جماعت اسلامی کے قیام کا بنیادی مقصد رضائے الٰہی کا حصول ہے :منور حسن

جماعت اسلامی کے قیام کا بنیادی مقصد رضائے الٰہی کا حصول ہے :منور حسن

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی اقامت دین کی تحریک ہے اور تعمیر کردار اور تطہیر افکار کے ذریعے پورے معاشرے اورنظام کو اسلامی خطوط پر استوار کرنا چاہتی ہے ، اسلام کے عادلانہ نظام کا نفاذ اور رضائے الہیٰ کا حصول جماعت اسلامی کے قیام کا بنیادی مقصد ہے ، مولانا مودودی ؒ نے اپنے لٹریچر کے ذریعے پوری دنیا میں احیائے اسلام کی جدوجہد کی اور دنیا بھرمیں پھیلی ہوئی اسلامی بیداری اور اسلامی تحریکوں کی پیش رفت سید ابولاعلیٰ کے لٹریچر اور فکر و سوچ کی مرہون منت ہے ۔مولانا مودودی ؒ کی کتابیں دنیا بھر میں تقریباً ہر زبان میں ترجمہ ہو کر عام ہوئی ہیں اور لوگوں نے فیض حاصل کیا ہے ۔مولانا نے ملک کے اندر اسلامی دستور کی جدوجہد میں بھی اہم اور نمایاں کردار اداکیا۔ مصر،فلسطین ، بنگلہ دیش ، کشمیر اور دیگر ممالک میں سید مودودیؒ کی فکر ،سوچ اور نظریے کی بنیاد پر اسلامی تحریکیں جدوجہد کررہی ہیں ،ہمیں معاشرے کے اندر ازسر نو نظریاتی سیاست اور نظریاتی کشمکش پیدا کرناہوگی ،یہ کام صرف جماعت اسلامی ہی کرسکتی ہے اور یہ کام کر کے ہی ہم مولانا مودودی ؒ کو حقیقی طور پر خراج تحسین پیش کرسکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہا ر اتوار کی شب جماعت اسلامی کے تحت ’’سید مودودیؒ اور جماعت اسلامی ٗ دعوت تحریک،انقلاب‘‘ کے موضوع پر منعقدہ ایک عظیم الشان خصوصی اجتماع عام سے مقررین نے اپنے خطاب میں کیا ۔اجتما ع کی صدارت جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر سید منور حسن نے کی ۔اجتماع سے جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر حافظ محمد ادریس ،جماعت اسلامی شعبہ امور خارجہ کے ڈائریکٹر عبد الغفار عزیز ،معروف دانشور و تجزیہ کار شاہنواز فاروقی ،جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن ،نائب امیر ڈاکٹر اسامہ رضی و دیگر نے بھی خطاب کیا۔اجتماع کا انعقاد جماعت اسلامی کی تاسیس اور بانی جماعت اسلامی سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے یوم پیدائش اور وفات کے حوالے سے کیا گیا تھا ۔واضح رہے کہ 26اگست 1941کو جماعت اسلامی کی تاسیس عمل میں آئی تھی اور 25ستمبر 1903کو مولا نا سید ابولاعلیٰ مودودیؒ پیداہوئے اور 22ستمبر 1979کو ان کا انتقال ہوا تھا۔ اجتماع میں جماعت اسلامی سے وابستہ مرد وخواتین ،جماعت اسلامی کے ہمدرد اور عام افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔اجتماع میں شریک خواتین کے لیے علیحدہ انتظام کیا گیا تھا۔اجتماع میں سید ابولاعلیٰ مودودی ؒ کی حیات و خدمات پر مشتمل ڈاکومینٹری بھی دکھائی گئی ۔سید منور حسن نے کہا کہ آج اجتماع کے اندر بہت بڑی تعداد میں لوگوں کا آنا اور رات دیر تک شریک رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ تحریک اسلامی کے وابستگان کے اندر جوش و جذبہ اور عز م موجود ہے اور یہ عزم ہی زندہ تحریکوں کی علامت اور کامیابی کی ضمانت ہے ،پر عزم اور حوصلہ مند افراد ہی دنیا میں کوئی بہت بڑی تبدیلی لاسکتے ہیں ۔مولانا مودودیؒ کی تحریک اور جماعت اسلامی کی بنیاد ان کا لٹریچر اور ان کا مقصد اور مطمع نظر اقامت دین کی تحریک کا احیا کرنا اور اس کے ذریعہ اللہ تعالی کی رضا حاصل کر نا تھا ۔ ہمیں خود کو اس لٹریچر سے قریب کرنا ہے اور اپنا جائزہ لیتے رہنا ہے کہ ہمارا اس لٹریچر سے کتنا اور کیسا تعلق ہے ۔مولانا مودودیؒ نے اسلام کا یہ نظریہ پیش کیا کہ دین غالب ہونے کے لیے آیا ہے اور اس دین کے ماننے والوں کا فرض ہے کہ اس کو غالب کرنے کی جدوجہد کریں ۔ یہ دین دنیا کے اندر عدل اور میزان قائم کرنے آیا تھا اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کو دنیا میں نافذ کریں اور دین کی میزان قائم کریں ۔انہوں نے کہاکہ قرآن کو صرف ایک تلاوت کی کتاب نہ بنائیں بلکہ قرآن کو کتاب انقلاب کے طور پر لیں اور قرآ ن جو نظام چاہتا ہے جو حکم دیتا ہے اس پر عمل کریں اور اس کے احکامات کو نافذ کریں ۔ ۔حافظ محمد ادریس نے مولانا مودودیؒ کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات اور یادوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ سید مودودی ؒ اپنے ساتھیوں سے ایسا تعلق رکھتے تھے کہ جو شخص بھی ان سے تعلق رکھتا تھا وہ یہ سمجھتا تھا اور محسوس کرتا تھا کہ مولانا محترم سب سے زیادہ قریبی اور مضبوط تعلق اسی کے ساتھ رکھتے ہیں۔سید مولانا مودودی ؒ نے مجھے دعوتی اور تحریکی کام کے لیے کینیابھیجنا چاہا تو مجھ سے جانے کا کہا اور کہا کہ اپنے والدین اور اہلیہ سے بھی پوچھ کر آؤ کہ وہ تم کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں ، میں جب بھی وہاں سے آتا تو ان کو وہاں کے کام کے بارے میں بتاتا تھا۔مولانا مودودی ؒ نے دین کی جدوجہد میں بڑی قربانیاں دیں ، اللہ تعالیٰ نے اس جدوجہد میں ان کا ساتھ دینے کے لیے بہترین ہیرے اور نگینے ان کو دیے ۔مولانا غلام محمد اور میاں طفیل محمد جیسے لوگ دیئے جو زندگی بھر اس جدوجہد میں ان کے ساتھ رہے ۔ماہر القادری ، عامر عثمانی اور نعیم صدیقی جیسے بزرگ بھی مولانا مودودی ؒ کے ساتھ اس جدوجہد میں شریک رہے ۔ سید مودودی ؒ کا قافلہ فیضان عام اور صدقہ جاریہ ہے ۔جن لوگوں کی زندگی میں ان کی کتابوں اور فکر سے تبدیلی آئی وہ سب مولانا مودودیؒ کے لیے صدقہ جاریہ ہے ۔مولانا مودودی ؒ کی کتابیں دنیا بھر میں تقریباً ہر زبان میں ترجمہ ہو کر عام ہوئی ہیں اور لوگوں نے فیض حاصل کیا ہے ۔ان کی کتابیں پڑھ کر اور اسلام کے بارے میں ان کی فکر اور سوچ کو سمجھ کر دنیا کے کئی ممالک میں غیر مسلموں نے اسلام بھی قبول کیا۔ پاکستان اسلام کے لیے قائم کیاگیا اور قیام پاکستان کے فوراً بعد قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے ریڈیو پاکستان پر اسلامی نظام کے حوالے سے تقاریر کے لیے مولانا مودودی ؒ کو دعوت دی اور مولانا نے کئی تقاریر کیں ، مولانا نے ملک کے اندر اسلامی دستور کی جدوجہد میں بھی اہم اور نمایاں کردار اداکیا۔عبدا لغفار عزیز نے کہاکہ مولانا مودودیؒ نے کوئی نیا دین پیش نہیں کیا بلکہ قرآن و حدیث اور سنت کے اصولوں اور رہنمائی کے ذریعے اس دور کے حالات اور چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک فکر اور نظریہ پیش کیا ،دین کو سربلند کرنے کی تحریک کی بنیاد رکھی ، مولانا مودودی ؒ نے 1941میں جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی اور قیام پاکستان کے بعد ہجرت کی ، سید مودودی ؒ نے ہجرت اور مہاجر ہونے کی لاج رکھ لی ۔ سید مودودی ؒ نے واضح کیا کہ اسلام زندگی کے ہر گوشے اور شعبے کے لیے رہنمائی اور اصول فراہم کرتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ترکی کی برسراقتدار پارٹی کے ایک رہنما نے مجھے اپنے حالیہ دورے میں بتایا کہ ترکی کے اندر کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہوگا جو قرآن کو سمجھنا چاہتا ہواور اس کے پاس سید مودودیؒ کی تفہیم القرآن موجود نہ ہو۔مولانا مودودیؒ کی کتب اور ان سے پیدا ہونے والی فکر کے بارے میں دنیا بھرمیں بڑے بڑے اسکالرز نے خراج تحسین پیش کیا ہے ۔ موریطانیہ جیسے دور دراز ملک کے اندر اسلامی تحریک کی بنیاد مولانا مودودیؒ کی فکر اور تحریک ہی ہے ۔سید مودودیؒ ، سید قطب اور امام حسن البناء کی فکر آج بھی عالم اسلام میں مقبول ہے اور عوام اس سے وابستہ ہیں ۔انہوں نے کہاکہ مصر،فلسطین ، بنگلہ دیش ، کشمیر اور دیگر ممالک میں سید مودودیؒ کی فکر ،سوچ اور نظریے کی بنیاد پر اسلامی تحریکیں جدوجہد کررہی ہیں ، بنگلہ دیش کے اندر جماعت اسلامی بہت مضبوط ہے ، ہندوستان کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ آج ہمارے لیے بنگلہ دیش میں سب سے بڑا خطرہ جماعت اسلامی ہے ۔ مولانا مودودیؒ آج ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں لیکن ان کی فکر اور دعوت اور جدوجہد اور قربانیوں کے اثرات اور ثمرات آج بھی موجود ہیں ۔شاہنواز فاروقی نے کہاکہ سید مولانا مودودیؒ کا کا رنامہ یہ ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کو بتایا کہ ان کے زمانے کا حق کیا ہے اورباطل کیا ہے ، حق اور باطل کی وضاحت کی اور پورے باطل کو چیلنج کیا ۔ اس پوری انسانی تاریخ میں انبیاء اور پھر آخری نبی ؐ حضرت محمد ؐ نے بھی یہی کام کیا نبی آخر زماں ؐ کے بعد امت کے مجددّین نے بھی یہی کام کیا اور مولانا مودودیؒ نے بھی یہی کام کیا ۔مولانا مودودیؒ نے بتایا کہ اسلام نہ صرف حق ہے بلکہ غالب ہونے کے لیے آیا ہے اور اس غلبہ دین کے لیے ہی انہوں نے جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی ۔مولانا مودودیؒ نے اسی جدوجہد کے لیے اسلامی جمعیت طلبہ کی داغ بیل ڈالی ۔جمعیت نے انتہائی قلیل مدت کے اندر ملک کے تعلیمی اداروں کا منظر نامہ تبدیل کر کے رکھ دیا ۔سوشلزم اور کمیونزم کے مقابلے میں اسلام کا منظر پیش کیا اور نظریاتی سطح پر ان کو شکست سے دوچار کیا ،جماعت اسلامی نے1970میں صرف 24سال کی جدوجہد کے بعد پورے ملک سے 24لاکھ ووٹ حاصل کیے اور اپنی نظریاتی سیاست کی اہمیت اور حقیقت کو تسلیم کرایا۔ملک میں لگنے والے بار بار کے مارشل لاؤں نے ملک میں نظریاتی سیاست کو شدید نقصان پہنچایا ۔ آج بھی ہماری ضرورت صرف اور صرف نظریاتی سیاست ہے اور ہمیں معاشرے کے اندر ازسر نو نظریاتی سیاست اور نظریاتی کشمکش پیدا کرناہوگی اور اس کے لیے ہمیں مولانا مودودیؒ ، امام غزالی ؒ ، شاہ و لی اللہ ؒ ، اور علامہ اقبال ؒ کے ماڈل سے رہنمائی حاصل کرنا ہوگی ، یہ کام صرف جماعت اسلامی ہی کرسکتی ہے ۔آج یہ کام کر کے ہی ہم مولانا مودودی ؒ کو حقیقی طور پر خراج تحسین پیش کرسکتے ہیں ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ مولانا مودودیؒ نے اگست 1941میں جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی اور اقامتِ دین کی جدوجہد کی ایک تحریک کا آغاز کیا اور یہ تحریک آج پوری دنیا میں جاری ہے ۔کراچی عالم اسلام کا ایک اہم اور بہت بڑا شہر ہے ۔ اقامت دین کی اس جدوجہد میں کراچی نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے اور بڑی قربانیاں دیں ہیں۔مولانا مودودی ؒ ایک مفکر ، مدبر اور عالم دین ہی نہیں تھے بلکہ انہوں نے جماعت اسلامی کی صورت میں ایک فکری تحریک شروع کی، مولانا مودودیؒ کے لٹریچر سے دنیا بھرمیں اسلامی تحریکوں نے استفادہ کیا اور آج بھی اسی لٹریچر کے اثرات کو دنیا بھرمیں دیکھا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی کے قیام کا مقصد اسلام کے قیام کا نفاذ ہے ،ہماری جدوجہد نفاذ اسلام تک جاری رہے گی ۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -