طالبہ اقصی کے مقدمہ میں پولیس نے قتل کی دفعات شامل کرلیں

طالبہ اقصی کے مقدمہ میں پولیس نے قتل کی دفعات شامل کرلیں

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)اندھی گولی لگنے سے جاں بحق ہونے والی کمسن طالبہ اقصی کے مقدمہ میں پولیس نے قتل کی دفعات شامل کرلی ہیں۔ تفتیش کے لیے اسکول کے سیکیورٹی گارڈ کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ایس ایس پی بلدیہ ڈاکٹر رضوان کے مطابق اقصی کو لگنے والی گولی کہاں سے چلی اس کا تعین نہیں کیا جا سکا تاہم پوسٹ مارٹم کے دوران نعش سے ملنے والے سکے کی فارنزک رپوٹ کے بعد ہی اسلحہ کی نوعیت کا تعین ہوسکے گا۔میڈیکولیگل افسر(ایم ایل او)ایمن خورشید کے مطابق اقصی کو گولی ریڑھ کی ہڈی کے قریب لگی، جسم میں پیوست گولی کا سکہ پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔ابتدائی رپورٹ میں تفتیشی افسرسب انسپکٹر عامر نے بتایا کہ گولی 100 سے 200 گز کی دوری سے چلائی گئی تھی۔اقصی کے والد نے ملزم کی گرفتاری اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔واضح رہے کہ دو روز تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد جاں بحق ہونے والی اقصی کی نماز جنازہ ادا کردی گئی ہے جس میں اہل علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ورثا نے لاش چوک پر رکھ کر احتجاج کرتے ہوئے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ جس کے بعد ننھی پری کو بلدیہ ٹاؤن کے قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا۔پہلی جماعت کی طالبہ اقصی جمعہ کے روز اسکول میں اسمبلی کے دوران نامعلوم سمت سے آنے والی گولی لگنے سے زخمی ہو گئی تھی۔ کمسن طالبہ کو نیشنل انسٹیٹو ٹ آف چائلڈ ہیلتھ میں داخل کیا گیا تھا لیکن وہ جاں بر نہ ہوسکی۔اقصی کے انتقال کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے ننھی پری کے والد نے کہاکہ این آئی سی ایچ کے معالجین نے بھرپور کوشش کی لیکن بچی کے جسم سے خون کا بہاؤ نہیں رک رہا تھا۔ والد نے مطالبہ کیاکہ فائرنگ کرنے والے ملزم کو گرفت میں لایا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کا تدارک ہو سکے۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -