سائنسدانوں نے 5ہزار سال پہلے مرنے والے شخص کی لاش کی آواز دنیا کو سنا دی ،یہ کیسے ممکن ہے ؟جان کر آپ کیلئے یقین کرنا مشکل ہو جائے گا ،ہر طرف کھلبلی مچ گئی ،دنیا حیران پریشان رہ گئی

سائنسدانوں نے 5ہزار سال پہلے مرنے والے شخص کی لاش کی آواز دنیا کو سنا دی ،یہ ...
سائنسدانوں نے 5ہزار سال پہلے مرنے والے شخص کی لاش کی آواز دنیا کو سنا دی ،یہ کیسے ممکن ہے ؟جان کر آپ کیلئے یقین کرنا مشکل ہو جائے گا ،ہر طرف کھلبلی مچ گئی ،دنیا حیران پریشان رہ گئی

  

روم (مانیٹرنگ ڈیسک) آسٹریا کے گلیشیئرز سے 25سال قبل ملنے والی 5ہزار سال قدیم انسانی لاش کے متعلق اب تک سائنسدان حیران کن باتیں معلوم کر چکے تھے۔ وہ تحقیقات کے ذریعے جان چکے تھے کہ یہ شخص 5ہزار سال قبل کس طرح کا لباس پہنتا تھا، کون سے ہتھیار استعمال کرتا تھا، اس کے جسم میں کس طرح کے جراثیم موجود تھے، اسے زندگی میں کون سی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑا، اس کے جسم پر کس طرح کے ٹیٹو تھے اور حتیٰ کہ اس کی موت کیسے واقع ہوئی اور مرنے سے قبل اس نے آخری کھانے میں کیا کھایا تھا۔سائنسدانوں کے مطابق اس شخص نے آخری کھانے میں جنگلی بکری کا گوشت کھایا تھا۔ اس قدیم لاش کے متعلق اتنا کچھ معلوم کرنے کے بعد اب سائنسدانوں نے اس لاش کی آواز دنیا کو سنا کر حیران کر دیا ہے۔

ہفگنٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق قدیم دور کے اس انسان کی لاش برف میں دبی ہوئی ملی تھی اور ہزاروں سال گزرنے کے باوجود اس کی حالت حیران کن حد تک بہتر تھی۔ اٹلی سائنسدانوںنے اسے اوٹزی کا نام دیا اور اس پر تحقیق اور تجربات کا آغاز کردیا تاکہ آ ج سے ہزاروں سال قبل کے انسان کی زندگی، صحت، بیماریوں اور موت کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکیں۔ سائنسدانوں نے اوٹزی کے منہ، حلق اور نرخرے پر ایک طویل تحقیق کے بعد اس کی مصنوعی شکل تیار کرلی ہے اور اب اس مصنوعی تھری ڈی شکل اور ایک کمپیوٹر سافٹ ویئر کے ذریعے اس کی من و عن وہی آواز نکالنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو یہ شخص ہزاروں سال قبل اپنی زندگی میں نکالتا ہو گا۔

اٹلی کے شہر بولزانو کے سان ماریزیو ہسپتال کے سائنسدان رولانڈو فسٹوس کا کہنا تھا ”ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے ہم نے اوٹزی کی حقیقی آواز کی تخلیقِ نو کی ہے کیونکہ اس کی ممی سے کچھ اہم ترین معلومات دستیاب نہیں ہوسکیں، لیکن سی ٹی سکین کے ذریعے اس کے ووکل ٹریکٹ اور ووکل کارڈز کی پیمائشیں لی گئیں اور اس کے آواز پیدا کرنے والے اعضاءکے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے بعد ہم نے تقریباً اس کی حقیقی آواز جیسی آواز تیار کرلی ہے۔ اس کامیابی کے بعد ہمیں علم ہوسکے گا کہ پانچ ہزار سال قبل کے انسان کی زبان کیسی تھی اور وہ کس طرح کے الفاظ ادا کیا کرتا تھا۔“ سائنسدانوں کی اس کامیابی پر ماہرین لسانیات کا کہنا ہے کہ اوٹزی کے مصنوعی اعضاءکے ذریعے الفاظ کا خاطر خواہ ذخیرہ دستیاب ہوگیا تو اسے علمِ لسانیات کی تاریخ کا اہم باب شمار کیا جائے گا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -