وہ پاکستانی جس سے افغان حکومت نے طالبان سے مذاکرات میں مدد مانگ لی لیکن پھر جواب کیا ملا؟ ہرکوئی دنگ رہ گیا

وہ پاکستانی جس سے افغان حکومت نے طالبان سے مذاکرات میں مدد مانگ لی لیکن پھر ...
وہ پاکستانی جس سے افغان حکومت نے طالبان سے مذاکرات میں مدد مانگ لی لیکن پھر جواب کیا ملا؟ ہرکوئی دنگ رہ گیا

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک)افغان حکومت نے طالبان سے مذاکرات کیلئے مولانا سمیع الحق سے مدد مانگ لی۔ افغان حکومت کا اعلیٰ سطح وفد مولانا سمیع الحق سے ملنے اکوڑہ خٹک پہنچ گیا جبکہ مولانا سمیع الحق نے افغان حکومت ا ور افغان طالبان میں ثالث بننے سے معذرت کر لی۔

روزنامہ دنیا کے مطابق افغا ن وفد کا کہنا تھا آپ کو رہبر تسلیم کرتے ہیں، آپ کا ہر فیصلہ تسلیم کرینگے ، افغانستان میں قیام امن کیلئے آپ ہماری رہنمائی کریں جس پر مولانا سمیع الحق نے معذرت کرتے ہوئے کہا یہ ایک عالمی مسئلہ ہے اور عالمی طاقتیں اسے حل کرنے نہیں دیتیں، کمزور کندھوں پر اتنی بڑی ذمہ داری کا بوجھ نہیں ڈال سکتا، افغانستان کی آزادی اور اسلام کی حکمرانی کیلئے دعا گو ہوں۔

افغان وفد اور سمیع الحق کے درمیان ملاقات ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی ،وفد میں افغانستان میں مختلف جماعتوں کے سرکردہ حکومتی افراد اور اہم علما شامل تھے ، سمیع الحق نے کہا کہ مسئلہ کے حل کیلئے چند مخلص علما اور افغان حکمران ،پاکستان او رامریکہ کی مداخلت سے ہٹ کر خاموشی سے کسی خفیہ مقام پر مل بیٹھیں اور متحارب گروہ ایک دوسرے کا نقطہ نظر سمجھیں۔

علاوہ ازیں افغان امن کونسل کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہاکہ ہم افغانستان مسئلہ پر بین الاقوامی امن مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں۔ ہماری حمایت کسی گروہ کے ساتھ نہیں بلکہ افغان قوم کے ساتھ ہے۔ تمام افغان گروہوں کو امن کی خاطر مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے۔افغان قوم متحد ہو کر بیرونی قابضین کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر سکتی ہے۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -