’دنیا کا وہ علاقہ جہاں بالغ ہوتے ہی لڑکی کا ایڈز زدہ شخص سے ریپ کروایا جاتا ہے کیونکہ۔۔۔‘

’دنیا کا وہ علاقہ جہاں بالغ ہوتے ہی لڑکی کا ایڈز زدہ شخص سے ریپ کروایا جاتا ...
 ’دنیا کا وہ علاقہ جہاں بالغ ہوتے ہی لڑکی کا ایڈز زدہ شخص سے ریپ کروایا جاتا ہے کیونکہ۔۔۔‘

  

للنگوے(مانیٹرنگ ڈیسک) باقی دنیا میں کسی کو ایڈز کا موذی مرض لاحق ہو جائے تو اس کی دنیا ہی اجڑ جاتی ہے مگر افریقی ملک ملاوی کے اس شخص کے لیے ایڈز ذریعہ آمدن ثابت ہوئی ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق ملاوی میں جنوبی علاقے میں ایک انتہائی قبیح رسم پائی جاتی ہے جس کے تحت ہر بالغ ہونے والی لڑکی کو کسی ایڈز کے مریض سے جنسی تعلق استوار کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ گاﺅں کے سرکردہ لوگ ایڈز کے مریض مردوں میں سے ایک کو اس کام کے لیے منتخب کرتے ہیں اور پھر اس کی ڈیوٹی ہوتی ہے کہ وہ ہر جوان ہونے والی لڑکی کو تین دن تک اپنے پاس رکھے اور اس سے جنسی تعلق قائم کرے۔ اس کے عوض اس مرد کو ادائیگی بھی کی جاتی ہے۔

’میں لوگوں کو قتل کرکے اُن کی لاشوں کے ساتھ یہ شرمناک کام کرتی ہوں‘ دنیا کی خطرناک ترین لڑکی نے ایسا اعلان کردیا کہ سن کر آپ کی گھبراہٹ کی بھی انتہا نہ رہے گی

رپورٹ کے مطابق اس شخص کا نام ایرک انیوا ہے جسے گاﺅں کے سربراہوں نے اس کام پر تعینات کر رکھا ہے۔ اسے ہر لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے عوض 5پاﺅنڈ (تقریباً ساڑھے 700روپے) ادا کیے جاتے ہیں۔اس کے پاس تین دن رہنے سے لڑکیاں حاملہ ہو جاتی ہیں اور پھر ان کا اسقاط حمل کروایا جاتا ہے جس کے بعد انہیں ’پاک‘ تصور کیا جاتا ہے۔ ایرک کا کہنا ہے کہ ”میں اب تک جن لڑکیوں کو’پاک‘ کر چکا ہوں ان میں سے اکثر کی عمر 12، 13سال ہوتی ہے مگر میں زیادہ عمر کی لڑکیوں کو ترجیح دیتا ہوں۔وہ لڑکیاں میرے پاس آنے میں خوشی اور فخر محسوس کرتی ہیں۔میرے ذریعے ایڈز کا شکار ہونے والی لڑکیاں اپنے اس مرض میں مبتلا ہونے پر فخر کرتی ہیں اور تفاخر کے ساتھ لوگوں کو اس بارے میں بتاتی ہیں اور ان کے سامنے میری تعریف کرتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایرک نے دو شادیاں کر رکھی ہیں اور اپنی دونوں بیویوں اور بچوں کے ساتھ رہتا ہے۔ اس کی ایک بیوی فینی انیوا بھی ان خواتین میں شامل ہے جنہیں یہ زیادتی کا نشانہ بنا چکا ہے۔ فینی انیوا نے اپنے شوہر کی باتوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ”میں اپنے شوہر کی ”نوکری“ سے نفرت کرتی ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ ہمارے علاقے سے یہ رسم ختم ہو جائے۔ ہمیں اس جیسے مردوں کے پاس جانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اس میں ہماری کوئی مرضی شامل نہیں ہوتی۔ ہم خواتین کے لیے یہ عمل بہت افسوسناک ہوتا ہے۔“ گاﺅں کے ایک بزرگ کا کہنا تھا کہ ”ہم اپنی لڑکیوں کے ساتھ یہ عمل اس لیے کرواتے ہیں تاکہ وہ بے راہرو نہ ہو جائیں اور شادی کے بعد شوہر کی فرمانبردار رہیں۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -