منی لانڈرنگ اور کرپشن کے پیسوں کی ہیر پھیر ملک بھر میں زیر بحث

منی لانڈرنگ اور کرپشن کے پیسوں کی ہیر پھیر ملک بھر میں زیر بحث

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)ملک بھر میں اس وقت منی لانڈرنگ اور کرپشن کے پیسوں کے ہیر پھیر زیر بحث ہے۔کالے دھن کو سفید کرنا ہو یا، پھر کرپشن کی رقم ادھر سے ادھر کرنی ہو، دور جدید میں بینکاری کے نظام میں ہیر پھیر کر کے منی لانڈرنگ کی جاتی ہے۔منی لانڈرنگ کے لئے سب سے پہلے ایک بینک اکاونٹ کی ضرورت پڑتی ہے، جس کے لئے کسی ایسے غیر متعلقہ شخص کے شناختی کارڈ پر اکاونٹ کھولا جاتا ہے، جس کی تنخواہ 20 سے 30 ہزار کے درمیان ہو۔متعلقہ بینک کے عملے کے ساتھ مل کر کسی بھی شخص کے شناختی پر جعلی اکاونٹ کھولا جاتا ہے۔ اکاونٹ کھولنے کے تمام معلومات بھی غلط درج کی جاتی ہیں تاکہ اکاونٹ ہولڈر تک کسی کی بھی رسائی ممکن نہ ہو سکے۔اکاونٹ کھولنے کے بعد اس کی چیک بک اور اے ٹی ایم کارڈ ان افراد کے حوالے کر دیا جاتا ہے، جن کیلئے اکاونٹ کھولا جاتا ہے۔جعلی اکاونٹ کی مدت 6 سے 8 ماہ تک رکھی جاتی ہے اور اس عرصے کے دوران اس اکاونٹ میں اربوں، کروڑوں روپے کی ٹرانسکشنز کی جاتی ہیں۔متعلقہ بینک کا عملہ بھی چیک پر موجود دستخط کی تصدیق کے بغیر چیکوں کے ذریعے ٹرانزیکشنز کرتا ہے۔اربوں روپے کی رقم کی ٹرانزیکشن کے دوران اصل اکاونٹ ہولڈر کے بارے میں کسی سے نہیں پوچھا جاتا اور نہ ٹرانزیکشنز کو مشکوک قرار دیا جاتا ہے۔اومنی گروپ کے منی لانڈرنگ اسکینڈل میں بھی اسی طریقہ کار پر عمل کیا گیا۔جعلی اکاونٹ میں رقوم کی منتقلی اس منظم طریقے سے کی گئی کہ کئی ماہ تک کسی کو بھی ان ٹرانزیکشنز کا پتا تک نہیں چل سکا۔بینکوں کے ذریعے جعلی اکاونٹس میں اربوں روپے کی ٹرانزیکشنز میں متعلقہ بینک کے عملے کی بھی پوری معاونت حاصل ہوتی ہے۔اس کے بغیر رقم کا ہیر پھیر کرنا ممکن ہی نہیں ہوتا۔ منی لانڈرنگ کا کام اس مہارت سے کیا جاتا ہے کہ جس شخص کا شناختی کارڈ اکاونٹ کھولنے کے لیئے استعمال ہوتا ہے اسے بھی رقوم کی منتقلی کی کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔بینک کے قانون کے مطابق اگر کوئی اکاونٹ ہولڈر ایک لاکھ روپے یا زائد کا چیک بینک بھیجے تو بینک کی جانب سے فارم پر درج فون نمبر پر رابطہ کرکے اکاونٹ ہولڈرز سے تصدیق کی جاتی ہے۔منی لانڈرنگ کے لئے کھولے گئے فارمز پر فون نمبرز بھی ان لوگوں کے ڈالے گئے جو یہ اکاونٹ آپریٹ کر رہے تھے لیکن بینک کے عملے کی جانب سے ان نمبرز پر بھی کال نہیں گئی۔جعلی اکاونٹس سے رقوم بیرون ملک بھی بھیجی گئیں، اومنی گروپ کے لئے کھولے گئے مبینہ جعلی اکاونٹس 6 سے 8 ماہ بعد بند کر دئیے جاتے تھے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -