ضلع ملاکنڈمیں موذی مرض خسرہ سے بچاؤ مہم کے لئے 142سنٹرز قائم

ضلع ملاکنڈمیں موذی مرض خسرہ سے بچاؤ مہم کے لئے 142سنٹرز قائم

  

بٹ خیلہ(بیورورپورٹ) ضلع ملاکنڈمیں موذی مرض خسرہ سے بچاؤ مہم کے لئے 142سنٹرز قائم کئے جائینگے جن میں 95آوٹ ریچ سنٹرزاور 45فیکس سنٹرز شامل ہیں جبکہ ٹیموں کیساتھ ساتھ سوشل موبلائیزر ٹیمیں بھی ہونگے۔ 15اکتوبر سے 26اکتوبر تک چلائے جانے والے خسرہ سے بچاؤ مہم میں ملاکنڈ کے تمام یونین کونسلوں میں 9ماہ سے لیکر پانچ سال تک کے تقریبأ ایک لاکھ 14ہزار 583 بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے جائینگے اور ویکسینشن کی جائیگی ۔ پاکستان کو خسرہ فری ملک بنانے کے لئے عوام اور بالخصوص میڈیا کو بھر پور کردار ادا کرنا ہوگا ۔ ان خیالات کا اظہار EPIملاکنڈ کے ڈسٹرکٹ کوارڈنیٹر ڈاکٹر مراد علی نے درگئی میں خسرہ مہم کے سلسلے میں منعقدہ میڈیا ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ایک روزہ ورکشاپ میں تحصیل درگئی کے سینئر صحافیوں اور پریس کلب کے عہدیداروں نے شرکت کی ۔ اس موقع پر ڈاکٹر مراد علی نے کہا کہ نو ماہ سے لیکر 5سال عمر کے بچوں کے لئے موذی مرض خسرہ انتہائی خطرناک ہے تاہم بر وقت حفاظتی تدابیر اور ویکسینشن سے اس موذی مرض سے بچا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خسرہ سے کم عمر بچوں میں، بخار، نمونیا، بہرہ پن ، آندھا پن اور اسہال جیسے امراض پیدا ہونے کے خدشات ہوتے ہیں جبکہ مناسب اور بروقت علاج اور حفاظتی انتظامات نہ کرنے سے بچوں کی موت واقع ہو جاتی ہے اس لئے 9ماہ سے لیکر 5سال تک کے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوانا انتہائی ضروری ہے ۔ ڈاکٹر مراد علی نے کہا کہ اس سلسلے میں عوام میں شعور اُجاگر کرنے کے لئے سکولوں میں بھی خصوصی مہم چلائی جائیگی جبکہ ایمر جنسی رسپانس یونٹ بھی قائم کیا جائیگا ۔ڈسٹرکٹ کوارڈنیٹر نے کہا کہ بد قسمتی سے پاکستان اب بھی اُن ممالک میں شامل ہیں جہاں خسرہ کا مرض پایا جاتا ہے اور خسرہ مرض سے متاثرہ 17 فیصد بچے پیچیدہ آمراض کا شکار ہو رہے ہیں ۔ ڈاکٹر مراد علی نے کہا کہ خسرہ سے بچاؤ مہم میں میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہے ا سلئے ضلع ملاکنڈ کو خسرہ سے پاک کرنے کے لئے میڈیا عوام کو مہم کا مثبت رُخ دکھائیں تاکہ کوئی کوئی بچہ اس موذی مرض کا شکار نہ ہوں اور کوئی بچہ حفاظتی ٹیکوں اور ویکسینشن سے محروم نہ رہیں ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -