پاک بھارت کشیدگی کے خاتمے کیلئے امریکی بیک ڈور ڈپلومیسی متحرک

پاک بھارت کشیدگی کے خاتمے کیلئے امریکی بیک ڈور ڈپلومیسی متحرک

  

واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی تجزیاتی رپورٹ) پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے مسئلے پر تناؤ تو ہمیشہ سے ہی تھا لیکن حال ہی میں مقبوضہ کشمیر کے اندر اور کنٹرول لائن کے قریب بھارتی فوج کی تازہ کارروائیوں کے بعد صورت حال زیادہ کشیدہ ہوگئی۔ دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ شروع ہونے کے خدشات کے پیش نظر اس خطے کے اہم سٹیک ہولڈرز روس، چین، ایران اور افغانستان دونوں ممالک پر دباؤ ڈالے اور حالات کو معمول پر لانے کے لئے سرگرم ہوچکے ہیں۔اس دوران اس خطے سے باہر اہم سٹیک ہولڈر امریکہ جو ہمیشہ سے پاکستان اور بھارت کے ساتھ اپنے رابطوں میں باہمی تعلقات قائم کرنے کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتا رہا ہے اس مرتبہ زیادہ سرگرم ہوگیا ہے۔ امریکہ نے اپنی مخصوصی حکمت عملی کے باعث اپنی پبلک پالیسی میں کسی ایک فریق کی حمایت یا مخالفت سے گریز کیا ہے اور متنازعہ مسائل کو باہمی بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور ضرور دیا ہے لیکن ایک ثالث کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کے لئے کبھی تیار نہیں ہوا۔پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے امریکہ کی ’’پبلک پوزیشن‘‘ کیا ہے، اس کا اظہار سرکاری حکام اور خصوصاً وزارت خارجہ اور وائٹ ہاؤس کے ترجمانوں کے ذریعے ہو رہا ہے لیکن اس سے مکمل تصویر نظر نہیں آتی۔امریکی وزارت خارجہ کے ذرائع سے اس نمائندے نے اصل اندرونی کہانی جاننے کے لئے رابطہ کیا تو انہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس سلسلے میں چند اہم باتیں بتائیں۔ ایک تو انہوں نے تسلیم کیا کہ اگرچہ امریکہ کا پبلک موقف درست ہے لیکن اصل میں وہ بیک ڈور اس کے کئی قدم آگے چلا جاتا ہے۔ امریکہ بیک ڈور ان دو ممالک کو صرف باہمی بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور نہیں دیتا بلکہ خصوصاً مسئلہ کشمیر پر اس بات چیت کو آگے بڑھانے کے لئے اپنے ماہرین کے تیارہ کردہ مختلف آپشنز بھی ان کے سامنے رکھتا ہے۔ دوسری اہم بات ان ذرائع نے یہ بتائی ہے کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے گزشتہ ہفتے نے جنوبی ایشیا سے متعلق اپنے تین سفارت کاروں کو کشیدگی ختم کرنے میں ہنگامی کردار ادا کرنے کا خصوصی ٹاسک سونپا ہے، جن میں پاکستان اور افغانستان کیلئے خصوصی مندوب رچرڈ اولسن پاکستان میں سفیر ڈیوڈ ہیل اور بھارت میں سفیر رچرڈ راہول ورما شامل ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ سفیر ورما گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں موجود تھے اور وہ ایک تھنک ٹینک سے خطاب کرنے والے تھے لیکن وہ یہ ٹاسک ملنے کے بعد سب کچھ کینسل کرکے ہنگامی طور پر نئی دہلی پہنچ گئے۔ وہ خود بھارتی نژاد ہیں اور بھارتی حکومت سے بہتر طور پر مکالمہ کرسکتے ہیں اور نریندر مودی کی حکومت کو جنگی جنون کا مظاہرہ کرنے سے روکنے کیلئے کوششوں میں مصروف ہیں۔اس دوران امریکی وزارت خارجہ کی پریس بریفنگز میں گزشتہ ایک ہفتے میں کئی بار پاکستان اور بھارت کے درمیان تازہ کشیدگی کے حوالے سے ترجمانوں کو مختلف سوالوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وزات خارجہ کے ترجمان جان کربی اور نائب ترجمان مارک ٹونر نے ہمیشہ کی طرح اپنے طور پر توازن اور غیر جانبداری کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے وہی رسمی موقف دہراتے رہے ہیں کہ دونوں ممالک کو تصادم کی پالیسی اختیار کرنے کی بجائے تمام مسائل کو باہمی بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہئے۔ تاہم جمعرات اور جمعہ کو دونوں ترجمانوں نے الگ الگ ایک اہم بات یہ بتائی کہ بھارت اور پاکستان کی فوجوں کا تمام تر کشیدگی کے باوجود آپس میں گہرا رابطہ ہے۔ انہوں نے بالواسطہ طور پر یہ تسلی دی ہے کہ دونوں طرف کے فوجی حکام طے شدہ پروٹوکول کے تحت آپس میں ہنگامی وائرلیس رابطے میں ہیں۔دونوں ترجمانوں نے انسداد دہشت گردی کے حوالے سے بھی اپنا موقف دہرایا۔ امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ اگر پاکستان اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانے ختم کر دے اور خاص طور پر لشکر طیبہ، حقانی نیٹ ورک اور جیش محمد کو ’’غیر معتبر‘‘ بنا کر ان کے خلاف کارروائی کرے تو ایسی صورت حال میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔ بش انتظامیہ کے دور میں بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ شروع ہونے کا خطرہ پیدا ہوا تھا اور اس خطرے کو ٹالنے میں اس وقت کے وزیر خارجہ کولن پاول نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں پاکستان پر امریکی اثر و رسوخ میں کمی واقع ہوئی، اس لئے ان کی ڈپلومیسی پاکستان کیلئے کتنی کارگر ہوتی ہے کہا نہیں جاسکتا۔ تاہم بھارت پر امریکی اثر و رسوخ میں جو اضافہ ہوا ہے، اسے استعمال کرتے ہوئے بھارت کو جارحیت سے باز رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

مزید :

صفحہ اول -