جہاد کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے، پروفیسر ساجد میر

جہاد کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے، پروفیسر ساجد میر

  

لاہور (خصوصی رپورٹ ) امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ جہاد کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے کسی فرد یاتنظیم کو ایسے کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ پیغام پاکستان کے عنوان پر اس قومی بیانیہ کو تمام مکاتب فکر کی حمایت حاصل ہے۔ سادہ لوح نوجوانوں میں ایک سازش کے تحت فکری انتشار پیدا کیا گیا۔ اور خود کش حملوں کو جنت میں داخلے کا ذریعہ قراردیا گیا۔دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاک فوج کا کردار قابل تحسین ہے۔اس امر کا اظہار انہوں نے جامعہ سلفیہ میں وفاق المدارس السلفیہ کے زیر اہتمام ’پیغام پاکستان ‘سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔پروفیسرساجد میر نے مزید کہا کہ امن قوم وملت کی بنیادی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر ہم کسی شعبے میں ترقی نہیں کر سکتے۔ تعلیم سے قومیں بنتی ہیں۔ لیکن امن کے بغیر ہم تعلیم نہیں دے سکتے۔ اور نہ ہی اس کے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔ معاشرے کی بنیادی ضرورت روز گار ہے۔ جس کے لیے پر امن ماحول ازحد ضروری ہے۔ بدقسمتی ہمارا ملک ایک عرصہ تک تخریب کاری اور دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔ اس کے خاتمے کی اولین ذمہ داری ریاست ہوتی ہے۔ جنہوں نے اپنی افواج کے ذریعے اس پر قابو پایا۔ اور ہزاروں فوجی افسران اور سپاہیوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان کے ساتھ سلامتی کے دیگر اداروں ایجنسیوں نے بھی بھر پور کردار ادا کیا۔ تب جا کر یہ فتنہ فساد ختم ہوا۔ اس پر ہم اپنی بہادر افواج کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔سیمینار سے شیخ الحدیث مولانا محمد یونس ، پروفیسر نجیب اللہ طارق نے بھی خطاب کیا۔ سیمینار میں وفاق المدارس السلفیہ پاکستان سے منسلک جامعات اور مدارس کے شیوخ الحدیث اور ناظمین ذمہ داران نے شرکت کی۔

مزید :

صفحہ آخر -