سندھ حکومت کا صوبے بھر میں پولیس فیسلیٹیشن سینٹرز قائم کرنے کا فیصلہ

سندھ حکومت کا صوبے بھر میں پولیس فیسلیٹیشن سینٹرز قائم کرنے کا فیصلہ
سندھ حکومت کا صوبے بھر میں پولیس فیسلیٹیشن سینٹرز قائم کرنے کا فیصلہ

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے بھر میں پولیس فیسلیٹیشن سینٹرز قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ نا قابل دست اندازی جرائم کے اندراج کے حوالے سے لوگوں کو سہولتیں حاصل ہو سکیں یہ پولیس فیسلیٹیشن مراکز ڈھانچے ، ماحول اور عوام کے ساتھ ڈیلنگ کے حوالے سے پولیس اسٹیشنزسے بالکل مختلف ہونگے ۔

یہ فیصلہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر مرتضیٰ وہاب، آئی جی پولیس سندھ اے ڈی خواجہ ، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری نوید کامران بلوچ ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ترقیات ) محمد وسیم، سیکریٹری خزانہ حسن نقوی اور آرکیٹیکٹ مرلی دھرن نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبے میں کمیونٹی پولیس سسٹم تیار کرنے میں وقت لگتا ہے ،لہذا فوری طور پر پولیس فسیلیٹیشن سینٹرز قائم ہونے چاہئیں جہاں پر لوگ آسانی کے ساتھ اپنی شکایات باالخصوص ناقابل دست انداز ی جرائم کے حوالے سے درج کرا سکیں۔ آئی جی پولیس سندھ نے وزیراعلیٰ سندھ کو بریفینگ دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے تمام 30اضلاع میں پولیس فیسیلیٹیشن سینٹرز قائم کرنے کے لئے ایک پلان ترتیب دیا ہے جس کے تحت ہر ضلع میں ایک پولیس فیسیلیٹشن سینٹر ہوگا جہاں پر لوگ جا کر اپنی شکایات اور درخواستیں اندراج کرائینگے ۔ ان مراکز کو کمپیوٹرائز طریقے سے سینٹرل پولیس آفیس (CPO)کے ساتھ منسلک کیا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ  ان فیسیلیٹیشن سینٹر  ز میں کاغذات کی گمشدگی ، گھریلو تشدد، پولیس تصدیق، بچوں کی گمشدگی ، لرنر ڈرائیونگ لائسنس وغیرہ کے بارے میں شکایات درج کرائی جاسکیں گی اور پہلا پولیس فیسیلیٹیشن سینٹر درخشاں کلفٹن پولیس اسٹیشن میں دستیاب اضافی زمین پر قائم کیا جائیگا۔جس پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس بات کا خاص طور پر خیال رکھا جائے فیسیلیٹیشن مراکز لازمی طور پر جدید اور پرکشش ہونے چا ہیں۔

مزید :

کراچی -