہونے والی تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سردار ایاز صادق نے کہا کہ میں اسمبلی میں جن کامائیک بند کر تا ہوں ان کو سنجیدہ نہیں لیتا، ان کی حیثیت ہی اس لائق ہے کیونکہ پو ری اسمبلی کی تمام سیا سی جماعتوں کو نظرانداز کر کے صرف ایک نشست رکھنے والے کو مائیک نہیں دے سکتا ،ہر کسی کو اس کی عددی اکثریت کے لحاظ سے مائیک ملتا ہے ، میں تو اپو زیشن رہنماؤں کو مقررہ وقت سے بھی دوگنا وقت دیتا ہوں جس پر حکومتی اراکین اسمبلی مجھے اپو زیشن کازیا دہ وفادار ہونے کے طعنے دیتے ہیں ۔ ایاز صادق نے مختلف سوالات کے جواب میں کہا کہ کو شش ہے اسلام آباد کو بند کرنے کے معاملے کو تصادم کی طرف نہ لے کر جائیں ،ایران ، افغانستان اور روس سمیت بہت سے ممالک اقتصادی راہداری کا حصہ بننا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ انتقال اقتدار کے نظام پر عمل پیرا ہوئے بغیراقتدار میں آنے کی خواہش رکھنے والے بھول جائیں اور 2018ء کے انتخابات کا انتظار کریں ،نظام سے باہر رہ کر نظام کا حصہ نہیں بنا جاسکتا ،اب حالات تبدیل ہو چکے ہیں ، جمہوریت یا وزیر اعظم کو کوئی خطرہ نہیں ہے ، یہ نظام یو نہی جا ری رہے گا، کسی کی ذاتی خواہشات کی بنا پر پو رانظام تبدیل نہیں کیا جا سکتا، جمہوریت کی باتیں کرنیوالے ہی پارلیمنٹ پر چڑھ دوڑنے کی باتیں کرتے ہیں یہ منافقت نہیں تو اور کیا ہے ، کو شش کریں گے کہ اسلام آباد کو بند کرنے کے معاملے کو تصادم کی طرف نہ لے کر جائیں ، اس وقت ملک کو امن کی ضرورت ہے ، خدا کا واسطہ ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کو متنازعہ نہ بنائیں ،کیونکہ پہلے تو 46ارب کا منصوبہ تھا لیکن اب 8ارب اور آنیوالے ہیں ،یہ صرف ابتدا ہے ، اس کے علاوہ اور بہت بھاری سرمایہ کاری آنے کو تیا رہے ،اس لیے اگر سیا سی قیادت تقسیم ہو گی اور صوبے آن بورڈ نہیں ہوں گے تو پو رامنصوبہ کھٹائی میں پڑ سکتا ہے ، پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ پاکستان کیلئے اس قدر مفید ہے کہ اس پر تنقید کرناپاکستان دشمنی ہے،اس منصوبے کو سیاست سے دور رکھناوقت کی اہم ضرورت ہے ۔ایران ، افغانستان اور روس سمیت بہت سے ممالک اقتصادی راہداری کا حصہ بننا چاہتے ہیں ، یہ وہ اصل وجہ ہے جس کی امریکہ اور بھارت کو سب سے زیا دہ تکلیف ہے ، امریکہ کو ہماراامن سخت نا پسند ہے، بھارت بھی اسی لیے سازشیں کر رہا ہے کیونکہ بھارت نہ کبھی پاکستان کا دوست تھا اور نہ آئندہ ہو گا،اس لیے ہمیں ان سب بیرونی سازشوں کو ناکام بنا نے کیلئے نا اتفاقی کی بجائے اتحادو اتفاق سے کام لینا چاہیے ۔ عمران خان نے سال 2013ء سے لے کر آج تک مجھ پر الزامات لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن اگر وہ مجھے تسلیم نہیں کر تے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ پاکستان کے آئین کو تسلیم نہیں کر تے ،میں پاکستان کا آئینی طورپر منتخب اسپیکر قومی اسمبلی ہوں ، میں عمران خان کے یا تحریک انصاف کے ووٹوں سے نہیں بنا ،وہ جتنی بھی تنقید کر لیں لیکن میں ملکی مفاد کی خاطر پھر بھی ان کو دعوت دیتا ہوں کہ پاک بھارت کشیدگی کے معاملے پر بلائے گئے پارلیمانی لیڈران کے اجلاس میں تشریف لائیں اور اپنا نقطہ نظرپیش کریں ۔میں نے صرف جمہوریت کے ڈی ریل نہ ہونے کی خاطر پی ٹی آئی کے اراکین کے استعفے قبول نہیں کیے ،جب تک کوئی بھی رکن اسمبلی ڈی نوٹیفائی نہ ہوجائے تب تک اس کو تنخواہ ملتی رہتی ہے اس لیے پی ٹی آئی کے استعفیٰ دینے والے اراکین کو تنخواہوں کی ادائیگی کی گئی لیکن وہ انہوں نے پرائم منسٹر ریلیف فنڈ میں جمع کروا دی تھی ،پاکستانی پارلیمنٹ بہتری کی طرف جا رہی ہے لیکن ابھی اسے مثالی پارلیمنٹ بننے میں وقت لگے گا،پاکستان کی پارلیمنٹ پو ری دنیا کی واحد پارلیمنٹ ہے جو کہ مکمل طورپر سولرانرجی پرچل رہی ہے۔۔اس موقع پر روزنامہ دنیا کے سینئر ایڈیٹر ارشاد عارف ، گروپ ایگزیکٹو ایڈیٹر سلمان غنی کے علاوہ سینئر صحافی ایاز خان ، عمرمجیب شامی ، رحمت علی رازی ،نوید چودھری اور دیگر بھی موجود تھے

مزید :

صفحہ اول -