موسم سرما کے پہناوے ہماری خواتین کی ذہنی بالیدگی

موسم سرما کے پہناوے ہماری خواتین کی ذہنی بالیدگی

  

دیسی مہینے اسوج کی آج 16تاریخ ہے۔ اس مہینے کے پہلے پندرہ دن ذرا سخت اور بھادوں کا تسلسل ہوتے ہیں۔ بڑے بوڑھے اسوج کے انہی پندرہ دنوں کے بارے میں کہتے ہیں ’اَسّو پکھ نرالے، دِنیں تُپّاں تے رَاتی پالے‘۔ اس بار راتیں بھی گرم ہوتیں پَر بھلا ہو موسم کا جو قدرے بدل گیا۔ لوگ پُر امید ہیں کہ سردیاں اِس بار وقت پر شروع ہوں گی۔ خواتین نے بدلتی رُت کے تیور دیکھتے ہی ٹھنڈے موسم کے پہناووں کی تیاری شروع کردی ہے۔ ہلکے اور دھیمے رنگوں کے بجائے اب گہرے رنگوں والے پیرہن مقبول ہیں۔ گوناگوں برانڈز کے کپڑے بازاروں میں پہنچ چکے ہیں اور خواتین کی نگاہوں کا مرکزبن رہے ہیں۔ ترقی یافتہ دنیا کے فیشن گھروں نے اپنے طلسمی شہروں کے فیشن کدوں کی ریمپ واک پر موسم سرما کے مبہوت کردینے والے ملبوسات کی قطاریں باندھ دی ہیں۔ تاہم دنیا بھر کی خواتین میں اب تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ وہ نت نئے فیشن سے مرعوب نہیں ہوتیں بلکہ اپنے پہناووں میں مَن پسندی، جاذبیت، ہلکا پن اور آرام وہ کیفیت کم سے کم داموں میں دیکھنا چاہتی ہیں۔ سردیوں میں بدن چونکہ زیادہ ڈھانپا جاتا ہے اس لئے گرم اور بھاری کپڑوں کا استعمال ناگزیر ہو جاتا ہے لیکن خواتین اس ضرورت کو ایک چیلنج سمجھ کر قبول کرتی ہیں اور کپڑوں کی ساخت اور ڈیزائن اس ڈھب سے کرتی ہیں کہ اُن کے تیار کردہ لباس موسم کے تقاضوں کو بھی پورا کرتے ہیں اور فیشن کے معیار پر بھی پورا اُترتے ہیں۔ ریمپ واک پر گھومتے ماڈلوں کی وساطت سے مجھے کتنی ہی بار دلچسپ و عجیب پہناووں کو دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے لیکن لباس مجھے وہی اچھے لگے جو میرے اِردگرد کی خواتین اپنی پسند اور سوجھ بوجھ سے تیار کرکے پہنتی ہیں۔

دیکھا جائے تو زمانہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے نئی چیزیں پرانی اور متروک ہوتی جاتی ہیں۔ فیشن کے تقاضوں میں تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔ لوگ گھوم گھام کر پھر اسی مقام پر آ جاتے ہیں جو پائیدار آسودگیوں کی اَساس پر استوار ہے۔ سبک، آرام دہ اور کم خرچ لباس ہی کو دوام ہے۔ مجھے بے حد خوشی محسوس ہوتی ہے جب میں اپنی خواتین کو اپنے لباس کے بارے میں منفرد اُپج سے کام لیتا دیکھتی ہوں۔ درزیوں کو وہ خوب سمجھتی ہیں تاہم اُن کا اپنا وضع کردہ ڈیزائن ہی مقبولیت پاتا ہے۔

زندگی نے ایسی رفتار پکڑلی ہے کہ وہ لوگ بھی پریشان ہیں کہ دنیا جن کی انگلیوں پر ناچتی ہے۔ تیزی سے گزرتی اس زندگی کا ایک ہی حل ہے کہ اپنی رفتار کو کم کیا جائے اور ٹھہراؤ، توقف اور پڑاؤ پر دھیان دیا جائے۔ اپنی طبیعتوں میں پیدا کیا جانے والا اطمینان ہی امن و سکون کا ضامن ہے۔ وہ خواتین لائق صد تحسین ہیں جو اپنے اِردگرد پھیلے ماحول کو اپنی کرشماتی شخصیتوں سے پُر نظم اور پُر امن بناتی ہیں۔ ایسی ہی خواتین کے سایوں میں پلنے والی لڑکیاں ایک صحت مند معاشرے کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ میں دیکھتی ہوں کہ نئی نسل پوری ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف ہے۔ روحانی اور جسمانی تقاضوں کا انہیں بخوبی علم ہے۔ خوراک اور لباس کے بارے میں احتیاط اور زمینی حقائق و روایات کو مدِ نظر رکھتی ہیں۔

میرے وطن کی خواتین اور لڑکیاں ہمہ وقت میرے خورد بینی مشاہدے میں رہتی ہیں۔ مجھے خوشی ہوتی ہے جب زندگی کے رنگوں کو وہ نئی نئی تریب دیتی ہیں۔ موقعہ کی مناسبت کے لحاظ سے وہ لباس زیبِ تن کرتی ہیں۔ قدیم اور جدید پہناووں کوانہوں نے اس طرح ایک دوسرے میں مدغم کیا ہے کہ ظہور میں آنے والے نئے لباس ہر صورت نگاہوں کو بھلے دکھائی دیتے ہیں۔

محرم الحرام کے مقدس مہینے کے اختتام کے بعد شادی بیاہ کی تقریبات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو جائے گا اورمیرے وطن کے شہروں میں ایک بار پھر مختلف النوع دلکش پہناووں اور ملبوسات کی خیرہ کُن ساعتوں کا آغاز ہو جائے گا۔ اچھا اور موزوں لباس عورت کی شخصیت کو چار چاند لگاتا ہے۔ جاذب نظر رنگ، منفرد ڈیزائن اور لباس کی صحیح تراش و خراش ماحول کو ترو تازگی بخشتی ہے۔ اب گہرے رنگوں والے پیرہن کو سِلک کا وہ دوپٹہ ایک نئی شان دیتا ہے جو خود کثیر رنگوں میں رنگا ہوتا ہے۔ اب شادی کی تقریبات میں رنگ و نور کی بہتات تو ہوتی ہی ہے تاہم عام مجالس اور اجتماعات میں بھی خواتین کے لباس سے اُن کی ذہنی بالیدگی کا اندازہ ہوتا ہے۔ آتی سردیوں کی تیاریاں شروع ہیں۔ بازار اور شاپنگ مال خواتین کی آمدورفت سے آباد ہیں۔ اَن گنت رنگ اور ڈیزائن لئے مختلف برانڈز کے سوٹ نظروں کو لُبھاتے ہیں۔ لڑکیاں اور عورتیں ان پہناووں کو اپنی اپنی پسند کے حساب سے خریدتی ہیں تاہم اِن کی کانٹ چھانٹ اور سلائی وہ اُس نئے پن سے کرتی ہیں جو اُن کا ذہن اُنہیں سجھاتا ہے۔

اب سردیوں کی آمد آمد ہے۔ پرانے کپڑوں کو الماریوں سے نکال کر دھوپ میں رکھا جارہا ہے۔ اِن کی دھلائی اور ڈرائی کلیننگ کا ارادہ باندھا جارہا ہے۔ تاہم خواتین کی نظر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر نمودار ہونے والے اُن اشتہاروں پر بھی ہے جو نئے ڈیزائن والے کپڑوں کا مژدہ لئے ہوئے ہیں۔ دیکھیں اب خواتین کی مصروفیت کا ایک اور مرحلہ شروع ہونے والا ہے جس کا دارومدار خواتین کی ضرورت، طلب، پسند اور جیب پر ہے۔ اُمید ہے خواتین اس بار بھی اپنی دانشمندی کا مظاہرہ کریں گی۔

مزید :

ایڈیشن 1 -