نیا پنجاب ،خوش آئیند جھلک

نیا پنجاب ،خوش آئیند جھلک
نیا پنجاب ،خوش آئیند جھلک

  

پنجاب کے تمام شہروں کو محفوظ تر بنانے کے پراجیکٹ safe cities کے نوزائیدہ خدوخال پر نظر ڈالی جائے تو امید کی کرن جاگ اٹھتی ہے کہ ایک اتھارٹی کے تحت پنجاب کے جن شہروں میں جدید ٹیکنالوجی اوربہترین انفراسٹرکچر کے تحت پولیس کو لیس کرکے جرائم پر قابو پانے کی کوششیں کی جائیں گی اسکے بعد پنجاب ایک آئیڈیل صوبہ بن سکتا ہے۔تاہم ابھی تک عوام اس منصوبے کے متعلق آگاہ نہیں ہیں کہ انکی حکومت نے سیف سٹی اتھارٹی بنا کر پنجاب کے بڑے 2000 حساس مقامات پر 10ہزار سکیورٹی کیمرے لگانے،ڈولفن پولیس کا دائرہ کار بڑھانے ،جی پی آر سسٹم سے پولیس اور جائے وقوعہ کی ٹریکنگ مانیٹر کرنے ،لاہور میں ٹریفک سگنل پر سکیننرز لگا کر سگنل توڑنے اور اوورسپیڈ گاڑیوں کے ای ٹکٹنگ سے چالان انکے گھروں تک پہنچانے سمیت ایسے اقدامات بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا ہے جس سے پنجاب میں جدید مہذب دنیا کی جھلک کو دیکھاجاسکے گا۔

اس تیزترین اور باہمی رابطوں سے منسلک نظام کاطریقہ کار یہ ہوگا کہ جونہی کوئی شہری کسی حادثہ یا جرم میں گرفتار ہوگا وہ ہیلپ لائن ۵۱ پر فون کرکے پولیس کو مطلع کرے گا تو قریبی علاقہ سے ڈولفن فورس جائے وقوعہ پر پہنچ کر ہر طرح کے اقدامات کرے گی۔دیکھا جائے توتیز تر نظام کا زیادہ انحصار ڈولفن فورس پرکیا جائے گا جو سٹریٹ کرائمز کے خاتمہ میں بنیادی کردار ادا کرے گی۔اسکی ذمہ داریوں کا تعین کیا جاچکا ہے ۔اس وقت لاہور میں 700 ڈولفن جوان سرگرم عمل ہیں جبکہ اس فورس کو لاہور میں 3000تک بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جبکہ 800 ڈولفن جوان زیر تربیت ہیں۔تین شفٹوں میں کام کرنے والی ڈولفن فورس کی مدد سے لاہور میں سٹریٹ کرائم 43 فیصد تک کم ہوچکے ہیں اور اس ماڈل کو عنقریب پورے پنجاب تک پھیلا کر جہاں سٹریٹ کرائمز کا خاتمہ کیا جائے گا وہاں پولیس کی ساکھ بالخصوص تھانہ کلچر میں تبدیلی بھی لائی جائے گی۔

اس تناظر میں گویا کہا جاسکتا ہے کہ پنجاب پولیس کو صوبے کی ترقی کی شاہراہ صاف کرنے کا ٹاسک دیا گیاہے جو لااینڈ آرڈر کو یقینی بنائے گی تاکہ پنجاب میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ عوام کو بھی جان و مال کا تحفظ حاصل ہو۔اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ جرائم بڑے ملکوں میں بھی رونما ہوتے ہیں اور کوئی بھی معاشرہ انسانی جبلت کے اس منفی عمل سے محفوط نہیں رہ سکتا تاہم ان ملکوں کا ریپڈسکیورٹی سسٹم معمولات زندگی کو متاثر نہیں ہونے دیتااور عوام کو یہ یقین ہوتا ہے کہ اگر ان کے ساتھ کوئی حادثہ یا کوئی جرم وقوع پذیر ہوتا ہے تو انکی فورسز انکی مدد کو آن پہنچیں گی اور یوں معاشرہ خوف کے چنگل سے نکل آتا ہے ۔ پنجاب میں بھی اسی وژن پر کام کو ترجیح دی جارہی ہے اور مختلف اداروں کی تشکیل سے خواب کو حقیقت بنایاجارہا ہے۔تاہم نئے اداروں میں خامیاں اورکمزوریاں بھی موجود ہیں اور انکی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان موجود ہیں لیکن امید بہر حال قائم رکھنے کی ضرورت ہے کہ جس غرض سے ان اداروں کو قائم کیا گیا ہے انہیں وسائل مل گئے توان سے بہتر کام بھی لیا جاسکے گا۔

اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ پورے ملک میں بہترین انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے لیکن پنجاب میں جرائم کی شرح دیکھی جائے تو امن عامہ اور ترقی کی رفتار کو قائم رکھنے کے لئے پنجاب پر توجہ دینے کی زیادہ ضرورت ہے۔قتل ،ڈکیتی،راہزنی،زنابالجبر ،اغوا جیسے جرائم میں پنجاب دوسرے تمام صوبوں سے آگے ہے۔اس صورت میں غیر ملکی سرمایہ کاری تو کیا مقامی طور پر کاروباری لوگوںکو تحفظ دینابھی مشکل ہوگا۔ پنجاب کو بدل کر دنیا کاایک ماڈل صوبہ بنانے کا عزم رکھنے والے خادم پنجاب شہباز شریف کی نظر میں جرائم کا خاتمہ کرکے ہی روشن پنجاب کی بنیادوں کو مضبوط کیا جاسکتا ہے۔ وہ غیر ملکی سرمایہ داروں کو پنجاب میں لارہے ہیں ۔ا س وقت پنجاب میں ترکی اور چین دوبڑے ملک دکھائی دیتے ہیں جو پنجاب میں کئی طرح سے انوسٹمنٹ کررہے ہیں ۔جبکہ کئی ملکوں کی کمپنیاں اپنی برانڈز کو پاکستان میں متعارف کرکے وسیع الحجم سرمایہ کاری کرچکی ہیں ۔پنجاب کو بہترین صوبہ ثابت کرنے کے لئے پنجاب انوسٹمنٹ بورڈ امریکہ، جرمنی، آسٹریلیا،کینیڈا،چین ،کوریا سمیت کئی ملکوں کے صحافیوں اور سرمایہ کاروں کوپنجاب کے مختلف شہروں کا دورہ کراچکی ہیں۔غیر ملکی صحافی جب واپس جاتے ہیں تووہ دنیا میں پنجاب کا امیج اجاگر کرتے ہیں ۔لہذا ان حالات میں جب پنجاب کی صنعتی ترقی کو ترجیحی بنیادوں پر اجاگر کرنے کے موٹرز ویز ،اورنج ٹرین اور ریپڈ بس سروس جیسے منصوبوں کو تعمیر کیا جارہا ہے تو امن عامہ ایک اہم سوال پیدا کرتا ہے کہ جس ملک میں دہشت گردی کی جنگ جاری ہو وہاں پنجاب کیسے محفوظ رہ سکتا ہے۔جہاں ناخواندگی،بے روزگاری جرائم اور بیماریوں کا باعث بن رہی ہو وہاں انصاف اور بنیادی حقوق کیسے پورے ہوسکتے ہیں ؟ان سارے سوالوں کا حل تلاش کرنے لئے پنجاب میں ہر سطح پر جدید اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا جاچکا ہے اور یہاں انسانی حقوق سے لیکر پولیس ریسکیو تک ایسے اداروں کی تشکیل کی جارہی ہے جو لوگوں کو انصاف مہیا کرے گی جبکہ امن عامہ بحال ہونے کی وجہ سے صنعتوں اور دیگر اداروں کی تشکیل سے ملازمتوں کا بھی موقع ملے گا۔

مزید :

بلاگ -