انداز حکمرانی کی تنگ نظری اور انتقامی روش

انداز حکمرانی کی تنگ نظری اور انتقامی روش

  

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور گھر کے دیگر دو افراد کی درخواست ضمانت منظور ہونے پر شام کے وقت اڈیالہ جیل راولپنڈی سے باہر جانے کی اجازت ملنے پر اپنی رہائش گاہ روانہ ہونے کا موقع ملا تو جیل کے ایک کمرے میں وہیں قید ایک اور سیاسی رہنما حنیف عباسی کے ساتھ ان کی ایک فوٹو بنائی گئی، جو اگلے روز بعض قومی اخبارات میں شائع ہوئی۔اس بات پر بعض حکمرانوں کے ایوانوں میں گویا کوئی زلزلہ یا طوفان برپا ہوگیا۔ کیونکہ اسی وقت سے چند ٹی وی چینلز پر بھی اس تصویر کو بار بار دکھا کر یہ مطالبہ کیا جاتا رہا کہ دونوں سیاسی راہنماؤں کی فوٹو ایک ساتھ کمرے میں بنانے کی نوبت کیوں آگئی؟ لہٰذا ایک بڑا خوفناک و قوعہ یا جرم ظاہر کرکے بعض ٹی وی چینلوں پر بار بار ناظرین کرام کو دکھایا جاتا رہا، حالانکہ دونوں رہنما گزشتہ تقریباً دو ماہ سے اسی جیل میں پابند سلاسل ہو کر اپنی اپنی مختلف سزائیں بھگت رہے ہیں،بعض قومی اخبارات میں بھی اس معاملے کو خوب اچھالا گیا۔حتیٰ کہ پنجاب کے وزیر جیل نے بھی اس شور شرابے سے متاثر بلکہ مستعد ہو کر فوٹو بنانے کے وقوعہ کی انکوائری جلد کرنے کا حکم دے دیا، پھر چند روز بعد کوئی رپورٹ آنے پر حنیف عباسی کو فوری طور پر ضلع اٹک کی جیل میں منتقل کر دیا گیا، یہ اطلاع عام لوگوں کو ذرائع ابلاغ کی زیادہ تشہیر سے ملی۔

یاد رہے کہ راولپنڈی تو ایک بڑا شہر ہے اور یہاں کی جیل میں تو مختلف نوعیت کے جرائم میں ہزاروں افراد بطور قیدی اور حوالاتی موجود ہوں گے۔انسان چونکہ خطا کا پتلا ہے، اس لئے وہ پابند افراد بھی بالکل پاکباز اور فرشتے تو نہیں ہوں گے، بلکہ ان میں بھی بعض افراد اس جیل میں مروجہ اصول و ضوابط کی کچھ کوتاہیاں اور غلطیاں کرتے ہوں گے، لیکن ان کے بارے میں ماضی قریب میں کسی تادیبی کارروائی کے عمل کی اطلاع پڑھنے اور سننے میں نہیں آئی۔ اس لئے میاں نواز شریف اور حنیف عباسی کے خلاف بلاجواز انتقامی پراپیگنڈہ بند کیا جائے اور حنیف عباسی کو راولپنڈی جیل واپس بھیجا جائے۔سیاست سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کرام جانتے ہوں گے کہ حنیف عباسی کو سابقہ عام انتخابات منعقدہ 25جولائی 2018ء سے تین یا چار روز قبل راولپنڈی کی ایک عدالت سے رات 11بجے عمر قیدکی سزا سنائی گئی، جبکہ دیگر سات ہمراہی ملزمان کو بری کردیا گیا تھا۔ یعنی ان ملزمان کی شمولیت میں کوئی غیر قانونی کارروائی ثابت نہ ہوسکی۔ اس عدالتی فیصلے سے کوئی دو ہفتے قبل سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور دیگر دواہل خانہ افراد کو احتساب عدالت سے سزا سنائی گئی۔ اس فیصلے کے خلاف اپیل میں انہیں چند روز قبل درخواست ضمانت پر رہا کرنے کا حکم اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے صادر کیا تھا۔

احتساب کا عمل پاکستان میں بلاکسی تفریق و امتیاز جاری رکھنا اشد ضروری ہے ، تاکہ کرپشن اور غیر قانونی کارروائیوں کے ارتکاب سے ملکی وسائل اور دولت کو مجرموں کی لوٹ مار سے بچایا جائے۔ اس کارکردگی کو دیانتداری،انصاف، آئین اور قانون کے متعلقہ اصولوں کے تحت سرانجام دیاجائے،تاکہ وطن عزیز خود انحصاری کا مقام و احترام جلد حاصل کرسکے، چند سال قبل خیبرپختونخوا میں جنرل حامد خاں کو اپنے احتساب کے ادارے سے جلد سبکدوش کیوں کر دیا گیا تھا؟ ان کے بعد دیگر افسروں کو بھی کوئی متعلقہ فرائض ادا کرنے سے روکا گیا، حتیٰ کہ اس معاملے پر 82کروڑ روپے کے اخراجات ہوئے، لیکن خورد برد کی گئی رقوم کی واپسی محض دس سے 12یا 13لاکھ بتائی جاتی ہے۔ کیا اب پھر اس صوبہ میں احتساب کا عمل بلا روک ٹوک شروع کیا گیا ہے یا نہیں؟

مزید :

رائے -کالم -