بیت اللہ میں کرین حادثے کا معاملہ، 2 سال بعد فیصلہ سنادیا گیا

بیت اللہ میں کرین حادثے کا معاملہ، 2 سال بعد فیصلہ سنادیا گیا
بیت اللہ میں کرین حادثے کا معاملہ، 2 سال بعد فیصلہ سنادیا گیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

جدہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) 2 سال قبل حرم مکی میں ہونے والے کرین حادثے کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد اتوار کو فیصلہ سنادیا گیا ہے جس میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے پر گرفتار کیے گئے تمام 13 افراد کو رہا کردیا گیا۔
سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق مکہ کی پینل کورٹ نے مکہ کرین حادثے کا فیصلہ 750 روز کے بعد سنایا ہے ۔پینل کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ گرفتار کیے گئے تمام افراد پیشہ وارانہ غفلت کے مرتکب نہیں ہوئے اس لیے انہیں رہا کردیا جائے۔
اٹارنی جنرل نے فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے اس کے خلاف اپیل دائر کردی ہے جو منظور کرلی گئی ہے ۔ ایپلٹ کورٹ نے پینل کورٹ کا فیصلہ روکتے ہوئے معاملہ دوبارہ پینل کورٹ کے پاس بھجوادیا ہے جو دوبارہ اس کا جائزہ لے گی۔
واضح رہے کہ 11 ستمبر 2015 کو تعمیراتی کام کے دوران بیت اللہ کے احاطے میں ایک بڑی کرین گری تھی جس کی زد میں آکر 108 افراد جاں بحق اور 238 شدید زخمی ہوئے تھے۔