رحیم یارخان کی یونیورسٹیوں میں بھاری فیسوں کا مسئلہ

رحیم یارخان کی یونیورسٹیوں میں بھاری فیسوں کا مسئلہ
رحیم یارخان کی یونیورسٹیوں میں بھاری فیسوں کا مسئلہ

  

جنوبی پنجاب کے اہم ترین اور ترقی یافتہ شمار ہونے والے اضلاع میں سے رحیم یارخان بھی ایک ہے جو اپنے بین الاقوامی ائیرپورٹ ،سندھ اور بلوچستان کے مریضوں کا بڑا حصہ سنبھالنے والے بڑے ہسپتال ، میڈیکل کالج ، کیڈٹ کالج ، انڈسٹریل سٹیٹ ، جنوبی پنجاب کے سب سے بڑے کالج خواجہ فرید گوورنمٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج ، اسلامیہ یونیورسٹی سب کیمپس سمیت متعدد اہم منصوبوں کی وجہ سے مشہور ہے ۔یہیں پر خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئر نگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی رحیم یار خان بھی 2014 ء میں قائم کی گئی تھی ، اس کے قیام میں سابق وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے بھی خصوصی دلچسپی لی ، پاکستان اینجینئرنگ کونسل ، ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے ملحق اس یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب ہیں۔ اپنے قیام کیساتھ ہی اس یونیورسٹی کی شہرت ہر طرف پھیل گئی تھی ۔

رحیم یارخان جیسے دور دراز اور غریب علاقے میں جب گزشتہ دور حکومت میں یہ یونیورسٹی قائم ہوئی تو اہل علاقہ کی خوشی دیدنی تھی۔ یہ یونیورسٹی اہل علاقہ کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا تھی۔ شہری خوش تھے کہ اب ان کے بچوں کو بھی جدید تعلیم حاصل کر سکیں گے اور غریب لوگ جو دوسرے شہروں میں رہائش کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے وہ بھی اپنے بچوں کو باآسانی پڑھا لیں گے لیکن صرف 4 سالوں میں ہی اس کی فیسوں میں اس قدر اضافہ کر دیا گیا ہے کہ ضلع کے باسیوں کے لیے اس میں داخلہ لینا ناممکن ہوتا جا رہا ہے ۔اس وقت بھی یہ یونیورسٹی اپنی دیگر ہمسائیہ یونیورسٹیز سے 3گنا سے بھی زیادہ فیس وصول کر رہی ہے۔ جس بی ایس پروگرام کی ہمسائیہ ضلع میں واقع اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور فی سمسٹر 17800 روپے فیس وصول کر رہی ہے وہی بی ایس پروگرام خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئر نگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی رحیم یار خان 55000 روپے فی سمسٹر میں کروا رہی ہے ۔اسی طرح اسلامیہ یونیورسٹی ایم فل پروگرام کی فیس 28000روپے فی سمسٹر لیتی ہے اور خواجہ فرید یونیورسٹی ایم فل کی فی سمسٹر 97000 روپے فیس وصول کر رہی ہے۔

فیسوں میں اس قدر فرق جہاں شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث ہے وہیں حیران کن بھی ہے کہ جنوبی پنجاب کا وہ خطہ جو پنجاب کے باقی علاقوں کی نسبت غریب بھی شمار ہوتا ہے اور پسماندہ بھی اس کے ساتھ بجائے ہمدردی کے الٹا زیادتی کی جارہی ہے کیونکہ غربت اور پسماندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس یونیورسٹی کی فیس تو بالکل معمولی سی اور دیگر یونیورسٹیوں سے نصف کر دینی چاہیئے تھی ،الٹا اس کی فیس کئی گنا بڑھادی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ضلع کی حیران کن ترقی ابوظہبی کے حکمرانوں کی ذاتی دلچسپی اور متحدہ عرب امارات کے اعزازی سفیر چوہدری محمد منیر کی کوشش سے ممکن ہوئی ہے۔ یہاں ہونے والے ترقیاتی کاموں نے حکومت کو کچھ زیادہ ہی غلط فہمی میں مبتلا کر دیا ہے اور وہ یہ سمجھ بیٹھی ہے کہ یہاں کے عوام بہت امیر ہیں اس لیے ان سے پرائیویٹ یونیورسٹیز کے مساوی فیس وصول کر بھی لی جائے تو انہیں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی ۔

پنجاب حکومت کو یہاں کی ترقی کے ساتھ ساتھ یہاں کے لوگوں کی غربت کا بھی احساس ہونا چاہیئے ۔اگرچہ یہ بات بھی درست ہے کہ جنوبی پنجاب بالخصوص رحیم یارخان دیگر تینوں صوبوں سے انفراسٹرکچر ، ترقی اور روزگار کے مواقع کے معاملات میں بہت آگے ہے لیکن یہ وسطی پنجاب سے پیچھے بھی ہے ۔اس لیے اس کی علاقے میں بنائی جانے والی یونیورسٹی کی فیس وسطی پنجاب کی یونیورسٹیوں سے کم رکھنے کے بجائے اس کے ہمسائیہ ضلع میں واقع یونیورسٹی سے بھی کئی گنا بڑھا دینا ضلع کی عوام کے ساتھ زیادتی ہے ۔حکومت فوری طور پر اس زٰیادتی کا نوٹس لے اور یہ سلسلہ بند کروا کر یونیورسٹی انتظامیہ کو پابند کرے کہ وہ دیگر یونیورسٹیز کے مساوی فیس وصول کرے اور رواں سال طلباء سے جو زائد فیس لی جا چکی ہے وہ واپس کی جائیں۔ ساتھ ہی ساتھ یونورسٹی کے جو شعبہ جات ابھی تک مکمل نہیں ہو سکے ان کے لیے خطیر رقم بھی مختص کی جائے تاکہ یونیورسٹی انتظامیہ کا یہ بہانہ بھی دور ہو سکے کہ یونیورسٹی کی تعمیرو ترقی اور اس کا انتظام چلانے کے لیے وہ زائد فیس لینے پر مجبور ہے، تاکہ یہ منصوبہ رحیم یارخان کے لیے بالخصوص اور اس خطے کے لیے بالعموم اپنے تمام تر فوائد کے ساتھ بروئے کار آ سکے اور غریبوں کے بچے بھی جدید تعلیم حاصل کرسکیں ۔

ویسے اگراربوں روپے کی لاگت سے جدید ترین یونیورسٹی کا یہ منصوبہ لاہور کا شہباز شریف رحیم یارخان میں لا سکتا ہے تو اس کی ترقی کے لیے کچھ رقم عثمان بزدار کو مختص کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہونا چاہیئے آخرہمسائیہ ضلع کا باسی ہونے کے ناطے رحیم یارخانیوں کا ان پرکچھ حق بھی تو بنتا ہے۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -