سروسز بک کلب اور فرانسیسی طریقہ ء علاج!

سروسز بک کلب اور فرانسیسی طریقہ ء علاج!
سروسز بک کلب اور فرانسیسی طریقہ ء علاج!

  

جنرل ضیاء الحق کے دور میں پاکستان کی مسلح افواج میں پروفیشنل لٹریچر کی ترویج و تشہیر کے لئے ایک ’’بک کلب‘‘ قائم کیا گیا تھا جس کا نام ’’سروسز بک کلب‘‘ رکھا گیا تھا۔ اس میں تینوں سروسز (آرمی، نیوی، ائر فورس) کے آفیسرز کے لئے سالانہ چار چار کتابیں طبع کرکے تقسیم کی جاتی تھیں۔ اس کے لئے ہر آفیسر کو مبلغ 200روپے سالانہ ادا کرنے پڑتے تھے اور یہ ایک قسم کا لازمی حکم نامہ تھا۔جی ایچ کیو میں سینئر آفیسرز پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کر دی گئی جس کے ذمے یہ ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ ان کتابوں کا تعین کرے جو سال بھر میں افسروں کو تقسیم کی جانی تھیں۔ اس زمانے میں افواجِ پاکستان میں آفیسرز کی تعداد تقریباً 25،26 ہزار تھی اس لئے یہ کتابیں اس تعداد کو مدنظر رکھ کر طبع کی جاتی تھیں۔ ان چار کتابوں میں ایک کتاب اردو میں ہوتی تھی اور باقی تین انگلش میں۔۔۔ چونکہ اردو زبان میں تو کسی پیشہ ورانہ موضوع پر کوئی کتاب دستیاب ہی نہ تھی اس لئے سب سے پہلے مولانا مودودی کی ’’تفہیم القرآن‘‘ کو منتخب کیا گیا۔ یہ تصنیف غیر متنازعہ تھی اس لئے کسی نے بھی اس انتخاب پر اعتراض نہ کیا۔ غیرمسلم افسروں کی تعداد چونکہ کم تھی (بلکہ بہت ہی کم تھی) اس لئے ان کو مولانا کی تفہیم کے عوض ایک مزید پروفیشنل تصنیف ایشو کر دی جاتی تھی۔

انگریزی تصانیف زیادہ تر ملٹری کلاسیک ہوتی تھیں اور ان کو حقوقِ اشاعت حاصل کرکے چھاپ دیا جاتا تھا۔ ایک دو سال تک تو یہ سلسلہ ٹھیک ٹھاک چلتا رہا۔ لیکن بعد میں تاجرانہ رقابت کی بناء پر کتابوں کی چھپائی، ان میں استعمال ہونے والا کاغذ اور ان کی جلد بندی اتنی ناقص ہو گئی کہ کسی کتاب کو ایک بار پڑھنے کے بعد دوسری بار نہیں پڑھا جا سکتا تھا۔ ناشرانِ کتب کا اعتراض یہ تھا کہ 200روپوں میں چار معیاری کتابیں، معیاری کاغذ اور معیاری جلد کے ساتھ ’’وارے‘‘ میں نہیں آتیں۔ چنانچہ سالانہ چندے کی رقم بڑھا کر 300روپے فی آفیسر کر دی گئی لیکن پھر بھی دیرینہ بیماریوں میں کچھ افاقہ نہ ہوا۔ ہاں البتہ ایک بات جو قابلِ تعریف تھی وہ یہ تھی کہ تفہیم القرآن کا کاغذ اور اس کی جلد بندی معیاری رہی (شائد اس میں مذہبی تقدس کا عنصر شامل تھا)۔ اس تفہیم کی چھ جلدیں ہیں جو بڑی تقطیع میں ہیں اور جن میں ہر جلد کی ضخامت 650صفحات سے زیادہ ہے۔

یہ بھی 50روپے فی جلد کے حساب سے چھپتی اور تقسیم ہوتی رہیں۔ میرے پاس اب تک وہ چھ جلدیں جوں کی توں موجود ہیں حالانکہ میں نے اَن گنت بار ان سے استفادہ کیا ہے۔ یعنی کھولا ،پڑھا اور بند کیا ہے۔۔۔لیکن ملٹری ہسٹری کلاسیک اور دوسری پیشہ ورانہ موضوعات کی تصانیف جو تین عدد فی سال کے حساب سے ملتی تھیں، ان میں سے ایک بھی میرے پاس موجود نہیں۔۔۔ ساری کی ساری ردی میں فروخت کر دی گئیں۔۔۔ مٹی کے پیالے میں شرابِ ارغوانی ازراہِ مجبوری پی تو جا سکتی ہے لیکن سرور نہیں آتا!

میرا خیال ہے دو تین برس بعد ہی نیوی اور ائر فورس نے اس سکیم میں شراکت پر اعتراضات اٹھا دیئے اور کہا کہ ان کو جو کتابیں دی جاتی ہیں وہ ان کے سروس تقاضوں کو پورا نہیں کرتیں۔ چنانچہ فیصلہ کیا گیا کہ یہ دونوں سروسز اپنے اپنے بک کلب علیحدہ بنائیں گی۔ مجھے پتہ نہیں کہ آج کل صورتِ حال کیا ہے لیکن کچھ سال پہلے تک یہ سکیم جاری تھی۔

2001ء کی ’’پاکستان نیوی بک کلب‘‘ کی ایک کتاب مجھے دیکھنے کو ملی تھی۔ یہ پاک بحریہ کے ان لطائف اور دلچسپ واقعات پر مشتمل تھی جو 1947ء سے 2000ء تک کی نیول ہسٹری سے متعلق تھے۔ دوسری سروسز کے قارئین یا کوئی عام سویلین ان سے وہ حظ نہیں اٹھا سکتے اس کا نام ’’پانی کے بلبلے‘‘ (Bubbles of Water) ہے اور اس کے مصنف ریئر ایڈمرل میاں ظاہر شاہ (ریٹائرڈ) ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کتاب میں بھی زیادہ تر ایسے لطائف ہیں جن سے صرف بحریہ کے آفیسرز ہی کماحقہ لطف اندوز ہو سکتے ہیں، آرمی، ائر فورس اور سول سروس کے آفیسرز اس لئے ان سے محظوظ نہیں ہو سکتے کہ جو اصطلاحیں اور روز مرہ ان واقعات و لطائف کے بیان میں استعمال کیا گیا ہے اس کے پیچھے اس سروس (بحریہ) کی پوری تاریخ ہے۔یہ تاریخ چونکہ پاک بحریہ کو رائل انڈین نیوی سے ورثے میں ملی اس لئے نیول لطائف بھی وہی ہیں جو برطانوی بحریہ میں رائج تھے اور آج بھی بہت ذوق و شوق سے پڑھے اور یاد کئے جاتے ہیں۔

اس کتاب (پانی کے بلبلے) میں ایک ایسا واقعہ درج ہے جس میں کسی خاص اصطلاحی تفہیم کی ضرورت نہیں۔ چونکہ اس کی تفصیلات عام فہم ہیں اس لئے آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔

ملٹری میں کئی طرح کی پریڈیں ہوتی ہیں جو فوجیوں کی زندگی کا روزمرہ کا معمول شمارہوتی ہیں۔ مثلاً مارننگ پریڈ، پاسنگ آؤٹ پریڈ، تقریباتی (سیری مونیل) پریڈ وغیرہ۔ ان پریڈوں میں ہر آفیسر، جے سی او اور سولجر کی شرکت لازمی ہوتی ہے۔ جب یہ پریڈیں کھڑی (فالن) کی جاتی ہیں تو ان کے ہمراہ ایک ’’سِک پریڈ‘‘ (Sick Parade) بھی فالن ہوتی ہے اور جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے، یہ ان سپاہیوں پر مشتمل ہوتی ہے جو کسی بھی وجہ سے بیمار ہو جاتے ہیں اور اپنا مجوزہ کام کاج کرنے سے عارضی طور پر معذور ہوتے ہیں۔ بیمار آفیسرز CMH میں چلے جاتے ہیں اور وہاں سٹاف سرجن کو رپورٹ کرکے دوائی وغیرہ لیتے ہیں اور جہاں تک سولجرز کا تعلق ہے تو ان کے لئے یونٹ ہی میں RMO (رجمنٹل میڈیکل آفیسر) کا انتظام ہوتا ہے۔ تمام بیمار سولجرز پریڈ ڈسمس ہونے کے بعد ایم آئی روم (میڈیکل انسپکشن روم)جاتے اور اپنی تکلیف بیان کرتے ہیں۔ ڈاکٹر اگر سمجھے تو دوا کے ساتھ ایک دو دن کا آرام بھی لکھ دیتا ہے جس کو Attend 'C' کہا جاتا ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ سولجر یونٹ لائنوں ہی میں رہے گا لیکن کوئی مشفقت والا کام نہیں کرے گا۔

یہ ’’سِک پریڈ‘‘ نیوی میں بھی ہوتی ہے۔۔۔۔ایک تو بحری جہاز کا ماحول گھٹا گھٹا سا ہوتا ہے اور دوسرے جگہ کی تنگی کے باعث ’سک پریڈ‘‘ کی نفری میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ بہت سے آفسیرز اور جوان بیماری کا بہانہ بنا کر ’آرام‘‘ کرتے ہیں۔ ان بہانہ سازوں کو اصطلاح میں ’’کام چور‘‘ (Malingrers)کہا جاتا ہے۔۔۔۔ اصل بیمار اور کام چور کے درمیان امتیاز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

یہ مسئلہ اگرچہ دنیا کی تمام افواج کو درپیش ہے لیکن بالخصوص نیوی میں آبدوز برانچ کے عملے کو تو عموماً مختلف قسم کی بیماریوں سے سابقہ رہتا ہے۔ بالائے آب جہاز اور زیرِ آب جہاز کے ماحول میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ آبدوز کا رقبہ بہت کم ہوتا ہے۔ تازہ ہوا کی بھی قلت ہوتی ہے۔ پینے کا پانی بھی راشن کیا جاتا ہے۔

ان وجوہات کی بناء پر آبدوزوں میں سک رپورٹ پریڈ کی نفری زیادہ ہوتی ہے۔ پھر یہ بھی ہوتا ہے کہ تمام افراد کا ٹاسک خصوصی اور ٹیکنیکل نوعیت کا ہوتا ہے اور مجبوری یہ ہوتی ہے کہ جگہ کی قلت کے باعث کسی ایک جاب پر ایک آدمی ہی مقرر کیا جا سکتا ہے۔ اس صورتِ حال میں اگر کوئی سیلر، وارنٹ آفیسر (JCO) یا آفیسر بیمار ہو جائے تو اس کی جگہ اس کا متبادل ملنا دشوار ہو جاتا ہے۔ اس کا حل یہ نکالا گیا ہے کہ ایک ایک سولجر کو تین تین مشینوں یا کاموں (Tasks) پر ٹریننگ دی جاتی ہے۔ پھر بھی مسائل کم نہیں ہوتے۔ چنانچہ یہ صورتِ حال دنیا کی ہر نیوی کی آبدوز برانچ میں ہر کمانڈر کی پرابلم بنی رہتی ہے!

1980ء کی دہائی میں پاکستان نے فرانس سے آگسٹابی کلاس کی تین آبدوزیں خریدیں۔ آج یہ تینوں پاک بحریہ کا حصہ ہیں۔ ان میں سے پہلی آبدوز (پی این ایس، خالد) فرانس کی بندرگاہ طولون کی شپ یارڈ میں بنائی گئی۔ دونوں ملکوں میں معاہدہ طے پایا کہ دوسری آبدوز کراچی کی شپ یارڈ میں اسمبل کی جائے گی اور تیسری ساری کی ساری اسی شپ یارڈ میں بنائی جائے گی۔ اس پہلی آبدوز کے لئے ٹریننگ حاصل کرنے والے عملے (کریو) کو فرانس جا کر آن جاب ٹریننگ حاصل کرنی تھی۔

یہ عملہ جب فرانس پہنچا تو ’بہانہ ساز گروہ‘ کی بن آئی۔ اس نے سمجھا کہ اس یورپی ملک میں ادویات بھی اصلی ملیں گی، ان کی تاثیر بھی فوری ہوگی اور پھر Attend 'C' کی سہولیات بھی وافر تعداد میں میسر آئیں گی۔

چنانچہ یہ بہانہ ساز گروہ دل میں یہ ارمان لئے فرانس کے بندرگاہی میڈیکل آفیسر کے سامنے پیش ہوا۔ امید تھی کہ اگر تین دن کی Attend "C" مل گئی تو بندرگاہ میں کام کرنے والی اور آس پاس آنے جانے والی اور بالخصوص بکنی میں ساحلِ بحر پر دھوپ تاپتی نیم برہنہ گوریوں کو جی بھر کر دیکھنے کی حسرت پوری ہو جائے گی۔ اس طرح ’’بیمار‘‘ سیلرز اور وارنٹ آفیسرز فرانسیسی میڈیکل آفیسر کے سامنے پیش ہوئے۔ لیکن ابھی ایک گھنٹہ بھی نہیں گزرا تھا کہ سارا گروہ واپس آتا نظر آیا۔ باقی پاکستانی عملے نے دل ہی دل میں فرانسیسی میڈیکل برانچ کی تعریف شروع کر دی کہ دیکھیں کتنی جلد اتنے سارے بیمار عملے کو بھگتا دیا گیا ہے۔ لیکن جب غور سے دیکھا تو سب بیماروں کے منہ لٹکے اور چہرے اترے ہوئے تھے۔ ساتھیوں نے پوچھا کہ کیا ہوا؟۔۔۔ فرانسیسی میڈیکل سہولیات کی تفصیلات بتائیں۔۔۔ کیا کیا دوائیاں دی گئیں۔۔۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ تھی کہ یہ سارا گروہ بالکل چپ تھا اور سب کی زبانیں گویا گنگ تھیں۔

اگلے روز دیکھا تو ’’سک رپورٹ‘‘ کی تعداد بہت تھوڑی ہو گئی اور تیسرے روز کوئی ایک شخص بھی سک رپورٹ میں موجود نہیں تھا۔ اس کے بعد جب تک یہ پاکستانی عملہ وہاں فرانس میں ٹریننگ کرتا رہا، بہت ہی کم لوگ ’بیمار‘ ہوئے اور جو ’بیمار‘ ہوئے وہ واقعی اصلی بیمار (Genuine Sick) تھے!

کمانڈنگ آفیسر کی خوشی دیدنی تھی۔ سارا عملہ کام کر رہا تھا۔ سب کے سب ’تندرست‘ تھے۔ یہ ایک قسم کا معجزہ تھا۔ لیکن یہ معمہ ابھی تک حل نہیں ہو رہا تھا کہ اس ’تندرستی‘ کی اصل وجہ کیا ہے۔ تاہم اس قسم کی خبریں زیادہ دیر تک چھپی بھی نہیں رہ سکتیں۔ جلد ہی یہ انکشاف ہو گیا کہ سِک رپورٹ کے زیرو ہونے کا اصل سبب ’’فرانسیسی طریقہ ء علاج‘‘ ہے!۔۔۔ اس ’نسخہ ء کیمیا‘ کی تفصیل یہ ہے۔

ہمارے پاکستانی فوجی تو برطانوی طریقہ ء علاج کے عادی ہیں۔ یعنی ٹمپریچر چیک کرنا ہو تو منہ کھول دیتے ہیں اور ایک پتلا سا شیشے کا بنا ہوا تھرمامیٹر منہ میں رکھ لیتے ہیں اور دو منٹ تک منہ بند رکھتے ہیں اور پھر نکال کر دیکھ لیتے ہیں کہ کتنا بخار ہے۔۔۔ اسی طرح کڑوی کسیلی گولیوں کو شوگر کوٹ کر لیتے ہیں یا سفوف اگر زیادہ کڑوا یا ’’بَک بَکا‘‘ ہو تو اس کو کیپسول میں بند کرکے پانی سے نگل لیتے ہیں۔۔۔ ٹیکہ لگانا ہو تو آستینیں اوپر کرکے بازو پر لگوا لیتے ہیں۔

لیکن فرانسیسی ڈاکٹر کمرے میں داخل ہوتے ہی بیمار کو حکم دیتا ہے کہ اپنی پتلون اتار دو۔ چنانچہ پہلے بوٹ اترتے ہیں، پھر جرابیں، پھر پتلون اور آخر میں انڈرویئر بھی اتار لئے جاتے ہیں۔ اگر انجکشن لگانا ہو تو نرم و گداز چوتڑ (Buttock) پر لگاتے ہیں۔۔۔ گولیاں اور کیپسول وغیرہ جمبوسائز کے ہوتے ہیں۔ ان کو ایک خوفناک قسم کی بڑی سی پچکاری میں بھر کر مریض کے ناقابلِ گفتنی ’’عقبی سوراخ‘‘ سے اندر داخل کر دیتے ہیں۔ اگر مریض درد سے چلانے لگے تو ساتھ ہی کھڑا پیرا میڈیکل سٹاف جو خاصا قومی الجثہ ہوتا ہے، فوراً مریض کو ٹانگوں اور بازوؤں سے پکڑ کر بے حس و حرکت کر دیتا ہے۔۔۔۔ یعنی نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن والا معاملہ ہو جاتا ہے۔

ٹمپریچر لینے کا تھرمامیٹر بھی اتنا اوورسائز ہوتا ہے کہ اسے دیکھتے ہی مریض کو دن میں تارے نظر آنے لگتے ہیں۔ ڈاکٹر کی نگرانی میں بیمار کا ٹمپریچر منہ میں یا بغل میں دبا کر نہیں لیا جاتا بلکہ اس کے لئے بھی مریض کے عقبی سوراخ کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔چنانچہ آبدوز کے ہمارے پاکستانی عملے نے پچکاری کو ’’تارپیڈو‘‘ کا نام دے رکھا تھا اور تھرمامیٹر کو ’’لوڈنگ ٹیوب‘‘ کہنا شروع کر دیتا تھا۔ (تارپیڈو اور لوڈنگ ٹیوب آبدوز کی مخصوص اصطلاحیں ہیں۔ )جب بھی کوئی بیمار سیلر ان ’’ہتھیاروں‘‘ کا نام سنتا تو اس کو سمجھ آ جاتی کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ اس کے گرائیں اسے کہتے کہ : ’’بابا پہلے تارپیڈو اور لوڈنگ سٹک کا طول و عرض دیکھ لو اور پھر اپنے عقبی حصے کا ناپ بھی لے لو۔۔۔ اللہ اللہ خیر سلا!‘‘

مزید :

رائے -کالم -