پاکستان اور بھارت دو طرفہ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کریں :امریکہ

پاکستان اور بھارت دو طرفہ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کریں :امریکہ

  

 واشنگٹن(اے این این) بھارت اور پاکستان کے مابین کشیدگی کے معاملے پرتحمل برتنے اور مذاکرات کی راہ اپنانے پر زور دیتے ہوئے محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ جوہری ہتھیار استعمال نہ کرنا جوہری ملکوں کی واضح ذمہ داری ہے۔جوہری معاملے پر کسی قسم کی غیر ذمہ دارانہ بیان بازی قابلِ تشویش معاملہ ہے، دونوں طرف سے سخت گیر بیان بازی ہماری نظروں سے گزری ہے ،دونوں ملکوں کے اعلیٰ فوجی حکام کا آپس میں رابطہ ہوا ہے،امید ہے تناؤ میں اضافہ نہیں ہوگا،پاکستان اور بھارت تحمل کا مظاہرہ کریں ،مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی راہ اپنائی جائے،ہمسایوں میں تناؤ کسی کے مفاد میں نہیں۔ میڈیا کو معمول کی بریفنگ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ کے معاون ترجمان مارک ٹونر نے اِس بات تصدیق کی کہ جنوبی ایشیا کے دونوں ملکوں کی جانب سے کی گئی سخت گیر بیان بازی ان کی نظروں سے گزری ہے۔ اِس ضمن میں ایک اخباری نمائندے نے نیو یارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کا ذکر کیا۔ترجمان نے کہا کہ دونوں ہمسایوں میں تنا ؤکی صورت حال کسی کے مفاد میں نہیں اور یہ کہ جوہری معاملے پر کسی قسم کی غیر ذمہ دارانہ بیان بازی قابلِ تشویش معاملہ ہے۔مارک ٹونر نے بتایا کہ پاکستان اور بھارت کی فوج کے اعلی سطحی رابطے ہوئے ہیں اور اِس توقع کا اظہار کیا کہ کشیدگی میں مزید اضافہ نہیں ہوگا۔اس کے علاوہ، انھوں نے کہا کہ اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی بھارتی بیرونی امور کی وزیر سشما سوراج اور دیگر اعلی حکام سے گفتگو ہوئی ہے جس کے متعلق باضابطہ اخباری بیان جاری کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اس معاملے پر ہمیں تشویش ہے اور ہم چاہیں گے کہ کشیدگی نہ بڑھے۔ترجمان نے کہا کہ ضرورت اِس بات کی ہے کہ پاکستان لشکر طیبہ، حقانی نیٹ ورک اور جیش محمد کے خلاف بلا تفریق، سخت کارروائی کرے۔اس سوال پر آیا بھارت کی جانب سے فی الواقع کسی طرح کی سرجیکل اسٹرائیک کی گئیں، ترجمان نے کہا کہ اس بات کی تصدیق کرنا یا نہ کرنا ان کا کام نہیں۔ مبینہ سرجیکل اسٹرائیک کی تصدیق امریکا کو نہیں پاکستان اور بھارت نے کرنی ہے۔ان کا کہنا تھا پاک بھارت تعلقات میں خلل اور کشیدگی نہیں چاہتے ۔ حالیہ صورتحال پر جان کیری بھارتی قیادت سے رابطے میں ہیں ۔ بھارتی جارحیت پر پاکستان کے ممکنہ رد عمل کے حوالے سے سوال پر مارک ٹونر کا کہنا تھا کہ ایٹمی ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ میزائل صلاحیتوں اور ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں محتاط رہیں۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -