کھوجی کتوں کے ذریعے انسانیت کی تذلیل جاری‘ بیگناہ جیلوں میں سزا کاٹنے پر مجبور

کھوجی کتوں کے ذریعے انسانیت کی تذلیل جاری‘ بیگناہ جیلوں میں سزا کاٹنے پر ...

  

سلطان پور(نامہ نگار)سپریم کورٹ کی طرف سے پابندی کے باوجود ڈاگ سنٹروں کے مالکان لوٹ مار میں مصروف،ملک میں جنگل کاقانون ،کھوجی کتوں کے باعث کئی بے گناہ جیلوں میں سزا کاٹنے پر مجبور ہوگئے تفصیل کیمطابق ،خیرپور،سیت پور،علی پور،جتوئی،میرہزار کے علاقوں میں کھوجی کتوں ڈاگ سنٹروں کے ایجنٹ انسانیت کی تذلیل میں مصروف پولیس اپنی جان چھڑانے کیلئے(بقیہ نمبر29صفحہ12پر )

مقدمات درج کرکے بے گناہوں کو جیل بھجوا دیتی ہے کھوجی کتوں کے نامزد کردہ افراد پنچائت میں صرف کتوں کی غلط نشاندہی پر قرآن پاک اٹھانے پر مجبور، کھوجی کتوں کی وجہ سے کئی خاندانوں میں دشمنیاں جنم لے رہی ہیں کھوجی کتوں کو کسی بھی چوری کا پتہ نہیں چلتا کھوجی کتوں کا مالک سرچ کرنے والے کتے کو مخصوص کوڈ،اپنا کام کرو،تلاش کرواور جس گھر میں کتے کو داخل کرانا مقصود ہووہاں پر کتے کو کہاجاتاہے کہ فائنل کرو اورلفظ فائنل پرکتا نزدیکی گھرمیں جاکر بیٹھ جاتاہے جس سے اس گھرانے پر چوری کی ریکوری ڈال دی جاتی ہے یا پھر صرف کتے کی وجہ سے قرآن پاک پر حلف لیاجاتاہے جوکہ غیر شرعی اورغیر اسلامی غیرقانونی طریقہ ہوتاہے اکثر ڈاگ سنٹر کے مالک مقامی کھوجی سے رابطہ کرکے ٹارگٹ حاصل کرلیتاہے اوکاڑہ،بہاولپور،ملتان،آرمی ریٹائرڈ آفیسر کسی میجرکے نام پر ڈاگ سنٹروں کے دفاتر کھلے ہوئے ہیں جوکہ اپنے ایجنٹوں کے ذریعے وزیٹنگ کارڈ پھیلاتے ہیں اورچوری تلاش کرنے کا معاوضہ 15ہزار سے 20ہزار روپے اوردوبارہ کتاچھوڑنے پر بھی فیس ڈبل کردی جاتی ہے طے شدہ مقام پر کتے کے بیٹھتے ہی بھاری فیس لے کر مافیا رفوچکر ہوجاتاہے ان درندوں کے خلاف آج تک کوئی کاروائی نہیں کی گئی پرائیویٹ سراغ رساں کتوں کے سنٹروں کے ایجنٹ جگہ جگہ موجود متاثرہ شخص کو اپنی چرب زبانی سے منٹوں میں قائل کرلیتے ہیں اوراپنا کمیشن کھرا کرنے کیلئے ڈاگ سنٹرفون کرکے تمام معلومات شیئرکرلیتے ہیں کہ کتے کو کس سمت میں چلاناہے ٹارگٹ مشرق ،مغرب ،شمال ،جنوب میں ہے ڈاگ سنٹروں میں موجود کتے ایکسپائر ہوتے ہیں جب کتے کو چوری کی تلاش کیلئے چھوڑاجاتاہے تواس وقت پولیس کانسٹیبل بھی ان کے ہمراہ ہوتاہے کتوں کے ذریعے ٹریس کردہ گھر کے افراد اورمدعی کے مابین دشمنی کی بنیادی پڑجاتی ہے مگر آج تک ان ڈاگ سنٹروں کے خلاف کاروائی نہیں کی گئی ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت پنجاب کی جیلوں میں ہزاروں افراد ان کتوں کی وجہ سے جیل میں ہیں اور ناکردہ جرم کی سزا کاٹ رہے ہیں اگر کسی چوری ڈکیتی کے دوران کسی بھی شخص کی ہلاکت ہو جائے توپولیس تفتیش یانکوائری کی بجائے کھوچجی کتے بلانے کا مشورہ دیتی ہے اور جس گھر میں کتے داخل ہوجائیں توقتل کے سنگین جرم میں بے گناہ معصوم بچیوں کوبھی دیت کردیاجاتاہے جوکہ معاشرے کے منہ پر کالک کے برابر ہے میرہزار خان کے ایس ایچ او اقبال چانڈیہ نے کتوں سمیت واچ سنٹر کے مالک کو حوالات میں بند کردیاتھا واچ سنٹرکے ایجنٹ نے برملا یہ بتلایاتھا کہ ہمیں کچھ پتہ بھی نہیں چلتا ہم توایجنٹ یا کھوجی کے اشارے پر ٹارگٹ والی جگہ کتے کو لے جاتے ہیں ہمارے کتوں کو بھی علم تک نہیں ہوتا نہ یہ سرچ کرسکتے ہیں ۔حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری طورپران سرچ سنٹروں پرپابندی لگائے اورپولیس کو واضح احکامات جاری کریں کہ وہ کتوں کی نشاندہی پرکسی قسم کی ایف آئی آر درج نہ کریں تاکہ بے گناہ لوگ ناکردہ جرم کی سزا سے بچ سکیں۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -