انٹرنیشنل مسلم ویمن یونین کا کشمیر میں خواتین کی حالت زار پر سیمینار

انٹرنیشنل مسلم ویمن یونین کا کشمیر میں خواتین کی حالت زار پر سیمینار

  

لاہور( لیڈی رپورٹر)جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل میں انٹرنیشنل مسلم ویمن یونین نے کشمیر کے جنگ زدہ علاقے میں خواتین کی حالت زار اور ان کے کردار کے زیر عنوان ایک سیمینار منعقد کیا۔ میڈم شمیم شال نے سیمینار میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ تنازعہ کشمیر کو پرامن طریقے سے حل کرانے میں مدد دیں۔پاکستان اور بھارت کے درمیان اس تنازعے کی وجہ سے جنوبی ایشیا کے امن کو بھی خطرہ ہے۔اقوام متحدہ کی کئی قراردادوں میں یہ ایک متنازع مسئلہ ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو دبانے کی کوشش کررہاہے۔ کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے گزشتہ مہینوں کے دوران کاروائیوں میں اضافہ ہوا ہے، اور مسلح بھارتی فوجی معصوم شہریوں پر ظلم کی داستانیں رقم کررہے ہیں، جبکہ خطے میں بنیادی انسانی حقوق کو پاما ل کیا جارہا ہے. پروفیسر شگفتہ اشرف نے اجلاس کی صدارت کی اور بڑے پیمانے پر جاری جنسی تشدد پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج کی طرف سے خواتین کی بے حرمتی اور جبری گمشدیاں روز کا معمول چکی ہیں۔

7ہزار لوگوں کو دوران قید قتل کیا گیا ہے۔ 22ہزار عورتیں بیوہ ہوئی ہیں۔ ایک لاکھ پانچ ہزار بچے یتیم جبکہ 11ہزار خواتین کی عصمت دری کی گئی ہے۔ 6ہزار قبریں اور ہزاروں لوگوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کیا گیا ہے۔ ،آصفہ بانو کی وکیل دپیکا راجوات سنگھ بھی خصوصی طور پر اس پروگرام میں شرکت کی لیے انڈیا سے ائی ہوئی تھی۔ دپیکا راجوات سنگھ اپنی تقاریر میں کہا کہ بھارت نے اپنی فورسز کو ا?رمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ اور دیگر کالے قوانین کے ذریعے نہتے کشمیریوں پر مظالم کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ انہو ں نے کہا کہ عالمی ادارے کی انسانی حقوق کونسل کی ٹیم کو صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے مقبوضہ علاقے کا دورہ کرنا چاہیے۔یورپین پارلیمینٹ ممبر جولی وارڈ نے بھی ٹیلیفونک خطاب کیا اور کہا ک? مقبوضہ کشمیر میں مصائب میں گھری خواتین کی حالت زار کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ وہ کشمیری خواتین کو درپیش مشکلات کواجاگر کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -