مصنف، فلمسازو ہدایت کار ریاض شاہد کو ہم سے بچھڑے 46 سال بیت گئے

مصنف، فلمسازو ہدایت کار ریاض شاہد کو ہم سے بچھڑے 46 سال بیت گئے

  

لاہور(فلم رپورٹر)مصنف، فلمسازو ہدایت کار ریاض شاہد کو ہم سے بچھڑے 46 سال بیت گئے۔ ان کی فلموں کے موضوعات نہایت منفرد ہوتے تھے۔ریاض شاہد 1930ء میں لاہور میں پیدا ہوئے ان کا اصل نام شیخ ریاض تھا۔ وہ ایک کشمیری گھرانے میں پیدا ہوئے۔ لاہور کے اسلامیہ کالج سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے ’ ’چٹان‘ ‘میں صحافی کی حیثیت سے ملازمت اختیار کر لی۔بعداز وہ فیض احمد فیض کے جریدے ’لیل و نہار‘ سے وابستہ ہو گئے۔ انہوں نے ’ہزار داستان‘ کے نام سے ایک ناول تحریر کیا اور پھر فلمی صنعت سے وابستہ ہو گئے۔

ریاض شاہدنے پہلا سکرپٹ فلم ’بھروسہ‘ کا لکھا تھا۔ یہ فلم 1958میں ریلیز ہوئی۔ اس فلم نے ریاض شاہد کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔جب ان کی فلم ’شہید‘ ریلیز ہوئی تو اس نے تہلکہ مچا دیا۔ ریاض شاہد کی اس فلم کی کہانی انوکھی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے 1962میں پہلی بار فلم ’سسرال‘ میں ہدایت کاری کے فرائض سر انجام دیے۔ ’سسرال‘ کو پاکستان کی یادگار فلم قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے ’فرنگی‘ کی کہانی لکھی جس کے ہدایت کار خلیل قیصر تھے۔حسن طارق کی ناقابل فراموش فلم ’نیند‘ کا اسکرپٹ بھی انہوں نے تحریر کیا تھا۔1967ء4 میں انہوں نے ’گناہ گار‘ کا اسکرپٹ لکھا جو بہت منفرد تھا اوربعد میں انہوں نے مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر پر ’زرقا‘ اور ’یہ امن‘ جیسی شاہکار فلمیں بنائیں۔انہوں نے ایک تاریخی فلم ’’غرناطہ‘‘ بھی بنائی۔ ریاض شاہد نے 32فلموں کی کہانیاں اور مکالمے لکھے۔ اس حیثیت سے ان کی جن فلموں نے بے مثال کامیابی حاصل کی ان میں ’’بھروسہ، نیند، سسرال، شکوہ، خاموش رہو، فرنگی، آگ کا دریا، بدنام، بہشت اور حیدر علی‘‘قابل ذکر ہیں۔ریاض شاہد نے اپنے وقت کی نامور ہیروئن نیلو سے شادی کی۔ ان کے تین بچے ہیں ۔

مزید :

کلچر -