وزیراعظم آزادکشمیر کے ہیلی کاپٹر پر بھارتی فوج کی فائرنگ

وزیراعظم آزادکشمیر کے ہیلی کاپٹر پر بھارتی فوج کی فائرنگ

  

بھارتی فوج نے کشمیر کی لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب پرواز کرنے والے آزادکشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے سفید رنگ کے سول ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کر دی جس میں سوار وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے دو ارکان بال بال بچ گئے۔ فائرنگ کے بعد ہیلی کاپٹر ایل او سی کے قریب بحفاظت اتار لیا گیا۔ راجہ فاروق حیدر کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر آزاد کشمیر کی حدود کے اندر تھا زیرو لائن عبور نہیں کی تھی۔ دشمن نے بوکھلا کر ایل او سی عبور کرنے کا ڈرامہ رچایا۔ وہ آزاد کشمیر کے وزیر شاہرات کے بھائی کے انتقال پر تعزیت کے لئے لائن آف کنٹرول کے قریب واقع گاؤں فارورڈ کہوٹہ جا رہے تھے۔ جونہی ہیلی کاپٹر پونچھ سیکٹر کے علاقے تروڑی پہنچا تو بھارتی فوج نے فائرنگ کر دی جس کے بعد ہیلی کاپٹر حویلی اتار لیا گیا۔ راجہ فاروق حیدر کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ کوئی گن شپ ہیلی کاپٹر نہیں تھے۔ ہم خطے میں کوئی جنگی جنون نہیں چاہتے لیکن صاف نظر آ رہا ہے کہ بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ بھارت کا الزام ہے کہ ہیلی کاپٹر ہماری حدود میں گھس آیا تھا۔ فارورڈ چیک پوسٹوں پر تعینات سنتریوں نے چھوٹے اسلحے سے فائرنگ کی جس کا مقصد پائلٹ کویہ باور کرانا تھا کہ وہ فضائی حدود کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور واپس جا ئے۔ فائرنگ کے بعد ہیلی کاپٹر واپس چلا گیا۔

لائن آف کنٹرول پر دونوں ملکوں کے جنگی ہیلی کاپٹر جب پرواز کرتے ہیں تو ایک دوسرے کو اس کی اطلاع دیتے ہیں، چونکہ یہ سویلین ہیلی کاپٹر تھا اور یہ بات اس کے رنگ سے ہی واضح تھی اور وزیراعظم آزادکشمیر اپنے دو وزراء کے ساتھ اس میں سوار تھے، اس لئے پیشگی اطلاع کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی، لیکن بھارت نے ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کا جواز بنانے کے لئے یہ بہانہ ڈھونڈا کہ یہ لائن آف کنٹرول پار کر کے اندر آ گیا تھا۔ اگر واقعتاً ایسا تھا بھی تو ہیلی کاپٹر کی رفتار کے حساب سے یہ کوئی ایسا واقعہ نہیں جسے سنگین غلطی میں شمار کرکے فوری طور پر فائرنگ کر دی جائے جس سے کوئی بڑا حادثہ بھی ہو سکتا تھا، تاہم اس واقعہ اور بدگمانی کی موجودہ فضا کا تقاضا ہے کہ آئندہ احتیاط ہی برتی جائے کیونکہ بھارت روزانہ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے اور اس کے لئے کوئی نہ کوئی جواز بھی تلاش کر لیتا ہے، غالباً ایسے ہی حادثات سے بچنے کے لئے فوجی ہیلی کاپٹروں کی اڑان سے پہلے پیشگی اطلاع دی جاتی ہے۔ وزیراعظم آزادکشمیر نے یہ معاملہ حکومتِ پاکستان سے اٹھایا ہے جو دفتر خارجہ کی سطح پر اسے بھارت کے ساتھ اٹھا کر آئندہ کے لئے کوئی لائحہ عمل تیار کر سکتی ہے لیکن نرم سے نرم الفاظ میں بھی بھارت کی اس حرکت کو غیر ذمے دارانہ اور بلا سوچا سمجھا اقدام قرار دیا جا سکتا ہے۔ جو ہیلی کاپٹر لائن آف کنٹرول کے قریب اڑ رہا تھا، وہ سویلین ہیلی کاپٹر تھا اور فائرنگ سے پہلے اس پہلو کو دھیان میں رکھنے کی ضرورت تھی۔

ایسے محسوس ہوتا ہے بھارتی حکومت اندرونی دباؤ سے نکلنے کے لئے لائن آف کنٹرول پرماحول کو گرم رکھنا چاہتی ہے اور جوں جوں لوک سبھا کے انتخابات قریب آئیں گے، کشمیر کی کنٹرول لائن پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہوتا چلاجائے گا، یہی طریقِ واردات2014ء کے الیکشن میں اس وقت کی کانگرسی حکومت نے بھی اختیار کیا تھا اور ’’پاکستان دشمنی‘‘ باقاعدہ ایک انتخابی موضوع بن گئی تھی۔ دونوں جماعتوں میں دوڑ لگی ہوئی تھی کہ پاکستان دشمنی کے ایشو کو کون زیادہ شدت سے اٹھاتا ہے کیونکہ انتہا پسند ووٹ حاصل کرنے کے لئے ایسا ضروری تھا۔ بی جے پی اس معاملے میں اپنی کانگرسی حریف پر اس لئے بازی لے گئی کہ کانگرس کو تھوڑا بہت خیال اپنے سیکولر چہرے کا بھی رکھنا پڑتا تھا جبکہ بی جے پی تو ہندو انتہا پسندوں کے جذبات کو مشتعل کر رہی تھی اور مودی اپنی تقریروں میں پاکستان کو دھمکیاں دینے کے ساتھ ساتھ اپنے ووٹروں کو سبز باغ بھی دکھا رہے تھے۔ اب چار سال سے زیادہ کے عرصہ اقتدار میں ووٹر نریندر مودی سے مایوس ہوا ہے اور اس پر مستزادفرانسیسی جنگی طیاروں کی خریداری کا سکینڈل ہے جس کا تذکرہ حال ہی میں فرانس کے سابق صدر الاندے نے کیا ہے۔ بی جے پی پر جن سرمایہ کاروں نے انتخابات کے دوران سرمایہ کاری کی تھی، ان میں ایک امبانی گروپ بھی تھا جسے فائدہ پہنچانے کے لئے طیاروں کی خریداری کا معاہدہ براہِ راست اس گروپ سے کروایا گیا، یوں اس گروپ نے اپنی سرمایہ کاری کا فائدہ مع سود حاصل کر لیا۔

اب نریندر مودی اس سے توجہ ہٹانے کے لئے پاکستان دشمنی کے ہتھیار کو ایک بار پھر استعمال کر رہے ہیں، جس کے مظاہر لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کی صورت میں مسلسل دیکھے جا رہے ہیں اور آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کا واقعہ بھی اسی سلسلے کا شاخسانہ ہے۔ ہیلی کاپٹر اگر ہٹ ہو کر گر پڑتا تو تصور کیا جا سکتا ہے کہ اس کے مضمرات کیا ہوتے اور دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے کشیدہ صورتِ حال کیا رخ اختیار کرتی؟ اب بھی نہیں کہا جا سکتا کہ اگلے انتخابات تک مودی ایسی کوئی مزید حرکت نہیں کریں گے کیونکہ انہوں نے الیکشن جیتنے کے لئے ماضی کی طرح ہر حربہ اختیار کرنا ہے۔ بہت سی ریاستوں میں ان کی پارٹی شدید دباؤ کا شکار ہے اور مسلمان دشمن متعصب ہندو جوگی کو یوپی کا وزیراعلیٰ بنا کر بی جے پی نے جو غلطی کی تھی اب اس کا خمیازہ بھگتنے کے لئے اسے تیار رہنا ہو گا۔ ملک کی یہ سب سے بڑی ریاست بی جے پی کی قسمت کا فیصلہ کرنے میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے، اس لئے نریندر مودی پاکستان کے ساتھ شرارتیں کرتے رہیں گے اور بعید نہیں محدود پیمانے پر کسی محاذ پر کوئی جنگ بھی چھیڑ دیں۔ مذاکرات سے مسلسل انکار بھی اسی حکمت عملی کے تحت کیا جا رہا ہے۔ نیویارک میں وزرائے خارجہ کی طے شدہ ملاقات بھی بعد میں انتہا پسندوں کی مداخلت پر منسوخ کی گئی جن کا خیال تھا کہ پاکستان کے ساتھ اس طرح کی صلح جویانہ روش بی جے پی کو نقصان پہنچائے گی، اس لئے بھارت کی تمام حرکتوں پر گہری نظر رکھنا ہوں گی بھارتی حکومت چاہے گی کہ ہیلی کاپٹر جیسے واقعات کو مکاری کے ساتھ اپنی انتخابی حکمتِ عملی کو پیشِ نظر رکھ کر استعمال کرے۔ کنٹرول لائن پر تو پہلے ہی فائرنگ کا سلسلہ جاری رہتا ہے، ایسے کسی واقعہ کے بہانے اس سلسلے کو مزید بڑھایابھی جا سکتا ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -