کنٹرول لائن پر بھارتی فائرنگ،مقبوضہ کشمیر کے حالات سے توجہ ہٹانے کی کوشش

کنٹرول لائن پر بھارتی فائرنگ،مقبوضہ کشمیر کے حالات سے توجہ ہٹانے کی کوشش

  

تجزیہ:چودھری خادم حسین

کنٹرول لائن پر ہر روز فائرنگ ہونے لگی اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ بھارتی حکمران مقبوضہ کشمیر کے اندر شروع ہونے والی تحریک آزادی کو دبانے اور دنیا کی توجہ ادھر سے ہٹانے کے لئے روائتی دشمنی کا مظاہرہ کررہے ہیں کہ پاکستان کی طرف سے تنازعہ کشمیر کو اقدام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے دنیا بھر کے ممالک کو حالات سے آگاہ کیا گیا اور پاکستان مسلسل یہ مہم چلا رہا ہے جس کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سے ملاقات کر کے ان کو کشمیریوں کی مظلومیت اور بھارتی ظلم سے آگاہ کیا، بان کی مون نے افسوس کا اظہار کیا اورخواہش ظاہر کی کہ دونوں ممالک تدبر اور تحمل کا مظاہرہ کریں، ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کو مان لیا جائے تو وہ خود دونوں ممالک کے درمیان حالات بہتر بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

دوسری طرف امریکی ترجمان نے بتایا کہ امریکہ پاکستان اور بھارت کے ساتھ رابطے میں ہے اور دونوں ممالک کو چاہیے کہ آپس میں مذاکرات کریں، روس نے اپنی جگہ لڑائی کی مخالفت کی اور کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف ضرور کارروائی کرے گا، اس طرح یہ احساس پایا جاتا ہے کہ دنیا اس مسئلہ سے پوری طرح آگاہ اور اپنی اپنی پالیسیوں کے مطابق عمل کررہی ہے، روس نے پاکستان سے اچھے تعلقات کا آغاز کرتے ہوئے بھی دہشت گردوں کے حوالے سے امریکی موقف کے قریب تربات کی ہے۔

یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ پاکستان خارجہ پالیسی کے حوالے سے خاموش ہے لیکن یوں احساس ہوتا ہے کہ جتنی برق رفتار اور ثبوتوں کے ساتھ کوشش کی ضرورت ہے اتنی نہیں ہو پارہی، حکومت اور خصوصاً وزیر اعظم کو غور کرنا ہوگا اور نہ صرف بیرونی سفارت کارون کو جارحانہ مہم چلانے کی کوشش کرنا ہوگی بلکہ خود ملک کے اندر حالات پر گہری نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے جس میں اپنے پرائے کی صحیح جھلک نظر آئے، حکومت اس سلسلے میں اپنے طریق کار کے مطابق عمل کررہی ہے، اور مطمئن بھی ہے لیکن حالات تو یہ ہیں کہ محترم اچکزئی پھر سے درفنطنی چھوڑ بیٹھے ہیں، ان کا فاٹا سے تعلق ہے۔

وزیر اعظم نے پیر کے روز پارلیمانی سربراہوں کا اجلاس بلایا ہے جسے کل جماعتی کا نفرنس کہا جارہا ہے، اجلاس بلانے کی جو اطلاع ہے اس سے اندازہ ہی نہیں یہ نظر آتا ہے کہ یہ اجلاس پارلیمان میں نمائندگی رکھنے والی جماعتوں کا ہوگا اور جن کی نمائندگی نہیں وہ شامل نہیں ہوں گی، شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان عوامی تحریک کے سیکریٹری جنرل گنڈا پورنے مخالفت بھی کردی ہے، کیا یہی بہتر ہوتا ہے کہ یہ اہتمام بھی ساتھ کرلیا جاتا کہ پارلیمان میں نمائندگی نہ رکھنے والی اہم جماعتوں کو بھی مشاورت میں شریک ہونے کا موقع ملتا،یوں وسیع تر یکجہتی کا اظہار ہوتا۔

بہر حال بھارت کنٹرول لائن پر چھیڑ چھاڑ شروع کر کے مقبوضہ کشمیر کے اندر والی تحریک کی خبروں کو کچھ کم کرنے میں کامیاب ہوگیا کہ ساری توجہ پاک بھارت کشیدگی کی طرف مبذول ہوگئی ہے، اور دنیا بھی اسی بات پر دونوں کو تحمل کا درس دے رہی ہے، ویسے امریکہ کی طرف سے تو کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک سے رابطہ ہے، جان کیری نے بھی سشما سوراج سے دوبار بات کی تھ، اس سے یہ واضح ہوتا ہے، کہ دنیا غافل نہیں،امریکہ اور چین کے بعد اب روس نے بھی بیان دیا ہے اور تحمل ہی کی بات کی ہے، اس سلسلے میں یقیناًسفارت کاری بھی ہو رہی ہوگی، دعا ہے کہ اگر پس پردہ کوئی کوشش ہو رہی ہے تو وہ کامیاب بھی ہو، اس وقت تک بھارتی حکومت انتہا پسندی پر خود اتری ہوئی ہے اس لئے جس نے بھی ہمت کر کے کوشش کرنا ہے اسے زیادہ توجہ دینا ہوگی ،کشیدگی اور پھر جنگ کسی مسئلہ یا تنازعہ کا حل نہیں۔

مزید :

تجزیہ -