شرح سود میں اضافہ معاشی معاملات کو خراب کر سکتا ہے: پیاف

شرح سود میں اضافہ معاشی معاملات کو خراب کر سکتا ہے: پیاف

  

لاہور(کامرس رپورٹر)چیئرمین پیاف میاں نعمان کبیر نے سیئنر وائس چیئرمین ناصر حمید خان اور وائس چیئرمین جاوید اقبال صدیقی کے ہمراہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے بنیادی شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام انڈسٹریل سیکٹر اور معیشت کے لیے حقیقی معنوں میں فائدہ مند نہیں ہو گا۔ برآمدات بڑھانے کے لئے پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا ہو گی ۔پہلے روپے کی قدر میں کمی ہوئی پھر بجلی و گیس کی قیمت بڑھا دی گئی اب شرح سود میں سو بیسزپوائنٹ اضافہ کے ساتھ 8.5% کر دی گئی ہے جس سے معاشی صورتحال مزید خراب ہو گی ۔ شرح سود بڑھنے سے مہنگائی ئی بڑھے گی اوربجٹ خسارے میں مزید اضافہ ہو گا نہ صرف تعمیراتی منصوبوں بلکہ صنعتی منصوبوں کی لاگت بھی بڑھ جائے گی۔ موجودہ حالات میں کاروباری برادری کو سستے قرضوں کی اشد ضرورت ہے۔ مارک اپ کی شرح میں اضافے سے معاشی مسائل بڑھیں گے مقامی سرمایہ کاری بھی متاثر ہو گا بلکہ غیرملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی متزلزل ہو گا۔ پیداواری لاگت میں اضافے کی وجہ سے ملکی ایکسپورٹ پہلے ہی بری طرح متاثر ہے ان حالات میں شرح سود میں اضافہ معاشی معاملات کو مزید خراب کر سکتا ہے۔

بجٹ خسارے میں اضافہ ہونے کی وجہ سے برآمدات میں اضافہ نہیں ہو پا رہا۔چیئرمین نے حکومت پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ معیشت سے متلقتہ بینکنگ پالیسوں پر نظرثانی کریں اور نجی شعبے کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دیں۔

مزید :

کامرس -