مالی مشکلات کا شکار پی ایچ ایف ایک اور مشکل میں پھنس گئی

مالی مشکلات کا شکار پی ایچ ایف ایک اور مشکل میں پھنس گئی

  

لاہور(سپورٹس رپورٹر)مالی مشکلات کا شکار پاکستان ہاکی فیڈریشن ایک اور مشکل میں پھنس گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان ہاکی فیڈریشن کی طرف سے مناسب حکمت عملی نہ اپنائے جانے کے بعد فیڈریشن کا خزانہ اس وقت خالی پڑا ہے، حکام کا خیال تھا کہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے دور میں منظور ہونے والی 20 کروڑ روپے کی گرانٹ ملے گی تواس رقم سے کھلاڑیوں کے واجبات ادا کر دیں گے تاہم ایف آئی ایچ چیمپئنز ٹرافی میں گرین شرٹس کی مایوس کن کارکردگی کے بعد نگران وفاقی حکومت نے کروڑوں روپے کی یہ گرانٹ روک لی جس کے بعد مالی مسائل نے پی ایچ ایف کو بری طرح جکڑ لیا۔صدر پی ایچ ایف بریگیڈیئر(ر)خالد سجاد کھوکھر نے ایشین گیمز سے قبل ہنگامی بنیادوں پر اپنے طور پر کچھ رقم کا انتظام کر کے ٹیم کے ہر کھلاڑی کو 8لاکھ میں سے 6 لاکھ روپے کی ادائیگیاں کیں، رہ جانے والی 2لاکھ روپے کی رقم بعد میں ادا کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی۔

اب ایشین چیمپئنز ٹرافی کے لئے بھی ہر کھلاڑی کو2لاکھ روپے دینے باقی ہیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ قومی کیمپوں کے موقع پر ٹیم کے ہر کھلاڑی کو یومیہ ایک ہزار روپے جب کہ انٹرنیشنل ایونٹس کا حصہ بننے کی صورت میں 150ڈالر روزانہ کے حساب سے ملتے ہیں۔کھلاڑیوں کا دبے دبے الفاظ میں کہنا ہے کہ قاسم ضیاء کے دور میں سینٹرل کنٹریکٹ دیے جاتے تھے تاہم یہ معاہدے بھی ختم کیے جا چکے ہیں جس کے بعد ہمارا سارا دارومدار انٹرنیشنل ٹورز کے موقع پر ملنے والی رقوم پر ہوتا ہے، واجبات نہ ملنے کی وجہ سے ہمارے مالی حالات خراب ہو چکے ہیں، وزیر اعظم سے مطالبہ ہے کہ قومی کھیل کو فوری طور پر خصوصی گرانٹ جاری کی جائے تاکہ ہم معاشی تفکرات سے بالا ہو کر اپنے کھیل کی طرف توجہ دے سکیں۔

مزید :

کھیل اور کھلاڑی -