پاپائے روم کی روس پر بالواسطہ تنقید

پاپائے روم کی روس پر بالواسطہ تنقید

  

تبلیسی (اے پی پی) پوپ فرانسس نے جارجیا آمد پر روس پر بالواسطہ تنقید کرتے ہوئے قوموں کے خود مختارانہ حقوق اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کا مطالبہ کیا ہے،پوپ فرانسس مختلف مذہبی اور دعائیہ عبادات میں شریک ہو کر عراق اور شام میں قیام امن کے لیے خصوصی دعائیں بھی کریں گے۔جرمن ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ مطالبہ پاپائے روم نے صدارتی محل میں اپنے خطاب کے دوران کیا۔کیتھولک مسیحی عقیدے کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس دو روزہ دورے پر سابق سوویت جمہوریہ جارجیا پہنچے ہیں۔صدارتی محل میں استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پوپ فرانسس نے روس پر ڈھکے چھپے انداز میں تنقید کرتے ہوئے اور اس کا نام لیے بغیر اس سے پڑوسی ریاستوں کی خود مختاری کے حقوق کے احترام کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے جارجیا کی صورتِ حال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں ریاستوں کے باہمی تعلقات میں بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کی خود مختاری کے حق کو پسِ پشت نہیں ڈالا جا سکتا۔

اپنے دورے کے دوران پوپ فرانسس نے جارجیا کے آرتھوڈوکس چرچ کے رہنما پیٹری آرک اِلیا ثانی سے بھی ملاقات کی ہے۔ وہ مختلف مذہبی اور دعائیہ عبادات میں شریک ہو کر عراق اور شام میں قیام امن کے لیے خصوصی دعائیں بھی کریں گے۔ پوپ فرانسس روم واپس لوٹنے سے قبل ایک دن کے لیے پڑوسی ملک آذر بائیجان میں قیام کریں گے جو زیادہ تر مسلم اکثریتی آبادی والا ملک ہے۔

مزید :

عالمی منظر -