یاسین ملک کی حالت تشویشناک، آئندہ 48گھنٹے ان کی زندگی کیلئے اہم ہیں: اہلیہ

یاسین ملک کی حالت تشویشناک، آئندہ 48گھنٹے ان کی زندگی کیلئے اہم ہیں: اہلیہ

  

اسلام آباد (آئی این پی ) حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ یاسین ملک کی حالت انتہائی تشویشناک ہے، آئندہ اڑتالیس گھنٹے ان کی زندگی کے لئے انتہائی اہم ہیں، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کو خط لکھا ہے کہ وہ یاسین ملک اور دیگر حریت قیادت کو بھارتی قید سے نجات دلائیں اور یاسین ملک کو ہسپتال منتقل کروائیں،کشمیر میں پیلٹ گنز کے استعمال کے ساتھ ساتھ اب خواتین کی آبروریزی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، ڑف ایک واقعہ میں ایک گاوں میں بھارتی قابض افواج نے 150 خواتین کی آبروریزی کی۔ وہ ہفتہ کو یہاں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کر رہی تھیں۔انہوں نے کہا کہ یاسین ملک کی طبی حالت انتہائی تشویشناک ہے ،ڈاکٹرز کے مطابق آئندہ اڑتالیس گھنٹے یاسین ملک کی زندگی کے لئے انتہائی اہم ہیں، ان کا دل اور گردے انتہائی خراب حالت میں ہیں، ڈاکٹروں کے مشوروں کے باوجود ان کو آئی سی یو میں داخل کرنے کی بجائے بھارتی فوج نے انہیں ایک تفتیشی کیمپ کے تنگ قیدخانے میں رکھا ہوا ہے،مشعال ملک کا کہنا تھا کہ نہ صرف یاسین ملک بلکہ ضعیف العمر سید علی گیلانی اور دیگر حریت راہنماوں کو بھی بھارتی قید میں ظلم و ستم اور صعوبتوں کو سامنا ہے۔ یاسین ملک کی اہلیہ ہونے کے ناتے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان مون کو خط لکھا ہے کہ یاسین ملک اور دیگر حریت راہنماوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور یاسین ملک کو ہسپتال منتقل کیا جائے، یاسین ملک دہشت گرد نہیں بلکہ سیاسی قیدی ہیں،160یاسین ملک کی اہلیہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے اڑھائی ماہ سے کشمیریوں کے کھانے پینے کی اشیاء4 اور جان بچانے والی ضروری ادویات پر پابندی عائد کر رکھی ہے،کشمیری جان بچانے کے لئے اپنا کھانا مل بانٹ کر استعمال کر رہے ہیں،مقبوضہ کشمیر میں خوراک و ادویات کی قلت کے باعث صورتحال ایک برے انسانی المیہ کی جانب بڑھ رہی ہے اور کشمیر کی ایک کروڑ آبادی اس انسانی المیہ کا نشانہ بن سکتی ہے،مشعال ملک نے بتایا کہ کشمیر میں پیلٹ گنز کے استعمال کے ساتھ ساتھ اب خواتین کی آبروریزی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، ڑف ایک واقعہ میں ایک گاوں میں بھارتی قابض افواج نے 150 خواتین کی آبروریزی کی، بھارت نہ صرف کشمیر بلکہ خطے کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔

یاسین ملک

مزید :

صفحہ آخر -