رائیونڈ جلسہ کے بعد

رائیونڈ جلسہ کے بعد
رائیونڈ جلسہ کے بعد

  

رائیونڈ کا جلسہ بخیرو عافیت منعقد ہوا، تعداد کتنی تھی یہ سوال فضول ہے، اصل بات یہ ہے کہ ایک بڑا جلسہ ہوا اور بغیر کسی ناخوشگوار واقعہ کے یہ مرحلہ گزر گیا۔ اس کا کریڈٹ پی ٹی آئی کو بھی جاتا ہے اور حکومتِ وقت کو بھی کہ جس نے زعیم قادری تھیوری کو رد کرتے ہوئے جلسے کے شرکاء کو فری ہینڈ دیا اور کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ ذرا سوچیں کہ اگر معاملہ وہی ہوتا جو ڈنڈے اور بلے کی لڑائی کے لئے ماحول تیار کرنے والوں کی حکمت ِ عملی تھی، تو کس قدر گڑ بڑ ہو سکتی تھی ، جگہ جگہ خون خرابہ ہوتا اور کوئی روک نہ پاتا، اِس بڑے جلسے کے پُرامن انعقاد سے پوری دُنیا کو یہ پیغام بھی گیا ہے کہ پاکستان ایک جمہوری مُلک ہے،جہاں اظہارِ رائے کی پوری آزادی ہے۔

حکومت اور مسلم لیگ(ن) نے سُکھ کا سانس لیا ہو گا کہ ایک کڑا مرحلہ بخیرو خوبی گزر گیا۔ ایک دن کا شو تھا، ختم ہو گیا اور اب پھر معاملات اُسی ڈگر پر چلتے رہیں گے،وہی بیان بازی،وہی بحث و مباحثہ ہ، پانامہ لیکس کی تحقیقات کیسے ہونی چاہئے؟ وہی الزامات، وہی سیاسی ٹاک شوز میں گرمی سردی، بس ایک ہی منظر نامہ اور ایک سے سوال جواب ہوں گے لیکن مَیں سوچ رہا ہوں کہ اِس حکمتِ عملی کی ناکامی تو اب واضح ہو چکی ہے۔ ایک مسئلے کو چھ ماہ گزر گئے ہیں، اُسے حل کرنے کی بجائے ٹالنے کی پالیسی کا نتیجہ ہی تو ہے کہ اس کے لئے عوام سنجیدہ ہو گئے ہیں یہ مسئلہ ختم تو ہر گز نہیں ہوا، البتہ ایک بڑا ایشو بن کر اُبھر آیا ہے۔ مَیں تو پہلے دن سے کہہ رہا ہوں کہ اس ایشو سے نمٹنے کی حکومتی حکمتِ عملی مناسب نہیں۔ جس طرح پہلے دن وزیراعظم نواز شریف نے اپنے خطاب میں یہ اعلان کیا تھا کہ وہ خود کو احتساب کے لئے پیش کرتے ہیں، ان کا دامن صاف ہے تو اس پر کار بند رہ کر اِس مسئلے کا حل ڈھونڈنا چاہئے تھا، لیکن وزیراعظم نے اس کے بعد اس سے پسپائی اختیار کی، جس کی قطعاً ضرورت نہ تھی۔ وقت نے ثابت کر دیا کہ وقت گزارنے کے لئے جو پالیسی بنائی گئی، وہ سود مند ثابت نہ ہو سکی۔ الزام ثابت ہوئے بغیر وہ شدید تنقید کی زد میں آ گئے میرے نزدیک رائیونڈ کے جلسے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس نے پانامہ لیکس کے ایشو کو پہلے دن کی طرح زندہ کر دیا ہے۔ ساری سیاسی جماعتیں اپنی تمام تر ذہانت، فطانت اور کوشش کے باوجود اس بات میں ناکام رہیں کہ اس ایشو پر وقت کی گرد ڈال دیں۔

اب محرم کے بعد عمران خان نے اسلام آباد کو بند کرنے کی وارننگ دے دی ہے۔ کپتان کے اب تک ہونے والے اعلانات اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ وہ جو کہتے ہیں اُس پر عمل بھی کر گزرتے ہیں، رائیونڈ کے جلسے پر بڑی تنقید ہوئی، مگر وہ نہ رُکے اور ایک بڑا جلسہ ہوا،اب انہوں نے اسلام آباد بند کرنے کا اعلان کیا ہے تو یہ بھی وہ ضرور کریں گے۔ مَیں یہ سوچ رہا ہوں کہ سلسلہ آخر کہاں جا کے رُکے گا؟ کیا اس کا کوئی سنجیدہ سیاسی حل نہیں ڈھونڈا جاسکتا۔ کیا داؤ پیج آزما کر ہی تحریک انصاف کو اُس راستے پر چلنے سے باز رکھا جا سکتا ہے، جس پر وہ اب تک کامیابی سے چلتی آئی ہے؟ اسلام آباد بند کرنے کے اعلان پر اب وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان یہ بیان ضرور دیں گے کہ کسی کو اسلام آباد پر چڑھائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دوسری طرف وزراء عمران خان کو ’’پاگل خان‘‘ اور ’’جمہوریت کا دشمن ‘‘جیسے خطابات دے کر اپنا فرض پورا کر لیں گے، لیکن کیا اس سے انہونی کو ہونی بننے سے روکا جا سکتا ہے؟ سوال یہ ہے کہ ابھی تک عمران خان کو کہاں جانے سے روکا جا سکا ہے، اُن کے پاس سٹریٹ پاور ہے،وہ کہیں بھی جا سکتے ہیں، ہزاروں لوگوں کو طاقت کے زور پر روکا نہیں جاسکتا۔ سو یہ بات طے ہے کہ محرم گزرنے کے بعد ماحول بہت گرم ہو جائے گا اور حالات کی کشیدگی کہیں زیادہ ہو گی، تو پھر اس کے لئے کیا ہونا چاہئے؟ کیا اس طرح حالات کو پانی کی رفتار سے آگے بڑھنے دیا جائے، یا اس کے آگے کوئی بند باندھا جائے؟ جب تیر کمان سے نکل جائے تو اُسے روکنا ممکن نہیں ہوتا۔ میری تشویش کا نکتہ یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے اگر کچھ بھی نہ ہوا اور عمران خان نے اسلام آباد پر یلغار کر دی تو کیا ہو گا؟ کیا ہم اُس وقت یہ سوچیں گے کہ ہمیں پانامہ لیکس کے ایشو کو حل کرنا چاہئے۔ کیا اُس وقت یہ ترپ کا پتہ بے کار نہیں ہو چکا ہو گا؟

مَیں پانامہ لیکس کے بعد والی فضا کو سیاسی تناظر میں بھی دیکھ رہا ہوں، رفتہ رفتہ یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ پیپلزپارٹی پانامہ لیکس کے ایشو پر حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔ وہ سڑکوں پر نہیں آنا چاہتی اور اُس نے ٹی او آر کے حوالے سے بھی سست روی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ وقت گزار رہی ہے۔ ایک وقت تو ایسابھی آیا تھا کہ وہ اس مسئلے کو سرد خانے میں ڈالنے کی حکمتِ عملی میں کامیاب ہو چکی تھی، جب عمران خان بھی خورشید شاہ کے پیچھے آ کھڑے ہوئے تھے اور ٹی او آر کے مذاکرات نے سڑکوں پر احتجاج کو غیر ضروری قرار دے دیا تھا، لیکن یہ پالیسی تادیر اِس لئے کامیاب نہ ہو سکی کہ سکرپٹ میں اس سے آگے کا مرحلہ لکھا ہی نہیں گیا تھا۔ یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ وقت گزرے گا تو یہ معاملہ خودبخود قصۂ پارینہ بن جائے گا، حالانکہ ضروری یہ تھا کہ کسی نہ کسی شکل میں ٹی او آربنا کر تحقیق کا آغاز کر دیا جاتا، مگر یہ مقصد تھا ہی نہیں، اِس لئے کوئی عملی صورت پیدا نہ ہو سکی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عمران خان اُس جال سے نکل گئے جو انہیں قابو کرنے کے لئے پھیلایا گیا تھا۔

سیاسی قوتوں کی طرف سے یہ حکمتِ عملی کہ کپتان کو تنہا کیا جائے، اُلٹا کپتان کے حق میں ہو گئی اور عوام کی نظر میںیہ واضح ہو گیا کہ کون کہاں کھڑا ہے۔ اب اس کے ایک دوسرے پہلو پر نظر ڈالئے۔ تحریک انصاف واحد جماعت ہے جو گزشتہ ساڑھے تین برسوں سے سڑکوں پر ہے، اُس کا عوام سے براہِ راست رابطہ ہے یہ سب کچھ حکمتِ عملی کے تحت ہوا ہے یا یہ اتفاقات کا نتیجہ ہے، اس سے قطع نظر اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ گزشتہ انتخابات کے بعد سے پی ٹی آئی نے خود کو انتخابی مہم کا حصہ بنایا ہوا ہے۔ بالفرض آج نئے انتخابات کا اعلان ہو جاتاہے تو تحریک انصاف کے لئے کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی کہ وہ خود کو اِس مہم کے ہر اول دستے میں شامل نہ کر سکے۔چنانچہ مَیں سمجھتا ہوں تحریک انصاف کو اپنی ساری مہم جوئی سے اور کچھ حاصل ہوا ہو یا نہ ہوا ہو، اُس نے خود کو عوام میں پوری طرح زندہ رکھا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حکمران جماعت کے بعد دوسری بڑی جماعت کے طور پر اُبھری ہے اور ضمنی انتخابات میں شکست کے باوجود وہ مسلم لیگ(ن) کے امیدواروں کا کڑا مقابلہ کر چکی ہے، جبکہ پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتیں بہت پیچھے رہ گئی ہیں۔

محرم گزرنے میں دیر نہیں لگنی اور عمران خان بھی اسلام آباد کو بند کرنے کی تاریخ دینے میں تاخیر نہیں کریں گے، تو کیا حالات کو جوں کا توں آگے بڑھنے دیا جائے یا اُن کے آگے بند باندھنے کی سنجیدہ کوشش کی جائے؟ مَیں سمجھتا ہوں دوسرا آپشن ہی وقت کی ضرورت ہے۔ مُلک میں سیاسی استحکام از حد ضروری ہے۔ دارالحکومت پر ایک بڑی سیاسی جماعت کی چڑھائی پوری دُنیا میں ہماری جگ ہنسائی کا باعث بنے گی،لیکن عمران خان کو صرف اِس دلیل کے ذریعے اسلام آباد کو بند کرنے سے روکنا ممکن نہیں ہوگا۔ میری تجویز تو یہ ہے کہ وزیراعظم محمد نواز شریف فوری طور پر ایک آل پارٹیز کانفرنس بلائیں،جس میں تحریک انصاف کی شرکت کو یقینی بنایا جائے۔ اس کانفرنس میں جہاں بھارت کے جنگی جنون کا معاملہ زیر بحث لایا جائے وہیں پانامہ لیکس کے ایشو پر بھی اجتماعی فیصلہ کر کے اس کا حل نکالا جائے۔ یہی ایک راستہ ہے جو ہمیں بے یقینی اور انہونی کے خوف سے نکال سکتا ہے، رائیونڈ کے جلسے نے یہی پیغام دیا ہے۔

مزید :

کالم -