خاندانی سیاست کے خاندانی سیاسی غْلام۔۔

خاندانی سیاست کے خاندانی سیاسی غْلام۔۔
خاندانی سیاست کے خاندانی سیاسی غْلام۔۔

  

بہت عرصہ پہلے اندرْون سِندھ اور جنْوبی پنجاب کے بارے میں مْجھ پہ ایک تلخ اِنکشاف ہوا کہ بھٹہ خشت ( اینٹ ) کے مزدوْر اور وڈیروں کی زرعی زِمینوں کے ہاری باقاعدہ بِکتے ہیں اور یہ سِلسلہ نسل در نسل جاری ہے۔ اور یہ کہ زمین یا بھٹے کا مالک اپنی یہ مَلکیت جب کسی کو فروخت کرتا ہے تو ساتھ اس پہ کام کرنے والے مزدوروں اور ہاریوں کی قیمت بھی طے کر دی جاتی ھے جس بارے میں بِکنے والے نسل در نسل مظلوم غلام لا علم ہوتے ہیں۔اْن کا کام صرف گدھوں کی طرح کام کرنا ہوتاہے۔ اپنے مستقبل ، حقْوق اور قِسمت کے بارے میں سوچنے کی ذِمہ داری سے وہ بری الذمّہ ہوتے ہیں۔ ان کی اپنی کوئی سوچ ہوتی ہے نہ اپنی مرضی سے جینا۔ ان کے چھوٹے چھوٹے بچے بھی اپنے مالک کے لیے طلوع آفتاب سے غروب تک کام کرتے ہیں۔

یہ تلَخ اِنکشاف زِندگی بھر میرے لیے کرب کا باعث رہا اور رہے گا۔۔ مگر اب کے میرا یہ کرب دوگنا ہو چلا ہے جب سے نسل در نسل غْلاموں کی اِسی طرح کی ایک اور قبیل سے واسطہ پڑا ہے۔ یعنی نسل در نسل خاندانی سیا ست کے نسل در نسل سیاسی غْلام۔جو بھٹہ خشت کے مزدوروں اور وڈیروں کے ہاریوں کی طرح باپ دادا سے خاندانی سیاست کی چوکھٹ پہ غلامی کا طوق گلے میں ڈالے ظْلم کی چکّی میں پِستے چلے آرہے ہیں۔بلکہ میں یہ کہوں گا کہ غلام ابن غلام ابن غلام قسم کی نسل ہم سب کے لیے غلامی، غربت،جاہلیت اور پسماندگی کا باعث بن رہی ہے۔

ان کا قصور فقط یہ ہے کہ ان کے دادا جی مرحوم نے برادری ،قبیلے یا اپنے گاؤں کی محبت میں 1946ء میں ایک لیڈر صاحب کی ممبری کے لیے ووٹ کی پرچی پرٹھپّہ لگانے کی غلطی کا اِرتکاب کیا تھا۔ تب سے لے کر پہلے وہ خود پھر ان کے بیٹے ،پھر اْس کے آگے ان کے پوتے اِس ازلی و ابدی غلامی میں سختی سے جکڑ دیے گئے۔ حتٰی کہ آج اْس بابا جی کا مسکین پڑپوتا بھی اسُی ڈیرے کے کھونٹے سے بندھا ہوا ہے اور ناکردہ گْناہوں کی سزا بھْگت رہا ہے۔"جی کیا کریں۔ہمارا اُن سے خاندانی تعلق ہے "۔ جی کیا کریں۔ ہر روز ایمان تو نہیں بدل سکتے " " اوہ جی۔باپ تو ایک ہی ہوتا ہے " وغیرہ وغیرہ وہ جاہلانہ تاویلات ان لوگوں نے گَھڑ رکھی ہیں کہ اللہ توبہ۔حالانکہ جس لیڈر کے لیے وہ یہ باتیں کہہ رہے ہوتے ہیں وہ خود تو الیکشن کے الیکشن خاندانی تعلق بھی نئے سِرے سے اِستوار کرتے ہیں سیاسی ایمان بھی بدل لیتے ہیں اور سیاسی باپ بھی۔ ان لیڈر صاحب کا اپنا نہ تو مستقل کوئی تعلق ،نہ مستقل ایمان اور نہ ہی کوئی سیاسی باپ اہم ہوتا ہے بلکہ اس کے نزدیک فقط اپنا ذاتی مفاد یعنی اقتدار اہم ہوتا ہے۔

لیڈر صاحب کا نظریہ ،جماعت اور ایمان بھلے روز بدلے اس کے خاندانی غلام کی رسّی بہرحال اس کے ہاتھ میں رہتی ہے۔ جن کے بل بوتے پر وہ سیاست دان کسی بھی سیاسی جماعت یا حکومت سے اپنا حصہ وصول کرتا ہے۔ جبکہ اس سیاسی غلام کی اپنی سوچ اور فکر نہیں ہوتی۔ اس کی اپنی کوئی جماعت اور سیاست نہیں ہوتی۔ اس مظلوم کی اپنی کوئی قسمت ،عزت اور رائے نہیں ہوتی۔ یہ اپنی آزادی بلکہ کسی آزادانہ انتخاب کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اس بے چارے کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔ کوئی منزل نہیں ہوتی۔ جو کچھ ہوتا ہے آقا کا ہوتا ہے۔ اپنے خاندانی سیاسی آقا کی تعریف وتوصیف کرتے رہنا اس کا مقدر ٹھہرتا ہے۔اپنے آقا کے سیاسی مخالفین کی توہین اور تضحیک کرنا اس کا شیوہ ہوتا ہے۔اپنے آقا کے سیاسی مخالفین کا تمسخر اْڑانا اور گالیاں دینا اس کی وفاداری ہے۔

اِن نسل در نسل بے چاروں کی اْجرت کیا ہے کچھ بھی تو نہیں۔ فقط یہی کہ ان کا لیڈر ہنس کے ان سے بات کر لے۔ ڈیرے پہ زیادہ انتظار کرائے بغیر مِل لے۔ یا یہ کہ ایک تبادلہ ، ایک چپڑاسی کی تقرری ، ایک معطل ملازم کی بحالی ، محلے کی ایک چھوٹی سی اسکیم یا تھانے سے ایک ضمانت ،ایک فاتحہ۔۔۔وغیرہ وغیرہ اور بس۔

لیڈر صاحب مندرجہ بالا اْجرتوں میں سے ایک بھی ادا کر دے تو سیاسی غْلام کا پڑھا لِکھا برخوردار بھی فخریہ انداز میں گھوڑے کے ٹرینی (Trainer ) بچے کی طرح تانگے کے ساتھ ساتھ ٹَکّا ٹَک دوڑنا شروع ہو جاتا ہے۔اور کچھ عرصہ بعد غلامی کے اس تانگے میں رضاکارانہ طور پر یہ بھی جْت جاتا ہے۔ اِسطرح نسل درنسل سیاسی غلْامی کا یہ سفر بغیر کسی تعطل کے جاری رہتا ہے۔ مجھ جیسا کوئی سرپِھرا آڑے آئے تو اْس کو شدید تضحیک اور اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعہ نشان عبرت بنا دیا جاتا ہے۔ مگر تمام تر تضحیک کے باوجود مجھے غلاموں کے اس طبقے سے ہمدردی ہے۔

میرا خیال ہے اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں سندھ کے ہاریوں ،جنوبی پنجاب اور ملک کے دوسرے علاقوں کے بھٹہ مزدوروں ( عْرف عام میں مسلّیوں ) اور میری دھرتی کے سیاسی غلاموں کی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کے لیے اْٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔ ہمیں ان سیاسی غلاموں کو بتانا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں سیاسی کارکن کی کیا حیثیت ہوتی ہے انہی سیاسی کارکنوں میں سے کوئی وزیر اور کوئی وزیر اعظم بنتا ہے۔ ترقی یافتہ اور مہذب ممالک میں سیاسی کارکن منشور دیکھ کر کسی سیاسی جماعت کا حصہ بنتا ہے نا کہ کسی شخصیت یا خاندان کا غلام بنتا ہے۔ اور وہ سیاسی کارکن اپنے وقت کے لیڈر اور وزیراعظم کا احتساب کرنے کی بھی جرات رکھتا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ہمیں اپنے لوگوں کو شعور دلانا ہے اور ان کو ان کی اہمیت اور حقوق سے روشناس کرنا ہے۔ اگر آج بھی ہم نے نہ سوچا تو پھر ہماری آنے والی نسلوں کو بھی اسی غلامی کا طوق پہننا پڑے گا اور وہ ہمیں معاف نہیں کریں گی۔

مزید : رائے /کالم