تحریک انصاف،معجزوں کی توقع نہیں

تحریک انصاف،معجزوں کی توقع نہیں
تحریک انصاف،معجزوں کی توقع نہیں

  

اپوزیشن کو ابھی تک عمران خان کا وزیر اعظم بننا ہی ہضم نہیں ہو رہا مگر تحریک انصاف کا معدہ بھی حکمرانی کے ذائقے قبول نہیں کر پا رہا۔ان حالات میں معاملات 80ء اور90ء کی دہائی کی سیاست کی طرف تیزی سے پھسلتے جا رہے ہیں،اپوزیشن کے ساتھ اس موقع پر حکمران جماعت کو سنجیدگی، برد باری اور متانت کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انتخابی نتائج آنے سے پہلے ہی اپوزیشن نے عوام کا موڈ دیکھ کر قبل از انتخاب دھاندلی کا شور برپا کر دیا تھا، انتخابی نتائج آنے کے بعد اس شور و غوغا میں بتدریج اضافہ ہوتا گیااور حکومت بننے سے پہلے ہی اپوزیشن اتحاد وجود میں آگیا۔اگر چہ اس اتحاد میں شامل جماعتوں کی اپنی اپنی ڈفلی اور اپنا اپنا راگ ہے،محض عمران خان دشمنی میں یہ لوگ ایک پلیٹ فارم پر خود کو متحد ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔سب اپنے اپنے مفادات کے تحت اپوزیشن کر رہے ہیں، ان کے پاس کوئی قومی ایجنڈا نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن عوامی ہمدردیاں حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائی۔

اپوزیشن میں اگر جان ہوتی تو نواز شریف کی گرفتاری کے وقت کوئی بڑا پاور شو کر لیتی مگر نواز شریف کی جارحانہ اور شہباز شریف کی مصالحانہ پالیسی نے خود ن لیگ کو ہی تقسیم کر ڈالا۔شہباز شریف اب بھی درمیا نی راہ کی تلاش میں ہیں،اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کو وہ اندرون خانہ اسی مقصد کیلئے استعمال کرنا چاہتے ہیں مگرنواز شریف اب بھی جارحانہ موڈ میں ہیں اور اپنی اہلیہ کے چالیسویں کے بعد موچی دروازہ گراؤنڈ میں بڑا سیاسی پاور شو کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے پارٹی میں اپنے قریبی رہنماؤں کو تیاری کی ہدائت بھی جاری کر دی ہے۔شہباز شریف یہ تو نہیں چاہتے کہ بڑے بھائی کو سزا ہو مگر ان کی خواہش ہے نواز شریف سیاسی میدان اب ان کیلئے خالی چھوڑ کے ہمیشہ کیلئے لندن سدھار جائیں۔اپنے اس مقصد کیلئے وہ اسٹیبلشمنٹ کے پرانے دوستوں کو استعمال میں لانے کی بھر پور کوشش کر رہے ہیں،شہباز شریف کو یہ بھی خبر ہے کہ پیپلز پارٹی ان کے سیاسی غلبہ کیلئے کبھی کسی بڑی احتجاجی تحریک میں ان کا ساتھ نہیں دے گی،دوسری پارٹیوں میں اتنی سکت نہیں ہے،صرف فضل الرحمٰن کی جے یو آئی مدارس کے طلبہ کو سڑکوں پر لا سکتی ہے، مگرجے یو آئی کی مرکزی قیادت کو لیگی قیادت پر اعتمادنہیں ہے۔ خود مسلم لیگ ن بھی نواز اور شہباز دھڑوں میں تقسیم ہے،ایسے میں کوئی بڑا احتجاجی شو کرنا ممکن نہیں، مگر نواز شریف آج بھی خوابوں کی دنیا کے مکین ہیں۔

شہباز شریف نے اسٹیبلشمنٹ کے پرانے دوستوں سے کہا ہے کہ ان کو ایک موقع اور دلایا جائے،سب کا جواب یہی تھا کہ آپ نے ہر دور میں وعدہ خلافی کی،محاذ آرائی کی سیاست کی، اداروں کیساتھ ٹکراؤ کی صورتحال پیدا کی۔ صاف انکار کے بعد نواز شریف کا خیال تھا کہ چھوٹے بھائی کو عقل آجائیگی مگر ان کی امید پوری نہ ہوئی اور شہباز شریف اب بھی مائنس نواز شریف فارمولا پر عمل پیرا ہیں،اور کسی بھی طرح اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھنے کے خواہش مند ہیں،مگر پارٹی میں سینئر قیادت کی بڑی تعداد شہباز شریف کے درشت رویہ کی بناء پر ان کو پسند نہیں کرتی اور ان کی خواہش ہے کہ اگر ن لیگ کو پھر سے موقع ملے تو قیادت و سیادت نواز شریف کے حصے میں ہی آئے۔ن لیگی حلقوں میں بڑے وثوق سے یہ بات کہی جا رہی ہے کہ نیب کی تفتیش بہت کمزور ہے جس کی وجہ سے اعلیٰ عدلیہ سے ان کو انصاف ملے گا اور نواز شریف جلد بری ہو جائیں گے نا اہلی بھی ختم ہو نیکی توقع کا اظہار پورے یقین سے کیا جا رہا ہے،یہ صورتحال شہباز شریف کی پریشانیوں میں اضافہ کا سبب بن رہی ہے،اور وہ بڑی بیتابی سے ڈیل کیلئے کوششوں میں مصروف ہو گئے ہیں۔

اپوزیشن کی اس کمزوری کے باوجود تحریک انصاف اب تک کوئی بڑا فیصلہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی بلکہ صبح کئے گئے فیصلوں کو رات کو بدلنے سے تحریک انصاف کی قیادت اور کارکنوں کو سبکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،اگر چہ اتنے مختصر وقت میں حکومت سازی بھی نہیں کی جا سکتی،لیکن محسوس ہوتا ہے تحریک انصاف کی قیادت نے الیکشن سے قبل اس حوالے سے کوئی ہوم ورک ہی نہیں کیا تھا، یہی وجہ ہے کہ آج تک بیورو کریسی میں سے قابل اعتماد،باصلاحیت،دیانتدار افسروں کا بھی انتخاب نہیں کیا جا سکا،جبکہ کسی بھی حکومت کی کامیابی میں بیوروکریسی کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے،اس حوالے سے تحریک انصاف کے ہمدرد بار بار تنبیہ کر چکے ہیں کہ ن لیگ جس کا بیوروکریسی میں اب بھی اثرو رسوخ ہے ، کوئی سازش رچا سکتی ہے مگرتحریک انصاف کی قیادت جانے کس معجزے کی منتظر ہے کہ سب کچھ از خود ٹھیک ہو جائے اور وہ اپنی حکومتی مدت پوری کرتے ہوئے اپنے منشور پر عمل درآمد کرے،مگر ایسا ممکن ہوتا نظر نہیں آتا کہ معجزوں کی توقع نہیں اور تحریک انصاف دوسروں کے تجربا ت سے سیکھنے کو آمادہ نہیں۔ جو دوسروں کے تجربات سے سبق حاصل کرے وہی کامیاب اور عقلمند کہلاتا ہے اور جو اپنے ناکام تجربے جاری رکھے ،وہ جگ ہنسائی کا موجب بن جاتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں دونوں کام زور و شور سے ہو رہے ہیں۔ اپوزیشن اپنے ہی تجربات سے سبق حاصل کرنے کو تیار نہیں اور حکومتی عہدیدار بھی خود کو تماشا بنانے میں کسی بخیلی کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔حماقتوں کی ریس لگی ہے،ہر ایک دوسرے پر احمقانہ اقدامات میں بازی لے جانے کو تلا بیٹھا ہے۔

 نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -