بھارت کو ایسا جواب دینگے جو کسی کے تصور میں بھی نہیں ہوگا :ترجمان پاک فوج

بھارت کو ایسا جواب دینگے جو کسی کے تصور میں بھی نہیں ہوگا :ترجمان پاک فوج

  

اسلام آباد/مظفر آباد(مانٹیرنگ ڈیسک +اے این این)پاک فوج نے دو روز قبل سرجیکل سٹرائیک کے بھارتی دعوے کو بے نقاب کرنے کیلئے ملکی وغیرملکی میڈیا کی ایک ٹیم کو کنٹرول لائن پر بلا اشتعال فائرنگ سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرایا جہاں بریفنگ میں ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کا کہنا تھا کہ اس روز پاک فوج کی جوابی کارروائی میں بھارت کا وسیع تر جانی نقصان ہوا ،جسے چھپایا جا رہا ہے،بلا اشتعال فائرنگ کو سرجیکل سٹرائیک کا نام دیا گیا ،جنگ کسی کی مفاد میں نہیں ،پاک فوج ہمیشہ کی طرح مادر وطن کے دفاع کے لئے تیار ہے،کوئی بھارتی فوجی راستہ بھول کر پاکستانی حدود میں داخل ہوا ہو تو اس معاملے کو دیکھیں گے،ابھی ایسا کوئی معاملہ ہمارے علم میں نہیں ،بھارت کو ایسا جواب دیں گے جو کسی کے تصور میں بھی نہیں ہوگاوہ آئندہ کسی غلطی کی سوچ بھی نہیں رکھے گا۔آزاد کشمیر کے علاقے باغ سر کے مقام پر میڈیا بریفنگ میں ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ دو روز قبل کنٹرول لائن پر بھارتی اشتعال انگیزی کا پاکستان کی جانب سے بھرپور جواب دیا گیاہے۔ ہمیں یقین ہے کہ بھارت کی جانب بھی کئی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔لیکن پتہ نہیں بھارت اس جانی نقصان کو کیوں چھپا رہا ہے، اس سوال کا جواب بھارتی حکومت ہی دے سکتی ہے۔انھوں نے کہا کہ بلااشتعال فائرنگ کو سرجیکل سٹرائیک کا نام دینا ایک دھوکہ ہے ،بھارت اپنے میڈیا اور عوام کو گمراہ کر رہا ہے۔ہم بھارت کے دعوے کو مسترد کرتے ہیں،میڈیا کو اس دورے کا مقصد بھی بھارتی جھوٹ کو عیاں کر نا ہے ۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ہم بھارتی جارحیت کا ہر جگہ پر جواب دینے کے لئے تیار ہیں، بھارت کو ایسا جواب دیں گے جو کسی کی سوچ میں بھی نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے پہلے بھی وطن عزیز کا دفاع کیا اور اب بھی کرے گی، ملک کی خاطر جو کرنا پڑا کریں گے، جنگ کسی کے بھی مفاد میں نہیں لیکن اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو عوام اور فوج بھرپور جواب دے گی۔بھارتی فوجی کی لائن آف کنٹرول پر پاکستانی علاقے میں گرفتاری کے حوالے سے ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ کوئی بھارتی فوجی اگر راستہ بھول کر اس طرف آیا ہے تو اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں تاہم اگر کوئی فوجی آیا ہوتا تو سب کو نظر آتا۔واضح رہے 29 ستمبر کو ہندوستان کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر بھمبر، کیل، تتہ پانی اور لیپا سیکٹر میں بلااشتعال فائرنگ کی گئی تھی، جس کا پاک فوج نے منہ توڑ جواب دیا، اس واقعہ میں پاک فوج کے 2 اہلکار جاں بحق ہوگئے تھے۔آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کا تبادلہ رات ڈھائی بجے سے صبح 8 بجے تک جاری رہا۔ایل او سی پر فائرنگ کے تبادلے کے چند گھنٹے بعد ہی ہندوستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز(ڈی جی ایم او) لیفٹیننٹ جنرل رنبیر سنگھ نے دعوی کیا کہ 'ہندوستانی فورسز نے گذشتہ رات لائن آف کنٹرول پر سرجیکل اسٹرائیکس کیں'۔تاہم آئی ایس پی آر نے لائن آف کنٹرول پر سرجیکل اسٹرائیکس کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کا فائرنگ کو سرجیکل اسٹرائیکس کا رنگ دینا ایک دھوکہ ہے۔آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ پاک فوج کی جانب سے ہندوستانی فائرنگ کا منہ توڑ جواب دیا گیا۔بعدازاں اس حوالے سے رپورٹس سامنے آئیں کہ لائن آف کنٹرول(ایل او سی) پر ہندوستان کی بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں مخالف فوج کے 6 سے 8 اہلکار ہلاک ہوگئے، جبکہ ایک بھارتی فوجی کو گرفتار کرلیا گیا۔سیکیورٹی ذرائع نے بھارتی فوجیوں کے ہلاک ہونے اور ایک کے گرفتار ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ گرفتار بھارتی فوجی کی شناخت 22 سالہ چندو بابولال چوہان کے نام سے ہوئی، جسے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔بعد میں بھارت نے فوجی کی گرفتاری کی تصدیق کی تھی ۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے بھی بھارتی فوجی کے گرفتار ہونے کی تصدیق کی اور انڈین آرمی افسر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہتھیار سے لیس 37 راشٹریہ رائفلز کا ایک فوجی اہلکار 'نادانستہ' طور پر سرحد عبور کرکے پاکستان میں داخل ہوگیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ غلطی سے سرحد عبور کر جانے کے واقعات، دونوں جانب سے ماضی میں بھی پیش آچکے ہیں اور ایسے افراد کو واپس لوٹا دیا جاتا ہے۔بھارت سفید جھوٹ بولتا ہے پہلے کہا کہ سرجیکل حملہ ہیلی کاپٹرز کے ذریعے کیا گیا میڈیا خود دیکھ لے کہ یہاں پر کسی بھی ہیلی کاپٹر کے آنے اور جانے کا نشان تک نہیں ہے پھردعویٰ کیا کہ پیرا ٹروپرس اتارے تو بتایا جائے کہ انہیں کس نے دیکھا ؟پھر کہا کہ سپیشل سروسز نے آپریشن کیا اس دعوے میں بھی کوئی حقیقت نہیں ہے یہ کیسا سرجیکل آپریشن تھا جس کا ہماری فوج کو پتہ ہی نہیں چلا اور کسی جگہ اور کوئی نشان تک بھی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانچ جگہوں پر سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ بے بنیاد اور سفید جھوٹ ہے اقوام متحدہ کا مبصر مشن خود بھی اس کی تحقیقات کررہا ہے بھارت کہتا ہے کہ اس نے ہمارے فوجیوں کو بڑی تعداد میں شہید کیا تو بتائے کہ ان فوجیوں کے جنازے کہاں ہیں ؟ اگر انہوں نے کسی کو پکڑا ہے تو اس کے ثبوت دیں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی حفاظت کیلئے ہر کوئی جان دینے کو تیار ہے ہمیں اپنے شہداء پر فخر ہے بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے دو جوان شہید جبکہ 9زخمی ہوئے تھے زخمی ہونے والے 9فوجی صحت یاب ہوکر دوبارہ ڈیوٹی پر آگئے ہیں انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ جو موثر جواب ہم نے دیا اس سے بھارت کی بھی ہلاکتیں ہوئی ہیں جنہیں وہ چھپا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت خود جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کررہا ہے اور سویلین آبادی کے انخلاء سے بے چینی پھیلا رہا ہے ہمارے تمام لوگ مورچوں میں موجود ہیں اور کسی بھی خلاف ورزی کا بھرپور جواب ملے گا ۔ ڈی جی ملٹری آپریشنز کے درمیان ہاٹ لائن پر جو رابطہ ہوا اس پر بھی پاکستان نے بلااشتعال فائرنگ پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے پاکستان دہشتگردی کیخلاف جنگ لڑ رہا ہے کیونکہ ہم خود دہشتگردی کا شکار ہیں اور کسی قسم کی دراندازی ہماری پالیسی کا حصہ ہی نہیں ہے ہم دہشتگردی کیلئے اپنی سرزمین کسی کو استعمال نہیں کرنے دینگے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بھارت کی حقیقت پوری دنیا کے سامنے عیاں ہوچکی ہے وہ کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد کی تحریک کو روکنے اور مٹانے میں ناکام رہا ہے اور بوکھلاہٹ میں پاکستان پر الزامات عائد کررہا ہے لیکن پاکستان نے ہمیشہ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے اور کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کے واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے تاکہ حقیقت سامنے آسکے یہ بات واضح ہے کہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہمیشہ بھارت کی جانب سے کی گئی مقبوضہ کشمیر میں جو آزادی کی تحریک چل رہی ہے اس کے روح رواں وہاں کی عوام ہیں اور پاکستان ان کی اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا بھارت کے مظالم مقبوضہ کشمیر میں جاری ہیں اور کرفیو کو 84دن ہوگئے ہیں اس کے باوجود وہاں کی عوام حق خودارادیت کیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -