بھارت نے ایسا طریقہ اپنا لیا کہ شہری خود ہی چوری کے’پیسے‘ لے کر حکومت کے پاس پہنچ گئے،اگر پاکستان بھی یہ کام کر لے تو اتنے پیسے اکھٹے ہو جائیں کہ سارے قرضے اتر جائیں

بھارت نے ایسا طریقہ اپنا لیا کہ شہری خود ہی چوری کے’پیسے‘ لے کر حکومت کے پاس ...
بھارت نے ایسا طریقہ اپنا لیا کہ شہری خود ہی چوری کے’پیسے‘ لے کر حکومت کے پاس پہنچ گئے،اگر پاکستان بھی یہ کام کر لے تو اتنے پیسے اکھٹے ہو جائیں کہ سارے قرضے اتر جائیں

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) آزادی کے لحاظ سے پاکستان اور بھارت جڑواں ہیں اور جس طرح جڑواں بچوں کی بہت سی خصلتیں مماثل ہوتی ہیں اسی طرح پاکستان اور بھارت کی بہت سی چیزیں بھی ایک سی ہیں۔ ان میں ایک چیز حرام ذرائع سے کمایا گیا کالادھن بھی ہے۔ دونوں ممالک میں کرپشن کا دوردرہ ہونے کے باعث دونوں ملکوں میں ہی کالے دھن کی بہتات ہے۔ چار ماہ قبل بھارت سرکار نے اپنے شہریوں کو کالادھن سفید کرنے کا موقع دینے کے لیے ایک مہم شروع کی تھی جو گزشتہ روز اختتام پذیر ہوگئی۔ سی ٹی وی نیوز کی رپورٹ کے مطابق اس چار ماہ کی مہم میں بھارتی شہریوں میں ساڑھے 9ارب ڈالرز (تقریباً 10کھرب روپے) کالا دھن ظاہر کیا اور ٹیکس ادا کرکے اس حرام کی کمائی کو حلال کر لیا۔سزا سے بچنے کے لیے شہریوں نے اپنی حرام کی کمائی کا 45فیصد ٹیکس اور سرچارج کی مد میں ادا کیا جس کے بدلے سرکار نے ان کی باقی 65فیصد رقم کو جائز قرار دے دیا۔ بھارتی وزیرخزانہ ارون جیٹلی کا کہنا ہے کہ ” اس مہم میں 64ہزار 275افراد نے اپنا کالا دھن ظاہر کیا اور اس پر ٹیکس ادا کیا۔“پاکستانی حکومت کو بھی بھارت کے اس تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہیے کہ حرام خوروں سے کالادھن نکلوانا تو جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ چلیں بھاگتے چور کی لنگوٹی کے مصداق اس کا 45فیصد ہی واپس آ جائے۔

مزید :

بین الاقوامی -