پشاور ، فرائض سے غفلت پر تنے پر پولیس میں 8635افسروں اور جوانوں کی سزائیں

پشاور ، فرائض سے غفلت پر تنے پر پولیس میں 8635افسروں اور جوانوں کی سزائیں

  

پشاور( کرائمز رپورٹر)محکمہ پولیس خیبر پختونخوا میں جزا و سزا کا عمل برابر جاری ہے اور اب تک فرائض میں غفلت اور عوامی شکایات پر مختلف رینک کے 8635 افسروں و جوانوں کو مختلف سزائیں دی گئی ہیں۔تفصیلات کے مطابق آئی جی پی صلاح الدین محسود کے حکم پر محکمہ پولیس خیبر پختونخوا میں جزا و سزا کا عمل مزید موثر بنادیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے آئی جی پی اپنے ذاتی موبائل کے ذریعے بھی عوام کی شکایات وصول کرکے اس پر باقاعدہ انکوائری کا حکم صادرکرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سنٹرل پولیس آفس پشاور میں واقع دفتر ڈی آئی جی انکوائری اینڈ انسپکشن میں بھی شکایات کنندہ گان اپنی شکایات کا اندراج کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ صوبے کے تمام اضلاع میں پولیس ایکسس سروس میں بھی مختلف ذرائع سے شکایات درج کی جاسکتی ہیں۔ اس سلسلے میں عوام کی جانب سے مختلف ذرائع بشمول پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا(فیس بُک،وٹس ایپ،ٹویٹر وغیرہ) سے موصول شدہ شکایات پر ضروری کاروائی عمل میں لانے کے بعد پچھلے پانچ سالوں کے دوران 21 ڈی ایس پیز کو مختلف سزائیں دی گئی ہیں جن میں 13 ڈی ایس پیز کو ملازمت سے برخاست/جبری ریٹائرڈ کردیا گیا ہے جبکہ 8کی تنزلی کر دی گئی ہے۔اسی طرح 94 انسپکٹرز کو بھی مختلف نوعیت کی سزائیں دی گئی ہیں جن میں 8 کو ملازمت سے برخاست/جبری ریٹائرڈ کر دیا گیا ہے۔ جبکہ 86 کی تنزلی کر دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 692 سب انسپکٹرز کو بھی مختلف نوعیت کی سزائیں دی گئی ہیں جن میں 55 کو ملازمت سے برخاستگی یا جبری ریٹائرمنٹ جبکہ 637 کی تنزلی کر دی گئی ہے۔سزا کی فہرست میں 830 اسسٹنٹ سب انسپکٹرز بھی شامل ہیں جن میں 52 کو ملازمت سے برخاست/جبری ریٹائرڈ کر دیا گیا ہے۔ جبکہ 778 کو تنزلی یا دیگر سزا دی گئی ہے۔ اسی طرح 1176 ہیڈ کانسٹیبلان بھی قانون کے شکنجے میں آچکے ہیں جن میں 92 کو ملازمت سے برخاست/جبری ریٹائرڈ کر دیا گیا ہے۔ جبکہ 1084 کو تنزلی یا دیگر سزا دی گئی ہے۔ مزید یہ کہ 5822 کانسٹیبلان کو بھی مختلف نوعیت کی سزائیں ہوئی ہیں جن میں 809 کو ملازمت سے برخاست/جبری ریٹائرڈ کر دیا گیا ہے۔ جبکہ 5013 کو تنزلی یا دیگر سزا دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ سزائیں تمام قانونی تقاضے پوری کرنے کے بعد عمل میں لائی گئی ہیں اور تمام اہلکاروں کو اپنی صفائی پیش کرنے کا پورا پورا موقع بھی فراہم کیا گیا۔ آئی جی پی نے واضح کیا ہے کہ پولیس فورس میں جزا و سزا کا عمل برابر جاری رہے گا بُرے کا موں پر سزا جبکہ اچھے کاموں پر اہلکاروں کی حوصلہ آفزائی جاری رکھی جائے گی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -