پی اینڈ جی کی خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے ورکشاپ

پی اینڈ جی کی خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے ورکشاپ

  

کراچی (پ ر) پراکٹر اینڈ گیمبل (P&G) نے حال ہی میں پاکستان کے کاروباری اداروں کو فروغ دینے اورپاکستان میں خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے کمپنی کے عزم کے تحت ایک دوروزہ تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا ،جس میں خواتین کے ملکیتی مختلف کاروباری اداروں نے شرکت کی، ان میں ٹرانسپورٹیشن، ایو نٹ منیجمنٹ، فریٹ، کارپوریٹ گفٹس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور فیسیلیٹی منیجمنٹ جیسے ادارے شامل تھے۔مذکورہ ورکشاپ میں پی اینڈ جی کی قیادت کی طرف سے کی جانے والی پریزنٹیشنز شامل تھیں جن میں، ہیومن ریسورس، کسٹمر انڈر اسٹینڈنگ، برانڈ بلڈنگ،فنانس اور ٹیکس کے ساتھ ساتھ قانونی اور خریداری کے بارے میں بہترین طریقوں کی اہمیت کو فروغ دینے اور اشتراک کرنے پر زور دیا۔ گوگل اور فیس بک کے ایکسٹرنل اسپیکرز سمیت ڈیجیٹل ماہرین نے کاروباری اداروں کو فائدہ اٹھانے کے لئے دستیاب سوشل پلیٹ فارمزاور ٹولز کے بارے میں آگاہ کیا کہ ان ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی شمولیت کے بزنس پر انتہائی مثبت اثرات ہو سکتے ہیں جن سے کاروبار کو وسیع کرنے کے لئے کام لیا جاسکتا ہے۔ورکشاپ کلیدی نوٹ کے خطابات کے بعد سوالات و جوابات کی نشست کے ساتھ اختتام پذیر ہوا،جس میں چیف پرچیزنگ افسرپی اینڈ جی پاکستان اسٹیورٹ ایٹکنسن اوروائس پریزیڈنٹ پی اینڈ جی پاکستان ، سمیع احمدسمیت پرچیزنگ ڈائرکٹر پی اینڈ جی جنوبی ایشیا، افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ،محترمہ جوئیل زیلیوکس اور کیپیٹل ایسوسی ایٹ ڈائرکٹر پی اینڈ جی مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ، خلیل بینچکرون شامل تھے۔صنفی مساوات کی حوصلہ افزائی اورسپلائر کے تنوع لنکس کو براہِ راست سب کے لئے ایک بہتر دنیا کی تعمیر کے لئے فرو غ دیا گیا۔ ایک ایسی دنیا جو صنفی تعصب سے آزاد ہو، اور دنیا میں خواتین اور حضرات کی نہ صرف یہ کہ برابر کی نمائندگی ہو بلکہ ان کی آواز بھی برابر کی بنیاد پر سنی جائے۔ عالمی سطح پر، پی اینڈ جی اپنے سپلائر ترقیاتی پروگرام کو فروغ دینے اور دنیا بھر میں اپنے کاروبار میں خواتین کے ملکیتی کاروبار کو اپنی سپلائی چین سے پورا کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔پاکستان میں، پی اینڈ جی فعال طور پر صنفی تعصب کو حل کرنے کے لئے کام کر رہی ہے، لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینے اور مختلف کارپوریٹ اور برانڈ پروگراموں کے خواتین کی اقتصادی طاقت کو فروغ دینا اس میں شامل ہے۔ گزشتہ چند سالوں کی رپورٹ کے مطابق اقتصادی ترقی کے باوجود، عالمی اقتصادی فورم کے صنفی خلا کی رپورٹ میں پاکستان کو ( 144 ممالک میں سے) 143 واں نمبر دیا گیا ہے۔ مزدور قوت میں خواتین کا تناسب صرف 24 فیصد ہے اور شہری علاقوں میں یہ صرف 12 فیصد ہے۔ اس کے علاوہ، دنیا میں خواتین کی کاروباری اداروں کی شرح میں سب سے کم شرح ہے، صرف 1فیصد خواتین کے کاروباری ادارے ہیں، جب کہ مقابلتاً مردوں کے 21 فیصدہیں۔قابل اقتصادی معاشی مواقع تک رسائی اور علم کی کمی ایسے دو اہم عوامل ہیں جنہوں نے خواتین کو کاروباری سرگرمیوں میں شامل ہونے سے روک رکھا ہے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -