تحریکِ آزادی کشمیر اور قومی یکجہتی

تحریکِ آزادی کشمیر اور قومی یکجہتی

  

کشمیرجنت نظیرپر گزشتہ 69 سال سے بھارت نے اپنا جابرانہ اور غاصبانہ قبضہ جمارکھاہے بھارت کی آٹھ لاکھ سے زائدپیرا ملٹری افواج نے کشمیریوں کی زندگیوں کواجیرن رکھاہے۔آگ اور خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے۔بے گناہ کشمیریوں کاقتل عام،خواتین کی عصمت دری، اجتماعی زیادتیاں، معصوم بچوں پروحشیانہ تشدد کرکے لاکھوں کشمیریوں کو شہیدکردیاگیا۔ 1989 کے بعد کشمیریوں نے اپنے بنیادی مسلمہ حق خودارادیت کے حصول کے لیے جدوجہد کو تیز کیاتو بھارت اوچھے ہتھکنڈوں پراترآیا اور کشمیری حریت پسند عوام کوگاجر مولی کی طرح کاٹناشروع کردیا۔ 8 جولائی 2016 کو22 سالہ کشمیری حریت راہنمابرہان مظفروانی کو ماورائے عدالت شہید کر دیا گیا جس پر پوری وادی میں شدید غم وغصہ پایا گیا اورشہیدکے جنازہ میں پانچ لاکھ سے زائد کشمیریوں نے شرکت کرکے دنیا کے سامنے بھارتی ظلم وجبر کے خلاف احتجاج کیا۔ شرکاء جنازہ کے ہاتھوں میں پاکستانی پرچم دیکھ کر بھارتی فوجیوں نے بزدلانہ حملہ کرکے ایک سو سے زائد بے گناہ کشمیریوں کو محض اس وجہ سے شہید کردیاکہ وہ حریت راہنمابرہان مظفروانی کے نماز جنازہ میں شریک ہوئے ہیں، یوں انہیں پاکستانی پرچم اٹھانے کی سزا دی گئی۔

برہان مظفروانی کی شہادت کے بعد پاک بھارت تعلقات مزید تناؤ کا شکار ہونا شروع ہوگئے بلکہ اوڑی کے واقعہ کے بعد بھارتی حکومت نے پاکستان پرحملہ کرنے کی دھمکی دے کرپوری دنیا کے امن کو خطرے میں ڈال رکھا ہے جوعالمی امن کے علمبراداروں اوربالخصوص اقوام متحدہ کے لئے ایک چیلنج ہے، ایک طرف اقوام متحدہ مشرقی تمیور میں تورائے شماری کرواسکتاہے مگر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے عالمی منصف کیوں مصلحت کاشکار ہیں۔پاک بھارت بگڑتی ہوئی صورتحال پر اقوام متحدہ نے اپنا موثر اورذمہ دارانہ کردار ادا نہ کیا تو دو ایٹمی قوتوں کے آمنے سامنے آنے سے جنوبی ایشا کے امن سمیت عالمی امن کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اس اہم صورتحال پراقوام متحدہ دونوں ایٹمی قوتوں کو ہیروشیمااورناگاساکی کی تاریخ دہرانے کاموقع نہ دے بلکہ اصل مسئلہ کشمیر کو حل کروانے کے لیے اپنی قرار دادوں پرفوری عملدرآمد کو یقینی بنائے تب جنوبی ایشیا میں امن قائم ہو سکتا ہے ۔ برہان مظفر وانی کی شہادت کے واقعہ کے بعد مقبوضہ کشمیرمیں بہیمانہ تشدد کرفیوکے نتیجہ میں بے گناہ کشمیریوں کا قتل عام کشمیری عوام اور بالخصوص نوجوانوں پر پیلٹ گن سے حملے کرکے آنکھوں کی بینائی سے محروم کرنا، بھارتی فوجیوں کی گھروں میں داخل ہوکرخواتین اوربچوں پرتشدد اورگھرسے خوراک اورکھانے پینے کی اشیاء کوباہرپھینکنے سمیت دیگرایسے المناک واقعات ہورہے ہیں جن سے کلیجہ منہ کوآتاہے۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم میاں محمدنوازشریف نے مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورتحال پرمظفرآباد آکرکشمیری حریت راہنماؤں سے ملاقات کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیرجس جرأت و بہادری اور مدبرانہ طریقے سے پیش کیا، اس نے عالمی امن کے علمبرداروں کی آنکھیں کھول دی ہیں۔ وزیراعظم پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 71 ویں اجلاس سے اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں کے مطابق حل کروانے اورکشمیریوں کے حق خود ارادیت کی غیرمتزلزل حمایت کااعادہ کر کے اس بات کا ثبوت پیش کیا ہے کہ حکومت پاکستان کشمیریوں کے مسلمہ حق خودارادیت کی سیاسی ، سفارتی اوراخلاقی حمایت ہمیشہ جاری رکھے گی۔ وزیر اعظم پاکستان نے عالمی دنیا کو بتایا کہ22 سالہ کشمیری حریت راہنمابرہان مظفروانی کی شہادت کے بعد کشمیری نوجوانوں کی طرف سے بھارت کے خلاف غم وغصہ بہت بڑھ گیاہے ۔ انھوں نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے اقوام متحدہ کی فیکٹس فائنڈنگ کمیٹی کے ذریعے تحقیقات کابھی مطالبہ کیا تاکہUNOکا غیرجانبدارکمیشن مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ، ماورائے عدالت شہادتوں ، کرفیووغیرہ کاخودجائزہ لیکرمقبوضہ وادی کوغیرفوجی علاقہ قراردینے کے لیے اقدامات اٹھائے۔

پاکستان نے ہمیشہ بھارت سے پڑوسی ہونے کے ناطے مسئلہ کشمیرسمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کو بامقصد مذاکرات کے ذریعے حل کروانے کی کوششیں کیں، تاہم بھارت نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر حل کروانے کے حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا اور وہ مختلف حربے استعمال کرکے اپنے غیر قانونی تسلط کو آگے لے جارہا ہے۔

بھارت کی نت نئی چالوں کو بھانپتے ہوئے کشمیریوں کی نئی نسل اب پھر اپنے بین الاقوامی مسلمہ حق خودارادیت کے حصول کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ بھارت تحریک آزادی کودبانے کے لیے بے پناہ مظالم ڈھارہاہے۔ بھارتی مظالم کشمیریوں کے جذبہ آزادی کوروک نہیں سکتے اور نہ ہی کشمیریوں کے حوصلے پست ہوئے ہیں ۔اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے حالیہ دورہ امریکہ اور بالخصوص اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جراتمندانہ خطاب کو ریاست جموں و کشمیر کے دونوں اطراف کے حریت راہنماؤں اور کشمیریوں، پاکستان کی تمام سیاسی ،مذہبی جماعتوں کے

رہنماؤں اور عوام نے زبر دست سراہتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے تمام جماعتوں میں مکمل اتحاد و یکجہتی ہے ۔وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے یو این او جنرل اسمبلی میں جراتمندانہ خطاب سے کشمیریوں کو یقین محکم ہے کہ ان کی آزادی کی تحریک کامیابی سے آگے بڑھے گی ۔ عالمی طاقتیں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سنجیدگی سے دلچسپی لیں تو مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ ہمیں بحیثیت قوم اپنے تمام تر سیاسی،مذہبی اور گروہی اختلافات مٹا کر سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحد و منظم ہو جانا چاہیے تا کہ ہمارے از لی دشمن کو پتہ چل جائے کہ اب حالات 71ء والے نہیں ہیں ۔ آج پاکستان الحمدللہ دنیا کی ایٹمی قوت ہے اورمسلح افواج پاکستان جدید اسلحہ سے لیس ہیں ۔ پاکستان کے 18 کروڑ عوام اور کشمیری بھی جذبہ ایمانی سے سرشار ہیں اور اپنے وطن کے ایک ایک انچ کے دفاع کے لیے مسلح افواج پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں ۔افواج پاکستان کے سپہ سالار چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے دنیا سمیت ہندو ستان کی حکومت کو خبر دار کیا ہے کہ اگر بھارت نے پاکستان کی ایک انچ زمین پرپیش قدمی کی تو اسے کھلی جنگ تصور کریں گے اور وطن کا بھر پور دفاع کریں گے ۔ وزیر اعظم پاکستان اور چیف آف آرمی سٹاف کی طرف سے جراتمندانہ موقف اور پاکستان کی جملہ سیاسی جماعتوں کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے سلسلہ میں قومی یکجہتی سے بھارت کی انتہا پسند قیادت نے دفاعی پوزیشن لے لی ہے ۔ ضرورت ا س امر کی ہے کہ مسلم ممالک کو بھی مسئلہ کشمیر کی نزاکت اور اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے بھارت کے ساتھ اپنے سفارتی اور تجارتی روابط کو مسئلہ کشمیر کے حل سے مشروط کریں تب جا کر بھارت پرمزید دباؤ ڈالا جاسکتا ہے ۔حکومت پاکستان نے عالمی سطح پر جس طریقے سے مسئلہ کشمیر اس بار اٹھایا ہے یہی عزم جاری رہنا چاہیے۔

مزید :

کالم -