کیازیر التواء منصوبے مکمل ہوں گے؟

کیازیر التواء منصوبے مکمل ہوں گے؟
کیازیر التواء منصوبے مکمل ہوں گے؟

  

کچھ عرصہ سے پاکستان میں ہونے والے قومی انتخابات جہاں بے تحاشا اخراجات کا باعث بن رہے ہیں وہاں ان قومی انتخابات کی الیکشن مہم میں سیاسی جماعتوں کے قائدین اور نمائندگان کی طرف سے ملکی ترقی اور غریبوں کی سہولیات کے بارے میں بلند و بانگ دعوے اور عوام کے ساتھ جھوٹے وعدوں کے لگائے جانے والے انبار بھی سامنے آئے ہیں ، وہ وعدے جو آج تک نہ تو پورے ہوئے ہیں اور نہ ہی اُن کے پورا ہونے کی کوئی اُمید کی جا سکتی ہے ، باقی رہی بلند و بانگ دعووں کی بات تو وہ بیان کرنے میں کافی وقت درکار ہوگا کیونکہ سیاسی قائدین اور اُن کے پیرو کاروں نے جس اندازِسے اُن دعووں کی آڑ میں عوام کے دل جیتے اور اپنا ووٹ بینک بڑھایا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ، اب اگر یہ کہا جائے کہ موجودہ حکومت نے اپنی انتخابی مہم میں جو کچھ کہا وہ بالکل جھوٹ اور فریب کا سر چشمہ ہے تو غلط ہوگا ، کیونکہ سابقہ حکومت نے بھی توایسے ہی کچھ دل فریب اور عوام کی آنکھوں میں سہانے خواب سجانے والے دعوے اور وعدے کئے تھے بلکہ موجودہ اورسابقہ حکومتیں انہی دعووں اور وعدوں کی وجہ سے ووٹ حاصل کرتی ہیں ، پھر ہمارے عوام بھی ’’ بھولے بادشاہ ‘‘ ہوئے جو سابقہ اور موجودہ حکومت سے اُن وعدوں اور دعووں کے حوالے سے کوئی حساب نہیں مانگتے ، اسی وجہ سے پاکستانی عوام کے منتخب کئے ہوئے نمائندے سابقہ حکومتوں کے کرپٹ نمائندگان سے کسی قسم کا کوئی حساب مانگنے سے کتراتے ہیں ، چونکہ عوام نمائندوں سے احتساب نہیں مانگتی اسی لئے نمائندے جو کہ ’’ پیٹی بھائی ‘‘ بن جاتے ہیں وہ ایک دوسرے سے احتساب کا عمل جاری رکھنا گناہ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے حکومتوں کو آئی ایم ایف سے قرضہ جبکہ عوام سے چندہ تک مانگنا پڑتا ہے ۔

تحریک انصاف کی حکومت کے کسی نمائندے سے اگر پوچھا جائے کہ آپ نے پروٹوکول ختم کرنے ، مہنگائی پر قابو پانے ، اسٹیٹس کو کے خاتمہ کی پالیسی بنانے ، گورنر ہاؤسز گرانے ، کرپشن کی ایک ایک پائی وصول کرنے ، غریب اور امیر کے لئے یکساں انصاف کی فراہمی ، عدالتوں میں کام کو تیز کرنے کے احکامات ، سرکاری رہائشوں کو چھوٹا کیا جانا ، حکومتی نمائندوں کے لئے پرائیویٹ طیاروں کی ممانعت جیسے وعدے پورے نہیں کئے ، پاکستان کے کرپٹ افراد سے کرپشن کی پائی پائی وصول نہیں کی تو تحریک انصاف والے کہتے ہیں کہ سابقہ دور حکومت میں مسلم لیگ ن نے بھی تو یہی کیا تھا ، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر موجودہ حکومت نے مسلم لیگ ن والی حکومت والے کام ہی کرنے ہیں تو حکومت تبدیل کرنے کی کیا ضرورت تھی یہ کام تو سابقہ حکومت بڑی خوش اسلوبی سے سر انجام دے رہی تھی ۔

مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف تحریک انصاف نے دھرنے دیئے ، احتجاج کیا کہ جعلی مینیڈیٹ سے ن لیگ کی حکومت بنا ئی گئی ہے ، اب مسلم لیگ ن کے نمائندے کہتے ہیں کہ تحریک انصاف جعلی مینیڈیٹ سے حکومت میں آئی ہے ، لیکن مسلم لیگ ن کی طرف سے ابھی تک کوئی احتجاج یا دھرنا پلان نہیں کیا گیا ، اس حکمت عملی میں لیگی قائدین کا ڈر شامل ہے یا وہ واقعی مجرم ہیں ، کہیں یہ وجہ انہیں احتجاج نہ کرنے پر مجبور تو نہیں کر رہی ؟ خیر وقت کے ساتھ ساتھ تمام صورت حال سامنے آ جائے گی ۔

پنجاب کی سابقہ مسلم لیگی حکومت نے جس بے دریغ طریقے سے فنڈز مختلف بوگس کاموں پر خرچ کئے وہ بھی اپنی جگہ ایک سوال ہے ، یورپی اور ساوتھ ایشیائی ممالک میں وہی کام انتہائی سستے داموں مکمل کئے جاتے ہیں لیکن پاکستان میں اُن کاموں کے اخراجات کئی گنا زیادہ کئے گئے جس کا جواب پنجاب کی سابق حکومت کو دینا ہی پڑے گا ۔

میاں شہباز شریف کے دور حکومت کی وجہ سے اس وقت پنجاب کا بجٹ خسارہ 5ارب سے تجاوز کر چکا ہے ،اس وقت موجودہ حکومت کے پاس روزانہ کی بنیاد پر حکومت چلانے کے لئے بھی کچھ نہیں بچا ، پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے ہمیشہ ایسے منصوبوں پر کام کیا جن کی افادیت کم تھی اور اُن کاموں کا دکھاوا زیادہ جو پنجاب کے خزانے کے شدید نقصان کا باعث بنا ، لاہور میٹرو پراجیکٹ لمبائی 27کلو میٹر اور لاگت 30بلین روپے ، ہندوستان میں یہی خرچ 8.1بلین روپے ، چین میں یہی پراجیکٹ 12بلین روپوں میں ، میٹرو بس منصوبے کو زندہ رکھنے کے لئے پنجاب حکومت کو 2.71 کے حساب سے سبسڈی ہر سال اپنے پلے سے ڈالنا پڑتی ہے ، اسی طرح اورنج ٹرین منصوبے کی لاگت اور موازنہ کچھ اس طرح ہے ، لاہور اورنج ٹرین لائن کی کل لمبائی 27.1 کلو میٹر ہے جس پر اب لاگت 240بلین روپوں تک پہنچ جائے گی ، اس منصوبے کے لئے شروع میں چین سے 162ارب روپے قرضہ بھی لیا گیا تھا ، اب اورنج ٹرین لائن کے منصوبے کو سنگاپور جیسے مہنگے ملک کے ساتھ موازنے میں لایا جائے تو خرچ 45بلین روپے ہوگا ، سپین میں اسی لمبائی کی ٹرین کی لاگت 158بلین روپوں میں ہوگی ، چین میں اتنی لمبائی کی ٹرین کے اخراجات 147بلین روپے ہیں ۔اسی طرح سے اورنج ٹرین چلانے کے لئے حکومت کو سالانہ 14بلین روپے سبسڈی ہر سال اپنے خزانے سے ادا کرنا ہو گی ، اس کے علاوہ ملازمین کی تنخواہیں ، ان منصوبوں کو چلانا اور سالانہ دیکھ بھال پر آنے والے اخراجات اس تفصیل میں نہیں لکھے گئے۔

یوں حکومت پنجاب کو ہر سال اربوں روپے ان منصوبوں کو چلانے کے لئے اپنے بجٹ میں سے نکالنے ہوں گے ۔سابق دور میں شروع کئے گئے پنجاب حکومت کے چار منصوبے آئین سے ہٹ کر اور مہنگے داموں بنائے گئے اب ان منصوبوں کو مکمل کرنا بہت مشکل ہوگا کیونکہ اس کے لئے کوئی رقم میسر نہیں ہے ۔

اورنج ٹرین کی مد میں لیا گیاچینی قرضہ روپے کی قیمت کم ہونے سے 250ارب امریکی ڈالرز ہو چکا ہے ، اورنج ٹرین کے قرضے کے علاوہ حکومت نے 40ارب روپے مہیا کرنے تھے جو میسر نہیں ، اورنج ٹرین کا خرچ پنجاب کے ایک سال کے بجٹ سے تقریباً آدھا ہے ،دوسری طرف جھنگ بجلی گھر کے لئے حکومت پنجاب نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 90ارب مختص کئے جن میں سے 72ارب قرضے کے ہیں ، اس منصوبے کے لئے حکومت پنجاب نے 20ارب ابھی دینا ہے جو میسر نہیں ، پھر پاکستان گردہ و جگر نامی ادارے بنائے بنائے گئے اور وہ بھی غیر قانونی جس پر اب تک 13ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں جبکہ ابھی 4ارب روپے پنجاب کے خزانے سے ادا ہونا باقی ہیں ۔ پنجاب حکومت نے تین سڑکوں کی غیر قانونی تعمیر بھی شروع کر رکھی ہے جن کی لاگت 35سے 40ارب روپے ہے جبکہ خزانے میں کوئی پیسہ نہیں ، ان میں خانیوال سے لودھراں اور ڈیرہ غازی خان سے مظفر گڑھ تک کی شاہرات شامل ہیں یہ منصوبے قوانین سے ہٹ کر تو شروع کئے ہی گئے تھے لیکن ان منصوبوں میں ریکارڈ کرپشن بھی کی گئی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ حکومت خالی خزانے کے ساتھ زیر التواء منصوبوں کو پورا کرتی ہے یا کہ پنجاب کے ان منصوبوں کو مکمل کرنے کے لئے بھی پاکستانی عوام اور اوورسیز پاکستانیوں سے قرضوں کی اپیل کرنی پڑے گی؟

مزید :

رائے -کالم -